Thursday, 21 November 2019
/ مختصر / نورالعین / علم اور عمل

علم اور عمل

علم کے معنی ہیں "جاننا" شعور حاصل کرنا۔ علم کی اہمیت کا اندازہ تو ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں ہمارے نبی پر جو پہلی وحی نازل ہوی اسکا پہلا لفظ "اقراء"(پڑھ)۔ تو ہم یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ علم حاصل کرنا ہر مرد و عورت پر فرض ہے۔

اب بات کرتے ہیں عمل کی جب میں اپنے معاشرے پر نظر ڈالتی ہوں تو مجھے ستر فیصد لوگ علم کو جمع کرتے نظر آتے ہیں اور تیس فیصد لوگ علم اور عمل دونوں کو جمع کرنے میں جب کہ اصل علم تو عمل کرنے میں ہے۔ ایک مشہور مفکر ابن جوزی فرماتے ہیں "اصل مزہ تو علم اور عمل دونوں کو جمع کرنے میں ہے"۔

ہم ایک ایسی تعلیم حاصل کریں جس پر ہم عمل بھی کر سکیں کیونکہ علم تو ابلیس کے پاس بھی بہت تھا مگر عمل کی طاقت سے وہ بھی کورا تھا۔ آج ہم بڑی یونیورسٹی سے پڑھتے ہیں ڈگری حاصل کرتے ہیں مگر آج تک یہ سوچا جو علم حاصل کیا ہے کیا کبھی اس پر عمل کیا ہے؟ کیا کبھی اتنا پڑھ لکھ کر اپنے معاشرے کے اندر بڑھتی ہوی تنگ سوچ کو ختم کیا ہے؟ جسے ہم ڈگری کا نام دیتے ہیں اصل میں وہ کورے  کاغذ کا پلندہ ہے۔ ایک بندہ دولت کی طاقت پر گھر میں بیٹھے بیٹھے علم حاصل کرتا ہے اور ایک غریب پڑھ لکھ کر بھی پیچھے رہتا ہے اور ایک امیر بندہ اسکا حق مارتا ہے کیا یہ ہم نے علم حاصل کیا ہے؟ ایک بے گناہ پر ظلم ہوتے ہوے دیکھ رہے ہیں اور پھر بھی چپ ہیں کیا یہ علم حاصل کر رہے ہیں؟

کسی بھی قوم کا مستقبل اسکی نوجوان نسل سے ہوتا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم علم کے ساتھ ساتھ اس پر عمل بھی کریں ہم ایک ایسی تعلیم حاصل کریں جسکے ذریعہ ہم دنیا کا مقابلہ کر سکیں ہم تلوار سے نہیں بلکہ اپنی قلم کی طاقت سے مقابلہ کریں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی علم کی روشنی میں اپنے ماحول کو بدلیں لوگوں کی تنگ سوچ کو ختم کریں بڑھتے ہوے ظلم کے لیے آواز اٹھائیں پاکستان کو ترقی کی راہ پر لے کر آئیں کیونکہ ایک مالی ہی اپنے باغیچے کو سنوار بھی سکتا ہے اور بگاڑ بھی سکتا ہے۔ تو ہمیں چاہیے ہم علم اور عمل کے ذریعے اپنے ملک میں بڑھتے ہوے حالات کو ختم کریں کیونکہ یہ ملک ہم سے ہے اور ہم اس ملک سے۔