/ غزل / فاخرہ بتول / لوگوں سے کچھ بھید چُھپانے پڑتے ہیں

لوگوں سے کچھ بھید چُھپانے پڑتے ہیں

لوگوں سے کچھ بھید چُھپانے پڑتے ہیں

درد کے کس کس دیس ٹھکانے پڑتے ہیں

 

سوئے رہنے میں بھی حکمت ھے پیارے !

جاگو تو پھر خواب سُلانے پڑتے ہیں

 

البم کھول کے دیکھا تو احساس ہوا

کیسے کیسے لوگ بھُلانے پڑتے ہیں

 

دو اک دن کی بات جو ہوتی،مل جاتے

ھم دونوں کے بیچ زمانے پڑتے ہیں

 

اِس میں بھی نُقصان کا اندیشہ ھے جناب!

عشق میں بھی آداب سکھانے پڑتے ہیں

 

بعد میں موسم کر ڈالے پامال مگر

آنکھوں میں کچھ خواب اُگانے پڑتے ہیں

 

عشق کی منزل پر فائز مجنوں ہی سہی

رستے میں کچھ لوگ سیانے پڑتے ہیں

 

کون بھلا تیشہ لےکر یوں گھر سے چلے؟

راہِ وفا میں ہوش گنوانے پڑتے ہیں

 

شیشے کا پندار بچانا ھے جو بتول!

مٹی کے آثار مٹانے پڑتے ہیں

فاخرہ بتول

فاخرہ بتول نقوی ایک بہترین شاعرہ ہیں جن کا زمانہ معترف ہے۔ فاخرہ بتول نے مجازی اور مذہبی شاعری میں اپنا خصوصی مقام حاصل کیا ہے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ فاخرہ بتول کی 18 کتب زیور اشاعت سے آراستہ ہو چکی ہیں جو انکی انتھک محنت اور شاعری سے عشق کو واضح کرتا ہے۔ فاخرہ بتول کو شاعری اور ادب میں بہترین کارکردگی پر 6 انٹرنیشنل ایوارڈز مل چکے ہیں۔