1. ہوم
  2. نظم
  3. عادل سیماب
  4. احتیاطی فاصلے
Adil Seemab

احتیاطی فاصلے

کسی روٹھے ہوئے خواب کو مناتے پھر سے

اور پھر سے کوئی پیمان وفا کا باندھتے

دل کے آستاں میں کوئی آرزو کا دیا جلاتے

وصل کی تمنا کا کوئی ادھورا خواب

اور سینے میں جاگتی کسی خلش کی تپش

پھر سے تجھے نذر کرتے اے جانِ تمنا مگر

میرے احساس کے جزیروں میں ان دنوں

خزاں موسم کی پت جھڑ کا سماں ہے

سو میں چپ ہوں۔۔

میں جانتا ہوں

اداسیوں کے روگ وباؤں کی طرح پھیلتے ہیں

اور وباؤں کے موسم میں

سماجی فاصلے ضروری ٹھہرتے ہیں

سو میں چپ ہوں۔۔

عادل سیماب

Adil Seemab

عادل سیماب ہزارہ یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات میں گزشتہ چودہ سال سے تدریسی فرئض سرانجام دے رہے ہیں۔ انکی نثری اور آذاد نظموں کا ایک مجموعہ داستان پبلشرز سے بعنوان صدائے دروں شائع ہو چکا ہے اورورل پول کے عنوان سے ایک انگریزی ناول امیزون پر چھپ چکا ہے۔