Sunday, 15 September 2019
/ غزل / فاخرہ بتول / اب کے پھولوں نے کڑی خود کو سزا دی ہوگی

اب کے پھولوں نے کڑی خود کو سزا دی ہوگی

اب کے پھولوں نے کڑی خود کو سزا دی ہوگی
راہ گلشن کی خزاؤں کو دکھا دی ہو گی

جب وہ آیا تو کوئی در، کوئی کھڑکی نہ کُھلی
اس نے آنے میں بہت دیر لگا دی ہو گی

جا! تری پلکوں پہ برسات کا موسم ٹھہرے
بادلوں نے مری آنکھوں کو دعا دی ہو گی

رات جو چاند کو چُپکے سے بتائی میں نے
بات وہ سب کو ہوائوں نے بتا دی ہو گی

رنگ جو آنکھوں میں جھلکا ہے، اسی کا ہو گا
گلِ لالہ نے جگر کو جو قبا دی ہو گی

دوش اپنا بھی ہے کچھ بات بگڑ جانے میں
اور لوگوں نے بھی کچھ اِس کو ہوا دی ہو گی

شوخ انداز، چل مست صبا کو دے کر
ہم نے کلیوں کو سمٹنے کی ادا دی ہو گی

وہ بتول آئے گا ملنے کو، ملی جب سے خبر
کہکشاں زخموں کی رستے میں سجا دی ہو گی

فاخرہ بتول

فاخرہ بتول نقوی ایک بہترین شاعرہ ہیں جن کا زمانہ معترف ہے۔ فاخرہ بتول نے مجازی اور مذہبی شاعری میں اپنا خصوصی مقام حاصل کیا ہے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ فاخرہ بتول کی 18 کتب زیور اشاعت سے آراستہ ہو چکی ہیں جو انکی انتھک محنت اور شاعری سے عشق کو واضح کرتا ہے۔ فاخرہ بتول کو شاعری اور ادب میں بہترین کارکردگی پر 6 انٹرنیشنل ایوارڈز مل چکے ہیں۔