1. ہوم
  2. غزل
  3. آغر ندیم سحر
  4. مختصر سی مری کہانی ہے
Aaghar Nadeem Sahar

مختصر سی مری کہانی ہے

مختصر سی مری کہانی ہے
دل میں چاہت تری پرانی ہے

میں جو ہنستا ہوں سانس لیتا ہوں
تیری چاہت ہے مہربانی ہے

تو نے جاتے سمے جو درد دیا
وہ تری آخری نشانی ہے

یہ رقیبوں کی ہے کوئی سازش
تیرے دل میں جو بدگمانی ہے

مجھ پہ گزری ہے جو شبِ ہجراں
ان کو روداد یہ سنانی ہے

تیری نظرِ کرم کا فیض ہے یہ
میرے جذبوں میں جو روانی یے

خوں ہے آغر کی آرزووں کا
اس کی آنکھوں میں جتنا پانی ہے