1. ہوم
  2. غزل
  3. آغر ندیم سحر
  4. تمہیں ہم سے ہی سارا مسئلہ ہے
Aaghar Nadeem Sahar

تمہیں ہم سے ہی سارا مسئلہ ہے

تمہیں ہم سے ہی سارا مسئلہ ہے
لو ہم منظر سے ہٹ جانے لگے ہیں

تمہاری چشم حیرت کے کنارے
ذرا سی دیر سستانے لگے ہیں

وہ اتنی بے دلی سے مسکرایا
ہمارے پھول مرجھانے لگے ہیں

پرندے خواب دریا اور جگنو
مری دنیا کو مہکانے لگے ہیں

ہمیں غدار کہتے تھے جو کل تک
ہمارے ڈر سے مر جانے لگے ہیں

اندھیرا بڑھ گیا ہے زندگی میں
ہم اک دوجے سے ٹکرانے لگے ہیں

اداسی کے سبھی دیوار و در پہ
تمھارے سائے منڈلانے لگے ہیں

مرے لوگوں کو آغر کیا ہوا ہے؟
یہ کیوں سورج سے گھبرانے لگے ہیں؟