/ مہمان کالم / نصرت جاوید / ٹرمپ ثالثی کے لئے تیار تو سو بسم اﷲ

ٹرمپ ثالثی کے لئے تیار تو سو بسم اﷲ

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ ایک لطیفے میں بیان ہوا جنگل کا بادشاہ اور بڑا "جانور" ہے۔ اس کی مرضی، انڈا دے یا بچہ۔

2019 کے آغاز کے ساتھ ہی وائٹ ہائوس کو سمجھ آچکی تھی کہ پاکستان کو On Board لئے بغیر امریکی افواج کی افغانستان سے باعزت واپسی کی راہ نکالنا ممکن نہیں۔ ٹرمپ کو بتایا گیا کہ اگر وہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو اپنے ملک مدعو کرے۔ پاکستان کی اہمیت کا برسرِ عام اعتراف کرے تو افغانستان کے حوالے سے اس کی مشکلات آسان ہوسکتی ہیں۔ وہ قائل ہوگیا۔ سینیٹر لنڈسی گراہم کو پاکستان بھیجا۔ اس نے وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کی۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کیا اور اس سال اپریل کے مہینے سے زلمے خلیل زاد نے پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران عمران-ٹرمپ ملاقات کی ممکنہ "تاریخ" تلاش کرنا شروع کردی۔

وائٹ ہائوس کی شدید خواہش تھی کہ پاکستانی وزیر اعظم کی امریکی صدر سے جون کے آخری ہفتے میں ملاقات ہوجائے۔ عمران خان نے بجٹ کی منظوری سے جڑی مصروفیت کا تذکرہ کرتے ہوئے معذرت چاہی۔ جولائی کے آخری دس دنوں میں سے کسی ا یک کا ذکر کیا۔ 22 جولائی کی تاریخ لہذا پاکستانی وزیر اعظم کی خواہش کے مطابق طے ہوئی۔ اگرچہ زلمے خلیل زاد اور اس کے ساتھ کام کرنے والوں کو خدشہ لاحق تھا کہ اگر عمران-ٹرمپ ملاقات جون میں نہ ہوپائی تو اس کے لئے ستمبر تک انتظار کرنا ہوگا۔ یہ وہ مہینہ ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہوتا ہے۔ دُنیا بھر کے کئی ممالک کے سربراہان اس کے افتتاحی اجلاسوں میں شرکت کے لئے نیویارک جاتے ہیں۔

مزید تفصیلات میں جائے بغیر اس حقیقت کو خطِ کشیدہ کے ذریعے نمایاں کرنا ہوگا کہ 22جولائی کی ملاقات کے لئے پاکستانی وزیر اعظم نہیں امریکی صدر بے تاب تھا۔ اس کی بے تابی کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ ستمبر کے آغاز میں امریکی عوام کو بتانا چاہ رہا ہے کہ اس کی صورت میں نمودار ہوئے حتمی Deal Maker نے افغانستان کا "حل تلاش کرلیا" ہے۔ افغانستان سے اس کی افواج اب "باعزت" انداز میں وطن لوٹیں گی۔ ویت نام والا حال نہیں ہوگا۔ امریکہ کو "ایک اور ویت نام" سے بچانے کے بعد وہ نکسن سے بڑا Statesman ثابت ہوگا۔ افغانستان لہذا 22 جولائی 2019 کے روز ہوئی ملاقات کا بنیادی سبب تھا۔
ٹرمپ لیکن ٹرمپ ہے۔ لطیفے والا "بڑا جانور"۔ پاکستان کے وزیر اعظم کی موجودگی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھارتی وزیر اعظم نے تقریباََ 2ہفتے قبل جاپان کے شہر اوسا کا میں ہوئی ایک ملاقات میں اس سے درخواست کی تھی کہ مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈنے میں اس کی مدد کی جائے۔ پاکستانی وزیر اعظم بھی امریکی صدر سے کشمیر کے حوالے سے "کچھ کرنے" کے خواہاں ہیں۔ ٹرمپ لہذا "ثالثی" کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

امریکی صدر کے کشمیر کے بارے میں ادا کئے ریمارکس کے فوری بعد بھارتی میڈیا چراغ پا ہوگیا۔ اس کی اکثریت کو کامل یقین تھا کہ مودی سرکار کو ٹرمپ کو "جھوٹا" قرار دینے سے قبل سوبار سوچنا ہوگا۔ اس کی سوچ کو جھٹلانے کے لئے بھارتی وزیر خارجہ کے ترجمان نے عمران-ٹرمپ ملاقات ختم ہوتے ہوئے پاکستانی وقت کے مطابق تقریباََ رات کے بارہ بجے ایک بیان جاری کردیا۔

اس بیان میں ٹرمپ کو "جھوٹا" تو نہیں کہا گیا۔ سفارتی زبان میں اگرچہ یہ کہتے ہوئے کہہ دیا گیا کہ بھارتی وزیر اعظم نے اوساکا میں امریکی صدر سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست نہیں کی تھی۔

بھارتی میڈیا اور اپوزیشن مگر اس بیان سے مطمئن نہیں ہوئے۔ ان دنوں بھارتی پارلیمان کا اجلاس جاری ہے۔ وہاں پیش ہوا بجٹ زیر بحث ہے۔ کانگریس نے مگر ایک تحریک التوا پوسٹ کردی۔ مطالبہ ہوا کہ باقی معاملات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے بھارتی پارلیمان کو بتایا جائے کہ وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی یا نہیں۔

پارلیمان میں ممکنہ ہنگامے کے تدارک کے لئے بھارتی وزیر خارجہ منگل کی صبح وہاں کے راجیہ سبھا، جو ہمارے سینٹ جیسا ہے، پہنچ گیا۔ ایک تحریری بیان پڑھتے ہوئے جے شنکر نے ٹرمپ کا نام لئے بغیر اس کے اس دعویٰ کی تردید کی کہ نریندر مودی نے اس سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔ یہ کہنے کے بعد تاشقند اور لاہور میں ہوئے معاہدوں کو یاد دلاتے ہوئے اصرار ہوا کہ پاکستان اور بھارت اپنے مسائل کا حل باہمی مذاکرات کے ذریعے ہی تلاش کرسکتے ہیں۔ اس ضمن میں کسی اور ملک کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔

بھارتی میڈیا اور اپوزیشن اپنے وزیر خارجہ کے اس بیان سے مطمئن نہیں ہوئے۔ اب مطالبہ یہ ہورہا ہے کہ چونکہ امریکی صدر نے بھارتی وزیر اعظم کا نام لیتے ہوئے "ثالثی" کا دعویٰ کیا ہے، اس لئے نریندرمودی ذاتی طورپر اس کی تصدیق یا تردید کرے۔ مجھے خدشہ ہے کہ بھارتی وزیراعظم اس مطالبے کو زیادہ عرصے تک نظرانداز نہیں کر پائے گا۔

نریندرمودی کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ دو ماہ قبل اس نے بھرپور انتخابی مہم کے ذریعے اپنی اپوزیشن کو بری طرح پچھاڑتے ہوئے عام انتخابات جیتے ہیں۔ پلوامہ واقعہ کے بعد ہوئے واقعات کی بنیاد پر وہ یہ بڑھک لگاتارہا کہ اس کی 56 انچ چوڑی چھاتی نے پاکستان کو "سبق سکھادیا"۔ بھارتی اپوزیشن اس کے دعویٰ کو مؤثرانداز میں جھٹلا نہیں پائی۔ اپنی شکست سے بے تحاشہ مایوس ہو کر مودی کو للکارنے کا بے تابی سے کوئی موقعہ ڈھونڈ رہی تھی۔ ٹرمپ نے 22 جولائی کے دن کرکٹ کی زبان میں اسے ایک "لوزبال"دے دیا۔ اپوزیشن اس پر چھکا لگائے بغیر رہ نہیں سکتی۔

ٹرمپ نے مودی کا نام لے کر جو دعویٰ کیا اس کی وجہ سے بھارت میں اُٹھے شوروغوغا نے مجھ جیسے مود ی کے نقاد پاکستانیوں کو یقینا بہت خوش کیا ہے۔ وقتی خوشی سے بالاترہوکر وسیع تر تناظر میں غورکریں تو فکر لاحق ہوتی ہے کہ آئندہ چند دنوں تک پاکستان اور امریکہ یکسوہوکر افغانستان پر توجہ مرکوز نہیں کر پائیں گے۔ انگریزی زبان والا Focus وقتی طورپر افغانستان کے بجائے کشمیر پر Shift ہوگیا ہے۔

مسئلہ کشمیر پر امریکی توجہ اگرچہ ہمارے اطمینان کا باعث ہے کیونکہ 1990کی دہائی سے ہم ثابت قدمی سے دُنیا کو یاد دلارہے ہیں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار ہوجانے کے بعد جنوبی ایشیاء میں دائمی امن قائم ہونے کی کوئی صورت بن نہیں پارہی۔ مودی کی لاہور آمد کے باوجود کارگل ہوا۔ کارگل کے ذمہ دار ٹھہرائے جنرل مشرف بھی مودی اور من موہن سنگھ کی حکومتوں سے "مثبت مذاکرات" کے کئی ادوار کے باوجود مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈ نہیں پائے۔ ان کی رخصتی کے بعد آصف علی زرداری ایوان صدر پہنچے تو ممبئی ہوگیا۔ نواز حکومت بھی اس حوالے سے کوئی ٹھوس پیش قدمی اٹھانہ پائی۔
عمران حکومت کے ابتدائی ایام ہی میں پلوامہ ہوگیا اور اس سال کی فروری میں ہم ایک اور پاک -بھارت جنگ کو بہت مشکل سے ٹال پائے۔ وہ جنگ بھی امریکہ اور دیگر ممالک کی بھرپور مداخلت کے سبب ٹلی تھی۔ جنوبی ایشیاء میں امن کے قیام کے لئے "تیسری قوت" خاص طور پر امریکہ جیسی سپرپاور کی مداخلت لہذا ضروری ہے۔ ٹرمپ ثالثی کے لئے تیار ہے تو سو بسم اللہ۔

تلخ حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ ہندوتوا کے جنون میں مبتلا ہوا آج کا بھارت کھلے دل کے ساتھ تیسری قوت کی مداخلت کی اہمیت کا اعتراف کرنے کی ہمت سے محروم ہے۔ ایسا کرتے ہوئے اس حقیقت کو ڈھٹائی سے بھلادیا جاتا ہے کہ کارگل سے بھارت کی جان صدر کلنٹن نے چھڑائی تھی۔ 2019 کی فروری میں پاک-بھارت جنگ ٹالنے کے لئے امریکہ ہی نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

ٹرمپ کے پیرکے روز ادا کئے ریمارکس کے بعد نریندرمودی نے واضح بیان کے ذریعے امریکی صدر کو "جھوٹا" نہ پکارا تو بھی وہ اپنی ہندوانتہاپسند Baseکے اطمینان کے لئے کشمیری عوام اور پاکستان کے خلاف "جارحانہ" نظر ا ٓنے کی سرتوڑ کوشش کرے گا۔

نظر بظاہر Damage Control کی خاطر اپنائی بھارتی پالیسی یاPosturing افغانستان میں امن کی تلاش کے عمل کو بری طرح متاثر کرسکتی ہے۔ ہمیں وقتی خوشی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بھی آنے والے دنوں میں بہت چوکس رہنا ہوگا۔