کرن ہاشمی21 نومبر 2025غزل1148
جہاں کی حقیقت ہے خوابوں کا کھیل نظر کا فسوں ہے، سرابوں کا کھیل
یہ دنیا ہے سود و زیاں کی جگہ ہے ہر دن یہاں پر حسابوں کا کھیل
لکیریں ہیں قسمت کی الجھی ہوئیں لکی
مزید »خرم سہیل19 نومبر 2025غزل097
ملا جواب نہ کوئی گماں سے پوچھ لیا پتہ غموں نے مرا بھی وہاں سے پوچھ لیا
سراغ جب نہ ملا کوئی مرنے والے کو نشاں رقیب کا اس نے کماں سے پوچھ لیا
تلاش تجھ کو کروں گ
مزید »سعود عثمانی17 نومبر 2025غزل9112
نظر کے بھید سب اہلِ نظر سمجھتے ہیں جو بے خبر ہیں، اِنہیں بے خبر سمجھتے ہیں
نہ اُن کی چھاؤں میں برکت، نہ برگ و بار میں فیض وہ خود نمود جو خود کو شجر سمجھتے ہیں
مزید »علی رضا احمد15 نومبر 2025غزل8815
رگڑتے رہے ایڑیاں جیسے جیسے وہ کستے گئے بیڑیاں جیسے جیسے
بھرا رہتا ہے اس کا دامن بھی ہر دم لٹاتا ہے وہ جھولیاں جیسے جیسے
زباں پر بنے سنورے آتے ہیں جملے نکھرتا
مزید »کرن ہاشمی14 نومبر 2025غزل1130
کیسی الجھن یہ سلسلہ کیا ہے دل کے صحرا میں اب ہوا کیا ہے
خواب بکھرے ہیں، رنگ گم سا ہے آنکھ کہتی ہے، ماجرا کیا ہے
کب سے آنسو بہا رہی ہوں میں پر لبوں پر ہے یہ صد
مزید »سعود عثمانی12 نومبر 2025غزل1138
نہالِ خشک سے کیا برگ و بر نکل آئے بہار آئی تو شاخوں کے پر نکل آئے
زمانہ وہ ہے کہ نیکی بھی کرکے ڈرتے رہو نہ جانے خیر سے بھی کیسا شر نکل آئے
نکل تو آئے خوشی کی
مزید »خرم سہیل12 نومبر 2025غزل21128
فراق اس کی عنایت تھا سو قبول کیا الگ یہ بات بچھڑ کر بہت ملول کیا
بُلا تو پاس مرے معجزوں کے منکر کو دکھا قران اسے، رب نے جو نزول کیا
بتا اے خاک کے پتلے تجھے یہ
مزید »علی رضا احمد09 نومبر 2025غزل1490
پہلے اِک شاہ کا دیوان بنے آج ہم اپنے ہی مہمان بنے
تیری حرمت ہی کی خاطر ہم تو ہر کسی جنگ کا میدان بنے
چھوڑ آئے تھے اُنہیں شہروں میں دل کے جنگل جبھی سنسان بنے
مزید »علی رضا احمد31 اکتوبر 2025غزل74575
جو ہوا شمعِ سحر پر اب ہے بَرہم وہ شناسا تھی اُسی کی لُو سے باہم
اک دیے کا حبسِ بے جا میں گُھٹا دم اب بچھائے گا دھواں بھی فرشِ ماتم
وصل کی جس شب میں راحت بھی ت
مزید »محسن نقوی30 اکتوبر 2025غزل10225
نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو وقف عذاب کر جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر
ابھی منتشر نہ ہو اجنبی نہ وصال رت کے کرم جتا جو تری تلاش میں گم
مزید »