1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. شیشے کے محل اور بارود کا محلہ

شیشے کے محل اور بارود کا محلہ

ہنس رہے ہیں آج جو شیشے کے محلوں میں مقیم

کل انہیں پتھر کی بستی میں گزارا دیکھنا

سرمایہ داری کے زرق برق جھولوں میں جھولتے یہ فلک بوس ایوان اور ان کے اندر مقیم جبر و استبداد کے بت، جنہیں دنیا "شیشے کے محل" کہتی ہے، دراصل انسانیت کے قتل عام پر تعمیر کیے گئے وہ عارضی قید خانے ہیں جن کی بنیادیں مظلوموں کے خونِ ناحق پر استوار ہیں۔ ان شیشے کے محلوں میں بسنے والے امیر اور ان کے تنخواہ دار محافظ یہ بھول چکے ہیں کہ ان کی عیاشیوں، ان کی شب بیداریوں اور ان کے اقتدار کی چمک دمک کے بالکل برعکس، ان کی فصیلوں کے سائے تلے "بارود کے محلے" آباد ہو چکے ہیں۔

یہ بارود کوئی روایتی گندھک یا نائٹروجن نہیں، بلکہ یہ غریبوں کی بھوک، ماؤں کا خوف، نوجوانوں کی بے روزگاری اور یتیموں کے ماتھے پر جمی افلاس کی وہ گرد ہے جو کسی بھی وقت ایک ہولناک دھماکے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب کوئی حاکم یا سرمایہ دار اپنی عافیت گاہ میں بیٹھ کر غریب کی تھالی سے آخری نوالہ بھی چھین لیتا ہے، تو وہ دراصل اپنے ہی محل کے اردگرد بارود کی ایک نئی بوری کا اضافہ کر رہا ہوتا ہے۔

آج کے نام نہاد محافظ، جو بلٹ پروف گاڑیوں اور فولادی حصاروں میں خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں، اس سچائی سے بالکل اندھے ہو چکے ہیں کہ بارود کے ان محلوں میں جب بمباری ہوتی ہے، جب کسی غریب کا گھر بار ویران ہوتا ہے اور جب ملبے تلے دبی خون سے لت پت معصوم بچے بچیوں کی لاشیں چیختی ہیں، تو ان چیخوں کی گونج شیشے کی ان نازک دیواروں کو پگھلانے کی بھرپور طاقت رکھتی ہے۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا تضاد ہے کہ ایک طرف فرعونیت کے پہرے دار ہیں اور دوسری طرف مظلومیت کے نوحہ گر، لیکن انجامِ کار ہمیشہ خاک اور راکھ کی صورت میں یکساں ہوتا ہے۔

تاریخ کے صفحات کو پلٹ کر دیکھیں تو سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے ایام میں جب استنبول کے امیر اور محافظ اپنے شیشے کے محلات میں عیش و عشرت کی انتہا پر تھے، تو گلیوں میں بھوک اور افلاس کا بارود پک رہا تھا، جس کا انجام یہ ہوا کہ محل کے پائیدان تک خون سے دھل گئے۔ اس سے بھی عبرت ناک اور سچا تاریخی واقعہ فرانسیسی انقلاب کا ہے، جب ملکہ میری انتونیت نے اپنے عالی شان محل کی کھڑکی سے باہر بھوکے اور بلکتے ہوئے عوام کا ہجوم دیکھا جو روٹی کے لیے پکار رہے تھے، تو اس مغرور حاکم نے انتہائی ستم ظریفی اور حماقت سے کہا تھا کہ "اگر ان کے پاس روٹی نہیں ہے تو یہ کیک کیوں نہیں کھاتے؟"

ملکہ کا یہ جملہ اس کے شیشے کے محل کی اندھی سوچ کا عکاس تھا جو غریب کے بارود کے محلے کی تپش سے بالکل بے خبر تھی۔ اس سنگدلانہ رویے کے بعد عوام کے غیظ و غضب کا وہ تاریخی دھماکہ ہوا کہ پیرس کی سڑکیں خون سے لال ہوگئیں اور پھر اسی عوام نے ملکہ اور اس کے محافظوں کو اسی محل کے سامنے گلوٹین پر چڑھا کر ان کے سر قلم کر دیے۔ وہ شیشے کے محل جو طاقت کی علامت تھے، چند ہی گھنٹوں میں عبرت کا نشان بن گئے کیونکہ انہوں نے بھوک کی چنگاری کو معمولی سمجھا تھا۔

آج کے دور کے امیروں، جابروں اور ان کے ضمیر فروش محافظوں کے لیے یہ تاریخ ایک کھلا اور تلخ چیلنج ہے۔ تم جن معصوم بچے بچیوں کو خون میں لت پت دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہو، جن کے گھروں کو بارود سے ویران کرکے تم اپنے محلات سجاتے ہو، یاد رکھو کہ قدرت کا ترازو کبھی ناانصافی نہیں کرتا۔ بھوک جب حد سے بڑھتی ہے تو وہ قانون کی زنجیریں توڑ دیتی ہے اور افلاس جب غصے میں بدلتا ہے تو وہ دنیا کے بڑے سے بڑے اسلش خانے کو خاکستر کر دیتا ہے۔ یہ شیشے کے محل صرف ایک وہم ہیں، ایک ایسی عارضی پناہ گاہ جو کسی بھی دن تمہاری سنگدلی کے جواب میں گرنے والی ہے، کیونکہ بارود کے ان غریب محلوں سے اٹھنے والا دھواں سب سے پہلے تمہارے ان ایوانوں کا گلا گھونٹے گا۔