Tuesday, 12 November 2019
/ غزل / فاخرہ بتول / پھول، خوشبو، بہار کچھ بھی نہیں

پھول، خوشبو، بہار کچھ بھی نہیں

پھول، خوشبو، بہار کچھ بھی نہیں 

وہ نہیں تو دیار کچھ بھی نہیں 

 

کون کس پر یقین کیسے کرے؟

چاہتوں کا معیار کچھ بھی نہیں

 

باخدا کچھ نہیں وفا کا صلہ

دل کا یہ کاروبار کچھ بھی نہیں 

 

کچھ نہیں ھے یہ درد کا سودا

عشق اور انتظار کچھ بھی نہیں 

 

اب کہیں جا کے یہ سمجھ آیا 

دوستی، اعتبار کچھ بھی نہیں 

 

یہ محبت بھی کیا مصیبت ھے ؟

اس میں کہتے ہیں ہار کچھ بھی نہیں 

 

جب کوئی ساتھ ہی نہیں ھے بتول

منزلیں، رہگزار کچھ بھی نہیں 

فاخرہ بتول

فاخرہ بتول نقوی ایک بہترین شاعرہ ہیں جن کا زمانہ معترف ہے۔ فاخرہ بتول نے مجازی اور مذہبی شاعری میں اپنا خصوصی مقام حاصل کیا ہے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ فاخرہ بتول کی 18 کتب زیور اشاعت سے آراستہ ہو چکی ہیں جو انکی انتھک محنت اور شاعری سے عشق کو واضح کرتا ہے۔ فاخرہ بتول کو شاعری اور ادب میں بہترین کارکردگی پر 6 انٹرنیشنل ایوارڈز مل چکے ہیں۔