Thursday, 21 November 2019
/ مہمان کالم / نصرت جاوید / احتساب: اور چین کا سافٹ امیج

احتساب: اور چین کا سافٹ امیج

جان کی امان پاتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان صاحب سے دست بستہ عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ "ہمارا یار جس پہ جان بھی نثار" دُنیا کے سامنے خود کو ہرگز ایک سخت گیر ریاست کی صورت پیش کرنا نہیں چاہتا۔ چین کی خواہش تو بلکہ اپنے ہاں جاری نظام کو ایک ایسا ماڈل بناکر دکھانا ہے جس کی تقلید ہو تو پورا عالم جدید ترین سڑکوں اور ذرائع نقل وحمل کی بدولت ایک دوسرے سے جڑا نظر آئے۔ روزگار کی فراوانی ہو اور خلقِ خدا زندگی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتی محسوس ہو۔ اپنی ساکھ اور امیج کے بارے میں چینی بہت حساس ہیں۔ وہ اس تاثر سے خوشی محسوس نہیں کرتے کہ محض "بدعنوان افراد" کو چوکوں میں لٹکاکر ان کے ہاں خوش حالی کو یقینی بنایا گیا۔ وہ اپنی ترقی کے دیگر اسباب کے ذکرکو ترجیح دیتے ہیں۔

اپنے "سافٹ امیج" کو برقرار رکھنے کی خاطر ہی چینی صدر ہانگ کانگ میں ہوئے ہنگاموں کو بھرپور فوجی مداخلت کے ذریعے روکنے سے گریز کررہے ہیں۔ انہیں خبر ہے کہ ایسی مداخلت چین میں بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں بے پناہ رکاوٹیں کھڑی کردے گی۔ احتیاطاََ اس امر پر بھی غور کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ چینی معیشت حالیہ برسوں میں بتدریج سست روی کا شکار ہونا شروع ہوچکی ہے۔ امریکہ کے ساتھ اسکی تجارتی جنگ شدید تر ہورہی ہے۔ چین کو لٰہذا نئی منڈیوں کی تلاش ہے۔ اسی باعث بھارت سے تمام تر اختلافات کے باوجود یہ کالم چھپنے کے دوسرے دن چینی صدر نریندرمودی سے "غیر رسمی سربراہی ملاقات" کرنے تامل ناڈ پہنچ جائیں گے۔ وہاں کے ایک تاریخی شہر میں چینی صدر اور بھارتی وزیر اعظم بے تکلف گفتگو میں مصروف رہیں گے۔

چین کیساتھ تجارت میں بھارت کو سالانہ 40 ارب ڈالر سے زیادہ کاخسارہ برداشت کرنا ہوتا ہے۔ ٹرمپ تقریباََ روزانہ کی بنیاد پر اس کا ذکر کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ تجارت میں اپنے ملک کے سالانہ خسارے کے بارے میں ماتم کنائی کرتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ چینی کمپنیاں بھارت میں خطیر سرمایہ کاری کریں۔ اس کے طعنوں کو نظرانداز کرتے ہوئے مودی مگر چینی صدر کی دلجوئی کیلئے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار رہتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ یہ حقیقت بھی یاد نہیں رکھتا کہ فقط چین کے دبائو کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئی برسوں کے بعد 5 اگست 2019 کے روز مقبوضہ کشمیر پر مسلط کئے لاک ڈائون کا ذکر ہوا۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے خلاف چین نے مؤثر انداز میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اسے بھی وقتی طورپر بھلادیا گیا ہے۔

چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو ہم فقط "کرپشن کے خلاف جنگ" تک محدود کیوں رکھیں؟ دونوں ممالک کے تعاون سے باہمی ترقی اور خوش حالی کے نئے امکانات کی تلاش اور اُن کا مسلسل ذکر ہمارے لئے اہم ترین ہونا چاہیے۔

پاکستان کی معاشی ترقی کا خواہش مند ہر شخص جبلی طورپر جانتا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے بغیر ہمارے ہاں رونق لگانا ممکن ہی نہیں۔ غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہمارے وزیر اعظم کو لٰہذا اس ضمن میں ایک متاثر کن Sales Person کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ حالیہ دورئہ نیویارک کے دوران مگر وہ پاکستان میں کرپشن کے خلاف دہائی مچاتے رہے۔ یوں کرتے ہوئے وہ یہ اعتراف بھی کرتے محسوس ہوئے کہ ان کے پاس مبینہ کرپشن کو روکنے کے لئے مناسب اختیارات موجود نہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم خود کو بے بس دکھائیں تو کون غیر ملکی سرمایہ کار ان کے ساتھ گفتگو کے بعد ہمارے ہاں سرمایہ کاری کو تیار ہوگا۔

کرپشن اور بے رحمانہ احتساب کا رونا ہمارے ہاں اکتوبر1999 میں جنرل مشرف کے ٹیک اوور کے بعد بہت شدت سے شروع ہوا تھا۔ کرپشن کا قلع قمع کرنے کے نام پر سخت گیر قوانین متعارف ہوئے۔ دُنیا بھرمیں تسلیم کئے اصولوں کے مطابق کسی ملزم کو ٹھوس ثبوتوں کے ذریعے مجرم ٹھہرانا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ احتساب آرڈیننس نے مگر ملزم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا حتمی ذمہ دار ٹھہرادیا۔ اس کے باوجود بالآخر Plea Bargain کی راہ نکالنا پڑی۔ نیب کی جیلوں میں پھینکے سیاست دان اس کی بدولت بالآخر مشرف کا بینہ کا حصہ بن گئے۔

ہماری معیشت میں رونق احتساب کی بدولت ہرگز نہیں لگی تھی۔ نائن الیون کے بعد امریکہ کو ایک بار پھر پاکستان کے تعاون کی ضرورت محسوس ہوئی۔ نام نہاد "وار آن ٹیرر" نے ہماری معیشت کی لاٹری بھی نکال دی۔ IMF مہربان ہونا شروع ہوگیا۔ ورلڈ بینک نے قرض کے ضمن میں دوستانہ رویہ اختیار کیا۔ 2008 میں لیکن امریکہ نے ہماری نیت پر شکوک وشہبات کا اظہار شروع کردیا۔ اس کے بعد ہماری معیشت سست روی کا شکار ہونا شروع ہوئی۔ نواز حکومت نے CPEC کے ذریعے اس کی رونق بحال کرنے کی کوشش کی۔ اپریل 2016 میں لیکن پانامہ ہوگیا۔ آج ہماری معیشت شدید کسادبازاری کا شکار ہوکر تقریباََ جامد ہوچکی ہے۔ اسے رواں کرنے کی ترکیب دریافت نہیں ہورہی۔

آرمی چیف کو صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے وفود سے طویل گفتگو کرنا پڑتی ہے۔ اس گفتگو میں احتساب کے عمل کو کسادبازاری کا اصل ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ بالآخر صنعت کار عمران حکومت کو قائل کردیتے ہیں کہ کسی صنعت کار یا سرمایہ کار پر ہاتھ ڈالنے سے قبل اس کی "برادری"کی بنائی ایک کمیٹی کے روبرو اس کے خلاف موجود "ثبوت" رکھے جائیں گے۔ برادری اگر قائل ہوجائے تو مشتبہ صنعت کار یا سرمایہ کار کو نیب حراست میں لے کر مزید تفتیش کرے گی۔ افسر شاہی کو مسلسل احتساب سے خوفزدہ نہ ہونے کی تسلیاں دی جارہی ہیں۔ احتساب کے ضمن میں سارا نزلہ لٰہذا اب فقط سیاست دانوں کا مقدر ہوگا۔ اسے گرفتاری کے بعد 90 روز سے پہلے ضمانت پر رہائی کی سہولت بھی میسر نہیں ہے۔ گرفتاری کے کئی مہینے گزرجانے کے باوجود احتساب عدالتوں میں باقاعدہ فرد جرم عائد کرنے کے بعد تعزیراتی کارروائی کا مگر آغاز نہیں ہوتا۔ کسی شخض کو محض شبے کی بنیاد پر کئی مہینوں تک زیرحراست رکھنے کا اختیار رکھتے ہوئے بھی چیئرمین احتساب بیورو اپنے لئے ایسے اختیارات کے خواہش مند ہیں جو سعودی عرب کے ولی عہد کو حاصل ہیں۔ ان سے ہم یہ پوچھنے کی ہمت بھی نہیں دکھاپاتے کہ مثال کے طورپر ابھی تک آپ نے شاہدخاقان عباسی کے خلاف ٹھوس اعتبار سے کیا نکالا ہے۔ میڈیا کی بدولت تو ہمیں ذہنی طورپر تیار کردیا گیا تھا کہ ان کے خلاف ٹھوس بنیادوں پرایک مضبوط کیس موجود ہے۔ اس پر سرعت سے کارروائی کیوں نہیں ہورہی؟

شاہد خاقان عباسی کاروباری اعتبار سے انتہائی کامیاب گردانے ایک گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ 1988سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے۔ نواز حکومتوں میں انہیں اہم ترین مناصب اوروزارتیں ملیں۔ بالآخر اس ملک کے وزیر اعظم بھی ہوئے۔ یہ سابق وزیر اعظم ان دنوں نیب کی حراست میں کئی روز زیرتفتیش رہنے کے بعد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کی سی کلاس میں تقریباََ قید ِتنہائی کاٹ رہے ہیں۔ مجھے خبر نہیں کہ موصوف کو "سبق" سکھانے کے لئے ذلت واذیت کا اور کونسا ہتھکنڈہ اختیار کیا جائے۔

ایف آئی اے کے سربراہ بشیر میمن نے آصف علی زرداری کے خلاف مبینہ طورپر "فیک اکائونٹس" کی بنیاد پر ایک بھاری بھر کم کیس بنایا تھا۔ وہ ان دنوں "رخصت" پر چلے گئے ہیں۔ دسمبر میں ریٹائرہوجائیں گے۔ مجھ سمیت کسی صحافی کو آج تک توفیق نہیں ہوئی کہ قارئین وناظرین کو ان وجوہات سے آگاہ کرے جو بشیر میمن کو "رخصت" پر بھیجنے کا باعث ہوئیں۔ اسلام آباد کے تقریباََ ہر طاقت ور ڈرائنگ روم میں اس "رخصت" کی وجوہات کا ذکر مگر مسلسل ہورہا ہے۔

وزیر اعظم کے ایک معاون شہزاد اکبر مرزا بھی ہوا کرتے تھے۔ "قوم کی لوٹی ہوئی دولت" بیرون ملک سے بارش کی صورت لانے کے دعوے دار تھے۔ مجھ بدنصیب نے ان کی "چورن فروشی" پر سوالات اٹھانے کی حماقت دکھائی تھی۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے نہ جانے وہ کہاں چھپے بیٹھے ہیں۔ ٹی وی سکرینوں پرنظر نہیں آرہے۔ شہزاد اکبر کی پراسرار خاموشی اور گمشدگی کے اسباب کا مناسب تجزیہ ہوجائے تو شاید وزیراعظم صاحب کو اپنی "بے بسی" کا اعتراف کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔ وہ اس ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کیلئے کسی نئے بیانیے کو ہمارے سامنے لانا شروع ہوجائیں۔