حامد میر28 جنوری 2019مہمان کالم1800
امیر تیمور کو اسکندر اعظم کی طرح دنیا فتح کرنے کا شوق تھا۔ وہ آج کے ازبکستان سے اُٹھا اور مصر، شام، عراق اور ایران کو فتح کرتا ہوا ہندوستان تک آ پہنچا۔
مزید »سہیل وڑائچ27 جنوری 2019مہمان کالم1815
ہائوس نمبر 786
جنت نگر، عرشِ بریں
ڈیئر عمران
السلام علیکم بہت دنوں سے پاکستانی احباب اصرار کر رہے تھے کہ میں آپ کو ایک خط لکھوں اور آپ کی حکومت کی خوبیاں ا
مزید »حسن نثار27 جنوری 2019مہمان کالم6792
روحی کی روح زخمی، بانو کا بدن گھائلمنافقت ایکسپورٹ ہو سکتی تو ملک میں زرمبادلہ کے ڈھیرلگے ہوتے کیونکہ ہربالغ ایکسپورٹر ہوتا۔ اسی صورتحال سے متاثر ہو کر کسی نے ک
مزید »حسن نثار26 جنوری 2019مہمان کالم7767
اقصادیات کی شدبد رکھنے اور اس کی اصطلاحات سے پرانی شناسائی کے باوجود جب میں اس خشک مضمون کے ماہرین کو ٹی وی پر گفتگو کرتے دیکھتا، سنتا ہوں تو کچھ دیر کے بعد بوریت محسوس ہونے لگتی ہے۔
مزید »سلیم صافی26 جنوری 2019مہمان کالم7745
بائیس جنوری کو "یہ کمپنی نہیں چلے گی" کے زیرعنوان اپنے کالم میں استاد محترم سہیل وڑائچ نے جو لطیفہ تحریر کیا، وہ مجھے محترم محمد علی درانی نے تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ ایک اور پیرائے میں سنایا تھا۔
مزید »سہیل وڑائچ25 جنوری 2019مہمان کالم1781
کسی بھی حکومت کی اندھی مخالفت یا اندھی حمایت دونوں ہی غلط رویے ہیں۔ کوئی بھی حکومت نہ تو مکمل طور پر بُری ہوتی ہے اور نہ ہی مکمل طور پر اچھی۔ اس لئے اسے کلین چٹ
مزید »حامد میر24 جنوری 2019مہمان کالم23800
یہ سانحہ پہلی دفعہ پیش نہیں آیا۔ اس سے پہلے بھی پاکستان میں ایسے سانحے پیش آتے رہے جن میں ریاست نے ماں کی بجائے ایک قاتل کا کردار ادا کیا۔ قاتل کے خلاف ہر طرح
مزید »سہیل وڑائچ23 جنوری 2019مہمان کالم8828
فرض کریں کہ زرداری اور نواز شریف کے بارے میں جو چاہا جا رہا ہے وہ ہو جاتا ہے اور آصف علی زرداری عمربھر کے لئے نااہل ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح سندھ سے پیپلز پارٹی کی
مزید »سلیم صافی23 جنوری 2019مہمان کالم1732
سانحہ ساہیوال، پہلا سانحہ ہے اور نہ آخری ہوگا۔ چند روز تک سیاستدان بیانات دیتے رہیں گے۔ چند روز تک وزرا بڑھکیں مارتے رہیں گے۔ چند روز تک ٹی وی ٹاک شوز میں ریٹن
مزید »سہیل وڑائچ22 جنوری 2019مہمان کالم1786
لطیفہ تو کافی پرانا ہے مگر کردار اور واقعات نئے ہیں۔ ایک سکھ سردار مے نوشی کرتے کرتے اتنے ماہر ہو گئے کہ وہ شراب سونگھ کر یا اس کا ذائقہ چکھ کر بتا دیتے تھے کہ
مزید »