1. ہوم
  2. نظم
  3. عادل سیماب
  4. سینٹروفیسا
Adil Seemab

سینٹروفیسا

اندھیروں سے لڑنے نکلی ہو

کانٹوں پر چلنے نکلی ہو

مگر یاد رکھو

جنگ کے بھی اصول ہوتے ہیں

شام سمے جب سورج ڈھلنے لگے

اپنے زخمی اٹھائےلشکری

اپنے پڑاؤ میں لوٹ آتے ہیں

اور شب کی بانہوں میں چھپ کر

اپنے ادھڑے ابدان کے بخیے بنتے ہیں

کہ صبح دم

نئے معرکے میں اتر سکیں

اندھیروں سے لڑنے نکلی ہو

تو ٹھہرو ناں زرا

جنگ کے اصول یاد رکھو

یہاں لوٹ کے اپنے خیمے میں آؤ

میرے سامنے بیٹھو

دیکھو یہ پاؤں تھکن سے ٹوٹ رہے ہیں

میری طرف بڑھاؤ انہیں

میں اپنے ہاتھوں سے سہلاؤں انہیں

انکی پوروں سے تھکن کے کانٹے نکالوں

اور یہ ہاتھ تمہارے

کس دھول میں اٹے ہوئے ہیں

مجھے دو کہ انہیں دھلاؤں میں

مجھے دو کہ انہیں سہلاؤں میں

یہاں میری گود میں سر رکھو

اور لیٹ جاؤ ابھی

دیکھو ضد نہ کرو

میں اپنی نظموں کی لوری سناؤں تمہیں

تمہارے ابروؤں سے ہوتی ہوئی میری انگلیاں

تمہارے بالوں میں دھیرے دھیرے چل رہی ہیں

میں نے ایک ہاتھ تمہاری آنکھوں پر رکھ دیا ہے

ابھی سو جاؤ تم

سپنوں میں کھو جاؤ تم

نئی صبح، نئی جنگ درپیش ہوگی

جنگ کے اصول سمجھو

اندھیروں سے لڑنے نکلی ہو

کانٹوں پر چلنے نکلی ہو۔۔

عادل سیماب

Adil Seemab

عادل سیماب ہزارہ یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات میں گزشتہ چودہ سال سے تدریسی فرئض سرانجام دے رہے ہیں۔ انکی نثری اور آذاد نظموں کا ایک مجموعہ داستان پبلشرز سے بعنوان صدائے دروں شائع ہو چکا ہے اورورل پول کے عنوان سے ایک انگریزی ناول امیزون پر چھپ چکا ہے۔