صبح خنداں سے نکل کر شبِ رقصاں میں چلوعمران کھرل22 ستمبر 2026غزل0158صبح خنداں سے نکل کر شبِ رقصاں میں چلو ساغر و بادہ بکف، محفلِ رنداں میں چلو سفرِ زیست میں ہر گام پہ یہ راز کُھلا تیشہِ علم اٹھا، عالمِ امکاں میں چلو عمر تھوڑی مزید »
عجیب شخص تھا، خود سے مکر گیا ہے وہکرن ہاشمی21 ستمبر 2026غزل0133عجیب شخص تھا، خود سے مکر گیا ہے وہ مری حیات میں کچھ یوں اتر گیا ہے وہ اب اس کی یاد بھی آئے تو وحشتیں ہوں گی کہ دل کی بزم سے کب کا گزر گیا ہے وہ میں اس کے ہجر مزید »
دل کو اپنے فَقر سے آگاہ کرعلی رضا احمد21 ستمبر 2026غزل0123دل کو اپنے فَقر سے آگاہ کر بوریے پر بیٹھ خود کو شاہ کر زندگی تیری گزر ہی جائے گی اے مسافر آہ کر یا واہ کر خاک بن مُرشد کے پاؤں کی کبھی خود کو ایسے وقفِ عِز و مزید »
اچھا ہوا میں دشتِ گُماں سے نکل گیاخرم سہیل20 ستمبر 2026غزل0142اچھا ہوا میں دشتِ گُماں سے نکل گیا تھی قیدِ تا حیات، جہاں سے نکل گیا بھایا نہ پھر کسی کو مرا بولنا وہاں دل میں دبایا سچ جو زباں سے نکل گیا دل کو کرے گا چار یقمزید »
دامنِ چاک کو سینے کا ہنر رکھتے ہیںشائستہ مفتی19 ستمبر 2026غزل0118دامنِ چاک کو سینے کا ہنر رکھتے ہیں ہیں جو خاموش، قرینے کا ہنر رکھتے ہیں گرچہ خالی ہے تری بزم میں اپنا یہ ایاغ ہم مگر آنکھ سے پینے کا ہنر رکھتے ہیں آسمانوں سے مزید »
ہم نے ہر سانس قضا ہونے سے بچا رکھی ہےکرن ہاشمی18 ستمبر 2026غزل0110ہم نے ہر سانس قضا ہونے سے بچا رکھی ہے عشق میں وضعِ انا پھر بھی بچا رکھی ہے بات نکلی ہے تو اب دور تلک جائے گی ہم نے ہونٹوں پہ اگرچہ یہ صدا رکھی ہے مصلحت کہہ مزید »
ٹک کر کہیں نہ بیٹھے سو وحشت میں کاٹ دیخرم سہیل17 ستمبر 2026غزل0181ٹک کر کہیں نہ بیٹھے سو وحشت میں کاٹ دی جتنی ملی تھی زندگی ہجرت میں کاٹ دی سب کامیاب لوگ تھے مصروفِ کار اور ہم نے ترے جہان میں فرصت میں کاٹ دی اک اجنبی دیار میمزید »
کیا وہ ذکر ترا، تسمیہ ہی بھول گیاعلی رضا احمد30 اگست 2026غزل0403کیا وہ ذکر ترا، تسمیہ ہی بھول گیا میں ابتدا میں کہیں، انتہا ہی بھول گیا عجیب بھول بُھلیّوں میں تھا جو عکسِ حیات خدا کی ذات کا یہ آئینہ ہی بھول گیا کبھی تو جانمزید »
آج پھر یاد کی شاخوں پہ تھکن اتری ہےکرن ہاشمی18 جون 2026غزل0561آج پھر یاد کی شاخوں پہ تھکن اتری ہے چاندنی اوڑھ کے تاروں کی بہن اتری ہے شہرِ پندار کے خاموش سے انساں دیکھو ایسا لگتا ہے کوئی روحِ چمن اتری ہے کس کی آہٹ سے لہومزید »
سکوتِ شہر میں گونجی ہے دستکیں کیا کیاکرن ہاشمی11 جون 2026غزل0223سکوتِ شہر میں گونجی ہے دستکیں کیا کیا اُجڑنے والوں نے دیکھی ہیں حسرتیں کیا کیا شجر سے کٹ کے جو پنچھی ہوا کی زد میں ہے وہ جانتا ہے کہ ہوتی ہیں ہجرتیں کیا کیا مزید »