شائستہ مفتی11 جون 2025غزل0158
بارش تھمی تو کھل گئے اسرارِ آگہی رنگینیوں میں قید تھے افکارِ آگہی
کیا کچھ نہ ہم سے کہہ گئی صر صر کی گفتگو غنچہ کھلا تو کھل گیا گلزارِ آگہی
باطل ہوا خیال
مزید »شائستہ مفتی04 جون 2025غزل0183
مجھ کو تیری وفا اب نہیں چاہیے زخمِ دل کی دوا اب نہیں چاہیے
عمر بھر کے لیے جو ترستی رہی اس زمیں کو گھٹا اب نہیں چاہئے
مجھ کو صحرا نوردی ہی راس آئی ہے منزلوں کا
مزید »افتخار عارف29 مئی 2025غزل0201
حجابِ شب میں تب و تابِ خواب رکھتا ہے درُونِ خواب ہزار آفتاب رکھتا ہے
کبھی خزاں میں کھلاتا ہے رنگ رنگ کے پھول کبھی بہار کو بے رنگ و آب رکھتا ہے
کبھی زمین کا من
مزید »شائستہ مفتی26 اپریل 2025غزل0176
صحرا کی ریت راستہ دکھلا گئی مجھے خوشبو سا اک سراب تھا مہکا گئی مجھے
ٹھنڈی ہوا کا لمس تھا، اک یاد کی تھکن میں سو گئی تھی خواب میں چونکا گئی مجھے
پھولوں کی
مزید »شائستہ مفتی19 اپریل 2025غزل0190
ہم نے تقدیر کو پابندِ سلاسل باندھا جانے کیا سوچ کہ اس دل سے ترا دل باندھا
پھر شبِ ہجر کریں، گلیوں میں شب بھر گھومیں ایک آواز کے ہمراہ جو سائل باندھا
کیا وہ جا
مزید »کرن ہاشمی08 اپریل 2025غزل0200
بات نکلی ہے جو زباں سے اب تیر چُھوٹا ہے اک کماں سے اب
تیری نظروں میں عیب ہیں سارے کیا ہے پنہاں ترے گماں سے اب
جانے بھٹکیں گے وہ کہاں سب ہی پنچھی بچھڑے ہیں آشی
مزید »سید محمد زاہد07 اپریل 2025غزل0192
ساعت وصل میں بس، یہی نیکو کاری ہے کار محبت اور بڑھاؤ، بہت بے قراری ہے
اک لمحہ ہجر کبھی، نصیب ہی نہیں ہوا بدن سے مکالمہ میں، زندگی گذاری ہے
کمر کی یہ وادیاں، س
مزید »شائستہ مفتی11 فروری 2025غزل0259
صدائے دشت ہوں اور راستے میں کوئی نہیں تمھارے بعد مرے رابطے میں کوئی نہیں
میں پھول بن کے کھلوں اور پھر بکھر جاؤں کسی کا ہاتھ مرے حادثے میں کوئی نہیں
بہار آئے گ
مزید »شائستہ مفتی08 جنوری 2025غزل0205
اے دل ترے مہمان سے کچھ بھول ہوئی ہے اس زلف پریشان سے کچھ بھول ہوئی ہے
اک خواب کہ جچتا نہیں آنکھوں میں ہماری شاید تری مسکان سے کچھ بھول ہوئی ہے
اس سرد سے موسم
مزید »شاہد کمال04 جنوری 2025غزل0201
آج پھر رو برو کرو گے تم مجھ سے کیا گفتگو کرو گے تم
مجھ سے لوگے مرے لہو کے قصاص! پھر مجھے سرخرو کرو گے تم
زخم پر زخم کھائے جاتے ہو اور رفو پر رفو کرو گے تم
تم
مزید »