1. ہوم
  2. غزل
  3. حامد عتیق سرور
  4. یوں تو کہتا ہے کچھ خفا نئیں ہے
Hamid Ateeq Sarwar

یوں تو کہتا ہے کچھ خفا نئیں ہے

یوں تو کہتا ہے کچھ خفا نئیں ہے
بارے پہلے سا ماجرا نئیں ہے

یوں نہیں ہے کہ چاہتا نئیں ہے
اس کا اک دل پہ اکتفا نئیں ہے

مہرباں، خوش ادا، حسیں، دل کش
وہ سبھی کچھ ہے باوفا نئیں ہے

یوں کبھی ایک دن سبھی باتیں
پھر کئی روز بولتا نئیں ہے

ایک دستک ہے شاعری میری
اور تو در، کہ جو کھلا نئیں ہے

ہم ترے قریہء جمال میں گم
کیسے نکلیں کہ راستہ نئیں ہے

آرزو بیش ہے تو دنیا کم
معترض ہے کہ مانگتا نئیں ہے

زندگی کیوں ہے؟ کیوں نہیں رہتی؟
لکھنے والے کا مسئلہ نہیں ہے

ہم سے پوچھا نہیں، بنا ڈالا
پھر شکایت کہ مانتا نئیں ہے