Thursday, 17 October 2019
/ مہمان کالم / ارشاد بھٹی / اللّٰہ کرے جیت پاکستان کی ہو!

اللّٰہ کرے جیت پاکستان کی ہو!

کالم کا آغاز استادِ محترم حسن نثار کی تصحیح سے، پچھلا کالم تھا ’یہ وقت کسی کا نہ ہوا، اس میں لکھا "عبدالحی المعروف ساحر لدھیانوی امرتا پریتم کے عشق میں کالج سے نکالا گیا، وہ لاہور آیا، یہاں ترقی پسند نظریات کی بدولت وارنٹ جاری ہوئے تو واپس ہندوستان چلا گیا"، استاد حسن نثار کا گزشتہ رات پیغام ملا، فوراً فون کرو، فون کیا تو علیک سلیک سے پہلے ہی بولے "پچھلے کالم میں کیا لکھ دیا؟" میں نے کہا "استاد کیا ہوا، کوئی غلطی ہو گئی" بولے "تم نے لکھا ساحر لدھیانوی امرتا پریتم کے عشق میں کالج سے نکالا گیا، حالانکہ ساحرلدھیانوی ایک سکھ لڑکی کے عشق میں کالج سے نکالا گیا، امرتا پریتم تو گوجرانوالہ کی جم پال، ہاں یہ ٹھیک ساحر لدھیانوی، امرتا پریتم کا بہت مضبوط روحانی تعلق، یہ تعلق کیسا، لمبی کہانی، کسی دن سناؤں گا، لیکن کالج عشق والی لڑکی امرتا پریتم نہیں تھی، دوسرا تم نے لکھا، ترقی پسند نظریات کی وجہ سے وارنٹ جاری ہونے پر ساحر لدھیانوی پاکستان سے بھارت چلا گیا، اصل بات یہ، ساحر لدھیانوی کے لاہور سے جانے کی وجہ کوئی مقدمہ، کیس، وارنٹ نہیں بلکہ رائٹ ونگ کے وہ خود ساختہ شاعر، دانشور تھے جو ساحر لدھیانوی کے ادبی شعری قد، مقبولیت سے خائف ہو کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے تھے، انہی کی دھمکیاں، سازشیں کہ ایک دن سخت گرمیوں میں اوور کوٹ پہن کر ساحر والٹن ایئر پورٹ لاہور سے بھارت چلا گیا، استاد حسن نثار بتا رہے تھے کہ "ساحر لدھیانوی ذات کا گجر، اس کے والد چوہدری فضل محمد گجر نے 8شادیاں کیں، چونکہ ساحر ابھی چھوٹا ہی تھا کہ والد نے اس کی ماں کو طلاق دے دی، لہٰذا ساحر نے عمر بھر والد سے نفرت کی"، بقول استاد حسن نثار ساحر لدھیانوی کے والد لائلپور میں رہے، یہیں وفات پائی اور یہیں دفن ہوئے۔ بات جب لائلپور پر پہنچی تو استاد محترم حسن نثار کے لہجے کی مٹھاس اداسی میں بدلتی مجھے ٹیلی فون پر بھی محسوس ہوئی، لائلپور جس کا نک نیم آج کل فیصل آباد، استاد کی جنم بھومی، یادوں، یاروں کی زمین، استاد لائلپور سے نکل آئے، لائلپور ان سے نہ نکل سکا، مجھے لائلپور اس لئے پسند کہ اس کے نواح میں میرا پنڈی بھٹیاں، بات کہاں سے کہاں نکل گئی، اصل بات جو بتانا وہ یہ، استاد گرامی حسن نثار نے کالم پڑھا، غلطی دیکھی، اپنے یارِ ہر کاروبار، پہنچے ہوئے بزرگ امیر افضل غوری اور ہمارے چہیتے ارسلان عرف شانی عرف چپڑم کی ڈیوٹی لگائی کہ تب تک فون کرتے رہو جب تک رابطہ نہیں ہو جاتا، رابطہ ہوا، غلطی کی تصحیح کی اور ساتھ بتایا بھی کہ اگلے کالم میں درستی یوں کرنی، استاد شکریہ، محبتیں، دعائیں، ہم خوش نصیب جنہیں آپ کی توجہ حاصل، جنہیں آپ جیسے بڑے ملے، ورنہ تو ایسے بڑوں کی بھرمار جن کی کوشش یہی کہ کوئی بڑا نہ ہو پائے، جن کی آنکھوں، باتوں میں سوائے حسد کے کبھی کچھ نظر نہ آیا اور ہاں استادِ گرامی میں بہت خوش کہ مجھ سے غلطی ہوئی، غلطی نہ ہوتی، آپ تصحیح نہ کرواتے اور بہت کچھ، ہاں بہت کچھ مس کر جاتا، اگلا موضوع، کراچی کچرے سے بھی اگلے لیول پر پہنچی اپنی سیاست، پہلے بات صدر کے خطاب، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی، اب تو یقین ہوگیا کہ ایوانِ صدر، گورنر ہاؤسز بوجھ، ان سے جان چھڑا لینا چاہئے، سال میں 4تقریبات، چند تقریریں اور فضول قسم کی ملاقاتیں، صدر، گورنروں کا اسکے علاوہ کیا کام، لیکن ایوانِ صدر، گورنر ہاؤسز کے خرچے، توبہ توبہ، صدر عارف علوی کی تقریر کے دوران پارلیمنٹ میں جو کچھ دیکھنے، سننے کو ملا، شرمندگی ہی شرمندگی، میرے خرچے پر ’غلاموں کا جمعرات بازار، لگا، جیلوں میں بند ایکسپائرڈ آقاؤں کی تصویریں اُٹھائے ایکسپائرڈ غلام، وہی پرانے، باسی، گھسے پٹے نعرے، سب آؤٹ ڈیٹڈ، دوسری طرف عارف علوی کو سلام، تقریر میں حکومتی بیڈ گورننس، معاشی بدحالی، بے روزگاری، مہنگائی کے بجائے تعریفیں ہی تعریفیں، کوئی وژن نہ کوئی ایجنڈا، قصہ مختصر جب غلامی لاعلاج ہو جائے تو پھر وہی ہوتا ہے جو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہوا۔ کراچی کچرا تھیٹر بلکہ کراچی گند سرکس، آئین کے آرٹیکل 149فور چوک پر پہنچ چکی، ملاحظہ کریں، بات چلی کہاں سے، پہنچ کہاں گئی، چند گھنٹے کی بارش ہونا، کراچی گٹر بن جانا، 30بندوں کا کرنٹ لگنے سے مر جانا، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم کا گتھم گتھا ہو جانا، مراد علی شاہ، میئر وسیم اختر، سعید غنی کی گربیان پھاڑو اداکاریاں، مصطفیٰ کمال، علی زیدی کی انٹریاں، فروغ نسیم کی آرٹیکل 149فور کی بات کرنا، بلاول بھٹو کا عمران خان کو مودی بنا کر سندھ کو مقبوضہ کشمیر کہنا، بنگلہ دیش کی طرح سندھو دیش، سرائیکستان بننے کی دھمکیاں، بیان در بیان، تقریریں در تقریریں، بڑھکیں در بڑھکیں، دھمکیاں در دھمکیاں، الزامات در الزامات، سیاست، گند، کچرا، مکھیاں، بدبو، بدحالی، بے شرمی، بس یہیں رک جائیں پنجاب کو بزدار دیمک چاٹ رہی، خیبر پختونخوا کی جڑیں محمود خان المعروف بزدار پلس کاٹ رہا، قائد ِ انقلاب عمران خان واہ واہ کئے جا رہے، خیبر پختونخوا بی آر ٹی منصوبہ، پنجاب پولیس، پٹوار اصلاحات، دلی ہنوز دور است، سنا جا رہا پولیس اصلاحات کا مسودہ عمران خان کے حوالے ہو چکا، لیکن یہ بھی سنا جا رہا کہ اس مسودے میں کچھ ایسا نہیں رہنے دیا گیا جس کی تعریف ہو سکے، یہی دعا، میں غلط نکلوں، مسودے میں وہ سب کچھ ہو، جو ہونا چاہئے، یہاں یہ ذہنوں میں رہے کہ خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2017ء کا اہم ترین نکتہ سیکشن 17 کا سب سیکشن 4، جس کے مطابق آئی جی لگانا حکومت کا کام اور باقی تقرریاں، تبادلے سمیت پولیس چلانا آئی جی کا کام، یہی خیبر پختونخوا میں ہوا، پولیس بہتر ہوگئی، یہی پنجاب، سندھ، بلوچستان میں نہیں ہو رہا، جس کی وجہ سے پولیس سیاست سے لبالب بھری ہوئی بلکہ پولیس سیاستدانوں کی گلو بٹ بنی ہوئی۔ آخر پر یہی کہنا، جیرے بلیڈوں کا احتساب بڑے نازک مرحلے پر، ملک و قوم کی بھلائی، معیشت کی بہتری، کشمیر کی آزادی، سیاسی اتحاد، باہمی مفاد کی خاطر جیرے بلیڈوں کو ڈیل، ڈھیل دینے کی باتیں ہو رہیں، حواری سرگرم، طبلچی فعال، غلام گربیاں چاک کئے ماتم کر رہے، افواہیں، پروپیگنڈے عروج پر، اگلے چند ماہ بہت اہم، لیکن دعا یہی، جو بھی ہو، اللہ کرے جیت پاکستان کی ہو۔