Thursday, 21 November 2019
/ مہمان کالم / ارشاد بھٹی / ہمارے درد کا جالبؔ مداوا ہو نہیں سکتا!

ہمارے درد کا جالبؔ مداوا ہو نہیں سکتا!

مولانا کا انّے وا مارچ بعد میں، پہلے وہ باتیں جو مارچی دھند میں دھندلا گئیں، لاہور، کوٹ لکھپت، فرید کالونی قبرستان، تین نومولود بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی، گورکن گرفتار، کیا کہوں، دماغ ماؤف، اللہ رحم، محکمہ صحت سندھ بتائے، گزرے 8 مہینوں میں 1 لاکھ 22 ہزار 566 لوگوں کو کتوں نے کاٹا، سینکڑوں افراد جان سے گئے، مجال ہے بلاول بھٹو سے وزیر صحت عذرا پیچوہو تک کسی نے جھوٹے منہ اظہارِ افسوس بھی کیا ہو، ویسے لاڑکانہ ہار چکے بلاول بھٹو کے بھی کیا کہنے، گھوٹکی مندر ٹوٹنے پر پہنچ گئے مگر 15 منٹ کے فاصلے پر میرپور ماتھیلو نمرتا کے گھر نہ گئے، وہ نمرتا جو لاڑکانہ میں قتل ہوئی، مگر بلاول بھٹو سے گلہ بھی فضول، سندھ پر اپنی حکومت، لاڑکانہ سیاسی قبلہ، ہارے تو پھر سے دھاندلی کا شور، بلاول بھٹو کا "کاں چٹا،۔ یاد آیا، ابھی پچھلی احتساب عدالت پیشی پر خورشید شاہ کہہ رہے تھے، آج میری آنکھوں میں آنسو، کیونکہ مجھ پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے، اللہ شاہ صاحب کی مشکلیں آسان فرمائے، لیکن سندھ لُٹ گیا، شاہ صاحب کی آنکھیں نہ بھیگیں، سندھی بھوک، پیاس، علاج نہ ہونے سے روز مرے، شاہ صاحب کی آنکھیں نہ بھیگیں، حتیٰ کہ سوا لاکھ افراد پاگل کتوں کا نشانہ بن گئے، شاہ صاحب کی آنکھیں نہ بھیگیں، بات خود پر آئی، آنکھیں بھیگ گئیں۔

یاد آیا، برطانوی عدالت میں ایم کیو ایم قائد بھی رو پڑے، جی ہاں، چند دن پہلے، لندن پولیس اسٹیشن میں تیسری پیشی، اگست 2016 میں نفرت انگیز تقریر کے ذریعے دہشت گردی پر اکسانے، پولیس سوالوں کے جواب نہ دینے، پولیس سے عدم تعاون، دہشت گردی ایکٹ 2006 کے سیکشن 12 کے تحت فردِ جرم، قائد ایم کیو ایم کو لوہے کا کڑا پہنایا دیا گیا، عوامی اجتماع سے خطاب، سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرنے سے منع کردیا گیا، لندن شہر چھوڑ نہیں سکتے، بڑی مشکلوں سے مشروط ضمانت ملی، جج نے کہا، آپ پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی، آپ پر یہ پابندیاں، ایم کیو ایم قائد رو پڑے، روتے ہوئے بولے، مطلب اب میں اپنے کارکنوں سے بھی بات نہیں کر سکوں گا، جج نے کہا، نہیں، کیونکہ اس سے پاکستان میں اشتعال پھیلنے کا اندیشہ، یہ سن کر وہ چپ ہوئے، سر جھکا کر بیٹھ گئے، اب اگلی سماعت یکم نومبر کو، ٹرائل دو ہفتوں میں مکمل ہونے کا امکان، کہنا یہ، جن کے ایک اشارے سے پاکستانی سیاست کا رخ تبدیل ہو جاتا، آج جان لیوا بیماریاں، بے بسی بھرے آنسو، یہ زوال، اللہ معافی۔

اگلے کابینہ اجلاس میں لاء ریفارمز پیکیج پیش ہونیوالا، کابینہ منظوری کے بعد صدارتی آرڈیننس آئے گا، 6 نکاتی لاء ریفارمز میں ایک نکتہ یہ بھی کہ نیب کا وہ ملزم جس پر 5کروڑ سے زیادہ کا الزام، سی کلاس جیل کا حقدار، اے، بی کلاس جیلیں ختم، یہ ایک اچھا اقدام، دعا یہی، یہ طبقاتی اونچ نیچ لعنت ختم ہو، جسٹس فائز عیسیٰ کیس کی روزانہ سماعت ہو رہی، 10 رکنی بنچ جو فیصلہ کرے گا، وہ قبول، مگر میرا ذہن چیف جسٹس کھوسہ صاحب کے جسٹس فائز عیسیٰ کے صدر کو خط لکھنے پر بنے ضمنی ریفرنس کے 10 صفحاتی فیصلے میں اٹکا ہوا، خاص طور پر یہ چند لائنیں، چیف جسٹس لکھیں، جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس آیا، میں نے انہیں اپنے چیمبر میں بلایا، صدارتی ریفرنس پکڑا کر کہا، اسے پڑھیں، انہوں نے صدارتی ریفرنس پڑھا، پڑھنے کے بعد کہا "کیا مجھے صدارتی ریفرنس کی کاپی مل سکتی ہے" کہا "قانونی طور پر میں آپ کو ریفرنس کاپی نہیں دے سکتا" جسٹس فائز عیسیٰ کہیں "میں صدارتی ریفرنس کے نوٹس لے لوں " میں اجازت دے دوں، اسی دوران جسٹس فائز عیسیٰ مجھ سے سے پوچھیں "مجھے صدر مملکت کو خط لکھنا چاہئے" میں کہوں "آپ کی مرضی، میں کوئی رائے نہیں دے سکتا"، یہ سب کرکے جسٹس فائز عیسیٰ صدر مملکت کو خط لکھیں اور خط میں کہیں "مجھے صدارتی ریفرنس کا علم نہ صدارتی ریفرنس کے مندرجات کا پتا" مطلب چیف جسٹس کے چیمبر میں صدارتی ریفرنس پڑھ کر، صدارتی ریفرنس کے نوٹس لے کر جسٹس فائز عیسیٰ صدر کو خط لکھ کر کہیں "مجھے تو صدارتی ریفرنس کا علم ہی نہیں "، سپریم کورٹ کا جج، سچ نہ بولے، حیرانی تو بنتی ہے۔ چوہدری شوگر مل کیس میں نیب کی نواز شریف سے تفتیش جاری، پہلے دن ایک ایک گھنٹے کے تین سیشن، میاں صاحب سے 13سوال، الحمدللہ، ایک سوال کا بھی جواب نہیں، وہی، مجھے تو پتا ہی نہیں، مجھے تو یاد ہی نہیں، میں تو جانتا ہی نہیں، یہ مریم سے پوچھیں، یہ یوسف عباس کو پتا ہوگا، لیکن ماشاءاللہ میاں صاحب کی صحت قابلِ رشک، نیب حراست میں گھر سے کھانے آرہے، ابھی تک کے مینو کے مطابق کریلے گوشت، چکن شوربہ، اسٹیم روسٹ، ابلے چاول، ٹوسٹ، کیلے، انار، پپیتا، دودھ، دہی، لسی، تخم ملنگا آچکے، میاں صاحب کیلئے 2ڈاکٹر، ایمبولینس 24گھنٹے موجود، چہل قدمیوں کی اجازت، جب تک آرام فرما رہے ہوں، نیب کی جرأت نہیں ڈسٹرب کرے، واہ رے میرے انتقامی احتساب۔

اب مولانا صاحب کا انّے وا مارچ، حبیب جالب یاد آ رہے:۔

سرِ منبر وہ خوابوں کے محل تعمیر کرتے ہیں

علاجِ غم نہیں کرتے فقط تقریر کرتے ہیں

ہمارے درد کا جالبؔ مداوا ہو نہیں سکتا

کہ ہر قاتل کو چارہ گر سے ہم تعبیر کرتے ہیں

یقین مانیے، مولانا، نواز شریف، زرداری صاحب، بلاول، قاتل، چارہ گر بنے ہوئے، مولانا مارچی دُلہا، نواز شریف مارچی روحانی پیشوا، زرداری صاحب مارچی دعائیں دے رہے، بلاول مارچی اخلاقی حمایتیں فرما رہے اور اِدھر وزیراعظم، پھر سے قوم کو یہ بتا کر کہ "پہلی اسمبلی جو ڈیزل کے بغیر چل رہی"، مارچی مذاکراتی کمیٹی بنا دی، بات وہی جو جالب صاحب کر چکے، ہمارے درد کا مداوا کیسے، جب قاتل ہی چارہ گر۔