1. ہوم
  2. کالمز
  3. تجمل حسین ہاشمی
  4. دھوکا یا حقیقت
Tajammal Hussain

دھوکا یا حقیقت

حکومت وقت سے اچھی امید رکھتے ہیں ہر جلسے محفل میں مدینہ کی ریاست کے تصور کا ذکر کیا جاتاہے مسلمان جب بھی مدینہ یا مدینے والے کی بات سنے گا اس کی طبیعت جذبہ ایمانی سے چمک اٹھے گی مدینے کی ریاست سے تو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلمانوں نے بھی امان پایا وہ بھی مدینے والے کے دیوانے تھے ذرا سوچو کیسا تصور ہوگا اس تصور کو سوچنے پر بھی دل کو سکون ملتا ہے اگر پاکستان مدینے کی ریاست کی طرز کا بن جائے تو سارے ظلم اور عوام کے غم ختم ہو جائیں گے اور اسلام کا بول بالا ہو گا حقیقی تصور کے لئے اب سربراہ کے اقدامات کی ضرورت ہے کیا حکومت وقت نے وہ اقدامات کیے ہیں جس سے مدینہ کی ریاست کا تصور پورا ہو سکے پچھلے آٹھ ماہ سے مہنگائی بلندترین سطح پر پہنچ چکی ہے کرپشن حکمرانوں کا شیوا بن چکی ہے ادارے بغیر کسی جرم کے لوگوں کو سزا وار بنا رہے ہیں عدل پیسوں میں بک رہا ہے ہسپتالوں میں انسان کو جانوروں کی طرح مارا جا رہا ہے تھانوں میں غریب کی سنوائی نہیں روڈوں پر قانون نہیں اقراء پروری کا دور ہے کرپشن ہر فرد کے اندرسراعت کر چکی ہے یو سی سے لے کر میں میر تک کا نظام کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے غریب روٹی کے لئے مر رہے ہیں غربت کے مارے لوگ مدینے کی ریاست کے تصور کو اپنی زندگی میں دیکھنا چاہتے ہیں عوام عمر بن عبدالعزیز جیسا لیڈر چاہتے ہیں عمر بن عبدالعزیز نے حکومت ملنے کے بعد انتظار نہیں کیا تھا بلکہ عوام کی بہتری کے لیے اقدامات کیے بنوامیہ قبیلہ تین براعظموں کی سلطنت کے مالک تھے عمر بن عبدالعزیز نےعوامی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کیا اور اپنی بیوی حضرت فاطمہ بنت عبد المالک سے ان کے حقوق معاف کروائیے فاطمہ بنت عبدالمالک ایسی سیاسی شخصیت تھی جنہوں نے 7 بادشاہوں کی سلطنت کی شہزادی رہیں تاریخ میں ایسی کوئی خاتون نہیں ہے جس نے اس طرح کی زندگ گزاری جب عمر بن عبدالعزیز کے نکاح میں آئیں توغربت ان کے گھر کے چوکھٹ پر تھی حضرات اپنی سلطنت سے صرف تنخواہ لیتے تھے اس تنخواہ میں 12 بچوں کی پرواش کرتے تھے دو سال دو مہینے فاطمہ بنت عبدالمالک نے اپنے تمام حقوق حضرت عمر بن عبدالعزیز کو معاف کردئیے تھے حضرت سارا دن مسلے پر اللہ کو یاد کرتے اور عوامی خدمت کرتے تھے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور میں نہ کوئی غریب رہا نا ظالم اور نہ مظلوم چور اور بھیک مانگنے والے بھی خوشحال ہو گئے عمر بن عبدالعزیز کا ایک مثالی دور تھا مدینہ کی ریاست بنانے کے لئے پاکستان کو عمر بن عبدالعزیز جیسا لیڈر چاہیے سلمان وحید اور عبدالمالک نے بھی سلطنت بنو امیہ پر حکومت کی مگر ان تینوں رہنماؤں نے اپنے من کو راضی کیا اور عوام ظلم کی چکی میں پس رہی تھی آج وہی حال پاکستان کا ہے جس میں حکمران اپنے آپ کو مطمئن کر رہے ہیں اور عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے پی ٹی آئی کے رہنما فرماتے ہیں کہ ہمارا ابھی وقت ہی کیا ہوا ہے۔ ہماری حکومت کو صرف 8 ماہ ہوئے ہیں پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا وقت ہے جس میں عدلیہ عسکری اور سیاسی رہنماؤں کو اللہ نے ایک نقطہ پر اکٹھا کیا ہے عمران خان صاحب اب بھی وقت ہے آپ آگے بڑھو حق اور سچ کے فیصلے صادر کرو ریاست مدینہ کے اصولوں کو لاگو کرو ماضی میں ہونے والے غلط فیصلوں پر پشیمان ہونے سے بہتر ہے آنے والے فیصلوں کو مدینے کی ریاست کے مطابق کرو عمل کو شروع کرو اور غریب عوام کے اوپر ہونے والے مہنگائی کے طوفان کو روکو مہنگائی سے ملک میں بے حیائی جنم لے گی حیا اور ایمان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے جب ایمان نہیں ہوگا پھر مدینہ کی ریاست کا تصور نہیں ہوگا پوائنٹ سکورنگ سے مدینہ کی ریاست نہیں بنے گی امیر اور غریب میں بڑھتا ہوا فرق بغاوت کو جنم دے گا وہ حکم صادر کرو جس میں میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اضافہ ہو مغربی دنیا کی پیروی کرنے سے مدینہ کی ریاست کا تصور مشکل ہو گا ظلم کی تاریخ ہمیشہ سیاہ ہوتی ہے عمران خان صاحب دیکھ لو پاکستان کو کونسی تاریخ کا حصہ بنانا ہے اللہ نے اختیار اور پاور آپ کو نصیب کی ہے۔ وقت کم ہے اور کام زیادہ ہیں۔