1. ہوم
  2. غزل
  3. خرم سہیل
  4. فسوں گر کا جادو اثر کر گیا
Khurram Sohail

فسوں گر کا جادو اثر کر گیا

فسوں گر کا جادو اثر کر گیا
وہ تکنا مرے دل میں گھر کر گیا

نہ جانے اسے بھا گئی کیا ادا
جو جاتے ہوئے دل میں در کر گیا

ہوئی مستیِ عشق میں سجدہ ریز
جبیں کا یہ سجدہ اثر کر گیا

مجھے اپنے غم کا پتہ تک نہ تھا
زمانے کو آنسو خبر کر گیا

بھرم ہمسفر کا کھلا مجھ پہ یوں
الگ جب سفر میں ڈگر کر گیا

جو لکھا تری شان میں ایک شعر
سخن کو مرے وہ امر کر گیا

ترے ہاتھ جب چاند نے بیت لی
حسن یوں ہر طرف مشتہر کر گیا

وہ امید کا اک ستارہ ہی تھا
شبِ غم کو جو اک سحر کر گیا

سہیل آگہی کو بصیرت ملی
جو انجان دل میں ہی گھر کر گیا