نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہےاحمد فراز22 اگست 2025غزل067نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے کِس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے ہم کہ دونوں کے گرفتار رہے، جانتے ہیں دامِ دُنیا سے کہیں زُلف کا جال اچھا ہے میں مزید »
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیںاحمد فراز22 اکتوبر 2024غزل0342سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے مزید »
منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کااحمد فراز26 ستمبر 2024غزل0256منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا کیسے پایمزید »