1. ہوم
  2. غزل
  3. آغر ندیم سحر
  4. ہم درختوں کو اگر خواب سنانے لگ جائیں
Aaghar Nadeem Sahar

ہم درختوں کو اگر خواب سنانے لگ جائیں

ہم درختوں کو اگر خواب سنانے لگ جائیں
ان پرندوں کے تو پھر ہوش ٹھکانے لگ جائیں

آخری پل ہے ذرا بیٹھ کہ باتیں کر لیں
عین ممکن ہے پلٹنے میں زمانے لگ جائیں

یہ بھی ممکن ہے کہ چپ چاپ سرِ بزم رہیں
یہ بھی ممکن ہے کوئی گیت سنانے لگ جائیں

ہم نوافل میں ترے نام کی تسبیح کریں
یوں بھی مسجد میں ترا ہجر منانے لگ جائیں

کوزہ گر تم سے مرے خواب نہیں ٹھیک بنے
بس یہی سوچ کے پھر چاک گھمانے لگ جائیں

حضرتِ قیس ترے خواب کی بیعت کرکے
ہم کسی دشت میں پھر نام کمانے لگ جائیں

یہ بھی ممکن ہے کہ چپ چاپ ترا ہجر سہیں
یہ بھی ممکن ہے کوئی حشر اٹھانے لگ جائیں

ہم ہیں تنہائی کے مارے ہوئے کمرے کے مکیں
جو بھی مل جائے اسے دوست بنانے لگ جائیں

ہم نئے دور کے عاشق بھی عجب ہیں کہ ندیم
جو بھی مل جائے اسے شعر سنانے لگ جائیں