/ غزل / فاخرہ بتول / درد کا کاروبار، توبہ ھے

درد کا کاروبار، توبہ ھے

درد کا کاروبار، توبہ ھے

عشق سر پر سوار توبہ ھے

 

رات آنکھوں میں کٹ گئ ساری

آپ کا انتظار، توبہ ھے

 

تمکو ڈر ھے تمھیں بُھلا ہی نہ دیں

اے مرے غمگسار، توبہ ھے

 

عقل سے کام کیوں نہیں لیتے؟

پیار اور بار بار، توبہ ھے

 

صرف اتنا کہا، چلے جاو 

اے کفایت شعار توبہ ھے

 

بے رُخی کا گلہ نہیں اچھا

جان تم پر نثار، توبہ ھے

 

وہ جو اپنا ھے وہ پرایا بھی؟

عشق کا کاروبار توبہ ھے

 

آنکھ میں خواب جھلملانے لگے

نیند کا یہ خمار توبہ ھے

 

ہر کہانی اسی پہ لکھی ھے

دل کا یہ ریگ زار، توبہ ھے

 

اللہ اللہ بتول دل کی لگی

دل لگی کا غبار، توبہ ھے

فاخرہ بتول

فاخرہ بتول نقوی ایک بہترین شاعرہ ہیں جن کا زمانہ معترف ہے۔ فاخرہ بتول نے مجازی اور مذہبی شاعری میں اپنا خصوصی مقام حاصل کیا ہے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ فاخرہ بتول کی 18 کتب زیور اشاعت سے آراستہ ہو چکی ہیں جو انکی انتھک محنت اور شاعری سے عشق کو واضح کرتا ہے۔ فاخرہ بتول کو شاعری اور ادب میں بہترین کارکردگی پر 6 انٹرنیشنل ایوارڈز مل چکے ہیں۔