Wednesday, 13 November 2019
/ نظم / خالد زاہد / کشمیر کا نوحہ

کشمیر کا نوحہ

چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
چیخوں میں سسکیوں کی صدائیں سنتے ہیں
برف پوش وادیوں میں سلگتی آگ دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
سبز ہلالی پرچم میں لپٹی لاشیں، محبتوں کی بنی تصویر یں دیکھتے ہیں
سلگتے چناروں کی، انگار وں پر لوٹتی بے خوا بی دیکھتے ہیں
ننھی ننھی آنکھوں میں بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں
ننھے ننھے ہاتھوں میں آزادی کابیخوف الم دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
بیقرار و بیکل سے قدم خود مقتل کی راہ چنتے دیکھتے ہیں
جھریوں سے بھرے چہروں پر عزم اور حوصلے پہاڑ دیکھتے ہیں
دنیا سکوں ڈھونڈتی ہے در بدر، ہم شہیدوں کے رخسار دیکھتے ہیں
دشمن کی عیاری و مکاری کے گہرے وار دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کفن ساتھ لئے گھومتے ہیں جوان سارے
آؤ کیسیلڑتے ہیں بے تیغ سپاہی دیکھتے ہیں
دنیا کی بے ثباتی کی منہ بولتی تصویر دیکھتے ہیں
پھرظلم اور بربریت کی عالمی تشہیر دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کشمیر ایک وادی نہیں، وادی میں ایک گھر کی طرح ہے
جس کا ہر فرد گھر بچانے کو کیسے مرتا ہے، دیکھتے ہیں
یونہی نہیں دل بھرآتا، یونہی آنکھیں نہیں بھیگتیں
کیسے قابو میں رکھتے ہیں جب لاشوں کو دشمن کی ٹھوکروں میں دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں