فسوں گر کا جادو اثر کر گیا
وہ تکنا مرے دل میں گھر کر گیا
نہ جانے اسے بھا گئی کیا ادا
جو جاتے ہوئے دل میں در کر گیا
ہوئی مستیِ عشق میں سجدہ ریز
جبیں کا یہ سجدہ اثر کر گیا
مجھے اپنے غم کا پتہ تک نہ تھا
زمانے کو آنسو خبر کر گیا
بھرم ہمسفر کا کھلا مجھ پہ یوں
الگ جب سفر میں ڈگر کر گیا
جو لکھا تری شان میں ایک شعر
سخن کو مرے وہ امر کر گیا
ترے ہاتھ جب چاند نے بیت لی
حسن یوں ہر طرف مشتہر کر گیا
وہ امید کا اک ستارہ ہی تھا
شبِ غم کو جو اک سحر کر گیا
سہیل آگہی کو بصیرت ملی
جو انجان دل میں ہی گھر کر گیا