Tuesday, 12 November 2019
/ مہمان کالم / حسن نثار / پھر وہی کالے قول

پھر وہی کالے قول

پھر وہی کالے قول کئی سطروں میں کی جانے والی بات جب چند سطور میں مستور کر دی جائے تو بندہ بغیر کچھ کئے پئے مخمور ہوجاتا ہے لیکن ایسا کم کم ہی نصیب ہوتا ہے اور کم نصیبوں کو تو شاید کبھی نصیب ہی نہیں ہوتا۔ میرا بس چلے تو خود کو صرف "کالے قول" تک ہی محدود کرلوں لیکن کلر اٹھی زمینیں زرخیز نہیں ہوتیں۔ کبھی کبھار کچھ جنگلی پھول اگ آئیں تو سجدہ شکر بجا لاتے ہیں۔ ماہ مقدس مہربان ہے اس لئے آج پھر کچھ کالے قول سب سے پہلے پاکستان سب سے پہلے میرا صوبہ سب سے پہلے میرا شہرسب سے پہلے میرا محلہ سب سے پہلے میرا گھرسب سے پہلے، بقلم خودجہاں ہلاکو ہوں گے وہاں ہلاکتیں بھی ہوں گی"روک سکو تو روک لو مہنگائی آئی رے"حالانکہ ابھی تو اس چڑیل نے آنا ہے۔ یہ ون ڈے نہیں ٹیسٹ میچ ہے بلکہ سیریز ہی سمجھو جس کے بعد کرکٹ نہیں کبڈی شروع ہوگی۔ ہم" حفظان صحت کے اصولوں" کی روشنی میں گندگی پھیلاتے ہیں۔ تجاوزات ناجائز تعمیرات نہیں، ناپاک رویوں کا نام ہے۔ ذہنی طور پر قبائلی اور جسمانی طور پر ڈیجیٹل عہد میں زندہ لوگوں کی زندگی کیسی ہوگی؟ انجام کیا ہوگا؟۔ حالات بدلنے کی خواہش ہے، ترجیحات اور معمولات بدلنے میں دلچسپی نہیں۔ چراغ رگڑنے پر حاضر ہونے والا جن غلام ہوتا ہے لیکن بوتل کی قید سے آزاد ہونے والا جن بے رحم آقا سے کم نہیں ہوتا۔ لاٹھی اور بھینس، کاٹھی اور گھوڑے کا رشتہ اٹوٹ ہوتا ہے۔ افغانستان کے "تورا بورا" سے عراق کے"تکریت" تک ہی انسان کی اصل تاریخ، تصویر اور تعریف ہے۔ ہم"غم و غصہ سائنس" اور "پیچ و تاب ٹیکنالوجی" کے ماہر ہیں۔ زمین اپنا سائز برقرار رکھتے ہوئے کند ذہنوں پر تنگ ہوتی چلی جائے گی۔ جہالت شرک کے بعد دوسرا بڑا گنا ہے جس کی سزا زندگی میں ہی شروع ہوجاتی ہے۔ طاقت نے سرگوشی کی، "میں تباہی کی ماں ہوں"بیوروکریسی، گوروں کی کالی فوٹو کاپیاں۔ صدیوں کے غلام صدیوں تک آداب حکمرانی نہیں سیکھ سکتے۔ کچھ لوگوں کے لئے بےحرمتی ہی حرمت ہوجاتی ہے۔ غبارے کے اصل سائز کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب اس میں سے ہوا خارج ہوجائے۔ بھٹو کی قید کا موازنہ نواز شریف کی قید سے کریں تو کبھی ہنسی نہیں رکتی کبھی آنسو نہیں تھمتے۔ کبھی کبھی آقائوں کو بھی غلام گردشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ عالم چنوں اور عالم پناہوں کی آخری پناہ گاہ ایک جیسی ہوتی ہے۔ دھوتیوں، لاچوں، لنگیوں، پاجاموں کو جنیزکھا گئیں۔ لسیوں، کانجیوں اور ستوئوں کو یہ کولے پی گئے۔ سالم تانگے کو قسطوں والی کار نے الٹ دیا، مرغی مچھلی فارمی ہوگئی، منادی پر موبائل فون چڑھ گیا۔ ہریسے پر پزے نے یلغار کردی، حلیم کو برگر نے پچھاڑ دیا، اور یہ کلچر کلچر کرتے پھرتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے بعد "اوئی" ایم ایف شروع ہوگا۔ یہ جمہوریت عوام نہیں انجینئرنگ کی پیداوار بلکہ شاہکار ہے۔ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام، جمہوریت اور پاکیزگی کا داخلہ منع ہے۔ قرض لے کر قرض چکانا ایسے ہی ہے جیسے کوئی آگ کی مدد سے آگ بجھانا چاہے یا گلیشیئر کی مدد سے سیلاب روکنا چاہے۔ صحرا سے تیل نکل آئے تو وہ باغوں پہ بھاری ہوجاتا ہے۔ ناخن اگلیوں پر ہوتے ہیں، اگلیاں ہاتھوں پر ہوتی ہیں اور جن کے ہاتھ ہی کٹ چکے ہوں، وہ ہوش کے ناخن کہاں سے لائیں؟جسے ہم آزادی سمجھ رہے ہیں وہ دراصل آزادی کا دیباچہ تھایہ آزادی کی عمارت نہیں، صرف اس کا پلاٹ اور نقشہ تھاصرف آقائوں کی تبدیلی ہی آزادی نہیں ہوتی مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میرے آقا کا نام جیمز ہے یا جان محمد، لارنس ہے یا لعل دین، ایبٹ ہے یا اکبر، ایمپرس یا علم دین، جبرلڈ ہے یا جگا۔ بوزنے ہیں تو ملے ہم کو ہمارا جنگل آدمی ہیں تو مداری سے چھڑایا جائےبندر پھر خوش نصیب ہوتے ہیں جنہیں صرف ایک مداری سے پالا پڑتا ہے جبکہ یہاں تو؟