ساری حدیں ادب کی وہ جب پار کر گیاخرم سہیل19 مئی 2026غزل0105ساری حدیں ادب کی وہ جب پار کر گیا گھر کی ہر ایک بات وہ اخبار کر گیا جس کا سرے سے دوستو امکان ہی نہ تھا ایسی خبر کو زینتِ دیوار کر گیا عزت کا اپنے گرد بنایا تھمزید »
وقت کٹ ہی جاتا ہے، بے خودی کے عالم میںکرن ہاشمی14 مئی 2026غزل092وقت کٹ ہی جاتا ہے، بے خودی کے عالم میں کیا سکون پاؤ گے، اب خوشی کے عالم میں وہ جو تیرے ماتھے پر، اک شکن سی آئی ہے کتنے دل دھڑکتے ہیں، برہمی کے عالم میں ہم نے مزید »
شہرت افزائی میں اپنی سی مدد کرتے ہیںسعود عثمانی13 مئی 2026غزل0122شہرت افزائی میں اپنی سی مدد کرتے ہیں یہ جو حاسد ہیں یہ اونچا مرا قد کرتے ہیں کسی ماں باپ سے پوچھو کبھی بیٹی کا یہ دکھ دیکھنے والے جسے دیکھ کے رد کرتے ہیں بار مزید »
جو بولا پیار سے اس کو ہی اپنا مان لیاخرم سہیل12 مئی 2026غزل0108جو بولا پیار سے اس کو ہی اپنا مان لیا خسارہ کرکے حقیقت کو ہم نے جان لیا میں کیسے بچتا کہ بچنے کا راستہ ہی نہیں جو تیر حسن نظر اس نے مجھ پہ تان لیا ہر ایک بات مزید »
لبوں پر اب ہے تڑپتی ہوئی آہیں کیسیکرن ہاشمی07 مئی 2026غزل0128لبوں پر اب ہے تڑپتی ہوئی آہیں کیسی اب جو اٹھیں گی تڑپ کر وہ نگاہیں کیسی راہِ الفت میں ضرورت ہی نہیں مشعل کی خود جلاتی ہیں ہمیں تیری نگاہیں کیسی جب مقدر میں ہمزید »
عجب فراق تھا کیفیتِ وصال میں بھیسعود عثمانی06 مئی 2026غزل0152عجب فراق تھا کیفیتِ وصال میں بھی سلگ رہا تھا کوئی زخم اندمال میں بھی ابھی تو آنکھ کھلی بھی نہ تھی کہ در آئے ترے ہی خواب کے منظر ترے خیال میں بھی وہ ایک غم بڑیمزید »
دکھ نہ کر، موسمِ غم ہے یہ بدلنے والاخرم سہیل05 مئی 2026غزل095دکھ نہ کر، موسمِ غم ہے یہ بدلنے والا رات کی کوکھ سے سورج ہے نکلنے والا قحط ہے آخری دم پر یہ ہوا یوں معلوم سوکھے پیڑوں پے یہ باراں ہے برسنے والا ہو نا امیدِ بہمزید »
کس سہولت سے مری جان بدل سکتا ہےسید علی قاسم03 مئی 2026غزل0120کس سہولت سے مری جان بدل سکتا ہے آدمی عشق کے دوران بدل سکتا ہے جس بھروسے پہ تو آئی ہے محل سے باہر شاہزادی ترا دربان بدل سکتا ہے وہ جسے چاہے اسے اپنے برابر کر لمزید »
اپنے اتنے بھی برے دوستوں حالات نہیںعلی رضا احمد10 اپریل 2026غزل01163اپنے اتنے بھی برے دوستوں حالات نہیں کعبہء دل میں کوئی عُزیٰ منّات نہیں بات بن جاتی بڑی بات تھی لوگوں لیکن بات جو بن نہ سکی ہے تو کوئی بات نہیں یاں رزیلوں کی ہمزید »
سفر کے شوق میں تھا فاصلہ ہی بھول گیاعلی رضا احمد05 اپریل 2026غزل01440سفر کے شوق میں تھا فاصلہ ہی بھول گیا عجیب سحر تھا میں راستہ ہی بھول گیا میں آشنا ہی نہ تھا دشتِ جذب و مستی سے جو پائے ننگ مرا قافلہ ہی بھول گیا بنایا سجدوں سےمزید »