1. ہوم
  2. غزل
  3. حامد عتیق سرور
  4. ہر لطف پہ اب پیار کا دھوکا نہیں ہوتا
Hamid Ateeq Sarwar

ہر لطف پہ اب پیار کا دھوکا نہیں ہوتا

ہر لطف پہ اب پیار کا دھوکا نہیں ہوتا
ہم جان گئے عشق میں کیا کیا نہیں ہوتا

ہم آہ بھی بھرتے ہیں تو ہو جاتا ہے چالان
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو پرچا نہیں ہوتا

اک ہم کہ ہوئے جاتے ہیں لاہور میں کنگال
اور اس کا جنیوا میں بھی خرچا نہیں ہوتا

وہ مونہہ بھی دھولیں تو بدل جاتا ہے ماحول
ہم لاکھ نہا لیویں، اجالا، نہیں ہوتا

شوہر، جمع دو چار، وفادار سے عشاق
خوش رو، کوئی دنیا میں اکیلا، نہیں ہوتا

اس عمر میں نزدیک جو آتی ہے حسینہ
کہتی ہے"دعا کیجئے، رشتہ نہیں ہوتا"

اس عشق میں اور میچ میں یکساں تھی ہزیمت
آیا ہے برا وقت، کچھ اچھا نہیں ہوتا

برپا ہے، دروں دل کے، کہیں آگ سا، ماتم
یوں اپنا کلیجہ ہے، کہ ٹھنڈا، نہیں ہوتا

جیتے ہوئے بیٹھے تھے کہ ویرات نے مارا
اے کاش، یہ، ہمسائے کا لڑکا، نہیں ہوتا