/ احسن اقبال / سیدنا صدیق اکبرؓ

سیدنا صدیق اکبرؓ

۲۲جمادی الثانی کی تاریخ ہمارے لئے ایک حیثیت سے غم کا دن ہے اور ایک حیثیت سے خوشی کا، غم کی وجہ تو یہ ہے کہ اس تاریخ کو مغرب و عشاء کے درمیان اس دنیا سے اولین جانشین رسولﷺ حضرت سیدنا صدیق اکبر ؓ رہتی دنیا کو مبتلائے غم چھوڑ کر فردوس بریں کی راہ اختیار کر گئے۔ اور خوشی کی وجہ یہ ہیکہ اس روز یار نبی ؐ اپنے نبی کی سپرد کی گئی تمام ذمہ داریاں بوجہ احسن ادا کر کے کلمہ حق کا نعرہ بلند کر کے اپنی خیر و برکت بھری زندگی کو تمام فضائل سے آراستہ کر کے بارگاہ خدا میں جوار رحمت میں پہنچ گئے جس کی تمنا انہیں نبیؐ کے رخصت ہو جانے کے بعد بے چین کئے ہوئے تھی۔
آپ کی پیدائش عام الفیل کے واقعہ سے تقریباً دو سال چار ماہ بعد بمطابق ۳ ؁ ولادت محمدی ۵۷۳؁ء کو مکہ معظمہ میں ہوئی، آپ کانام گرامی عبداللہ، آپ کی کنیت ابو بکر، لقب صدیق اور عتیق ہے۔ والد محترم کا نام عثمان بن ابی قحافہ اور والدہ محترمہ کا نام سلمی ٰ بنت صخر بن عامر، اور کنیت ام الخیر ہے۔ آپؓ کا سلسلہ نسب ساتویں پشت میں آپﷺ کے خاندان مبارک سے جا ملتا ہے۔ آپ نے بالغ مردوں میں سب سے پہلے ایمان لایا اور بلا پس وپیش توحید کو قبول کیا، اسی وجہ سے دربار محمدی سے آپ کو صدیق جیسے معزز لقب سے نوازا گیا۔ آپ کی دیگر بہت ساری خصوصیات کے ساتھ ساتھ آپ کی سیرت مطھرہ کا یہ عالم تھا کہ زمانہ جہالت میں بھی کبھی کوئی گناہ کا کام سرزد نہ ہوا، اس کے علاوہ آپؓ کو یہ شرف بھی حاصل رہا کہ آپؓ کے والدین، صاحبزادے اور پوتے بھی پیغمبرؐ ِخدا کے صحابی ہیں۔ مزید یہ کہ آپ نبی کریمؐ کے پہلے جانشین و خلیفہ تھے، اور دو سال چار ماہ آپ نے خلافت سنبھالی، آپ کی مرویات کی تعداد ۱۴۲ بتائی جاتی ہے۔
آپؓ کو صدیق کہنے کی وجہ تو ذکر ہو گئی لیکن آپ کو عتیق کیوں کہا جاتا ہے اس بارےمیں ذکر ہیکہ کہ آپ کی والدہ کے بچے پیدا ہوتے تو زندہ نہ رہتے تھے، جب آپؓ کی پیدائش ہوئی تو ام الخیر آپ کو گود میں اٹھا کر کعبہ میں تشریف لے آئیں اور دربار خداوندی میں سر جھکا کر دعا فرمائی : خدا وندا یہ بچہ موت سے عتیق (آزاد) رہے، یعنی کہ اس کو زندگی عطا کر، خدا نے اس دعا کو قبول کر لیا، اور آپؓ کو اپنی امان میں پروان چڑھایا اور اسی دن سے آپ کا لقب عتیق پڑ گیا اور اس لقب کی تائید بعد میں آپؐ نے اس طرح فرائی کہ آپؓ کو دوزخ سے عتیق قرار دیا۔ غالبا اسی وجہ سے آپ کے والدین نے آپ کا نام عبد الکعبہ رکھ دیا تھا، جب بعد میں بڑے ہوئے، اور ایمان لائے تو آپؐ نے آپؓ کانام بدل کر عبد اللہ رکھ دیا، بعد میں اسی نام سے آپ مشہور ہوئے۔
اسی طرح آپؓ کو ابو بکر کہنے کی بھی چند وجوہات ہیں ان میں سے ایک وجہ مرآۃ المناجیح اردو شرح مشکوٰۃ المصابیح میں یہ ذکر ہیکہ "ابو" کا معنی عربی زبان میں "والا" سے کیا جاتا ہے جبکہ" بکر" کا معنی ہے "اولیت" ان دونوں الفاظ کا مجموعی معنی ہو گا "اولیت والا" چونکہ ایمان، حجرت، معراج کی تصدیق، جانشین ہونے میں، نبی کے مصلیٰ پر امامت کرانے میں، آپؐ کی وفات کے بعد وفات میں، اور قیامت کے بعد قبر کھلنے اور اس کے علاوہ بہت سے امور میں آپ اول ہی ہیں، اسی وجہ سے آپؓ کو ابو بکر کہا جاتا ہے۔
آپؓ کی نشو نما سواد مکہ میں ہوئی، اور خاک بطحیٰ پر ہی آپ پلے بڑھے، آپ دولتمند گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ایک تاجر بھی تھے۔ اللہ کے رسولؐ سے آپؓ کی دوستی بچپن ہی سے تھی، اکثر ان کے ساتھ ہی رہا کرتے تھے۔ ایک دفع جب نبی کریم ؐ کی عمر مبارک ۲۰ اور صدیق اکبرؓ کی عمر ۱۸ سال تھی، دونوں تجارت کی غرض سےملک شام کی طرف گئے، شام میں داخل ہونے کے بعد ایک دن آپؐ بیری کے سائے کے نیچے ٹھہرے، اور صدیق اکبرؓ کسی غرض سے وہاں کے مشہور راحب بحیرؔہ کے پاس گئے۔ اس نے پوچھا کہ اس بیری کے درخت کے نیچے کون ہے۔ ۔؟ اس پر آپؓ نے جواب دیا کہ یہ "محمدؐ بن عبداللہ" ہیں۔ تو اس نے کہا کہ یہ یقیناً پیغمبر خدا ہیں، اس لئے کہ اس درخت کے نیچے ہماری روایتوں کےمطابق یا تو حضرت عیسیؑ ٹھہرے تھے یا نبیؐ آخرالزماں ٹھہریں گے۔ اس کی یہ بشارت سنتے ہی آپؓ بعثت سے ۲۰ سال قبل ہی رسالت محمدی پر ایمان لے آئے، اور اس وجہ سے سابق الاسلام تسلیم کیے گئے۔
خدا تعالی نے آپ کو فطری طور پر نر م دل، اور انسانیت کے لئے ہمدرد پیدا کیا تھا، آنکھوں میں مروت، دل درد مندی سے بھرا ہوا تھا۔ کبھی کسی کو مصیبت میں نہ دیکھ سکتے تھے، ابتداء میں مسلمانوں میں بہت سارے غلام اور باندیاں بھی شامل تھیں، ان غریبوں کے آقا اس جرم میں ان کو طرح طرح سے ستایا کرتے تھے، یہ سارا ظلم صدیق اکبرؓ کے لئے بڑا تکلیف دہ تھا اسی وجہ سے بہت سےمظلوموں کو مہنگے داموں خرید کر آزاد کر دیا۔ اور سخاوت کا یہ عالم تھا کہ دین اسلام کے کام میں اپنا پیسہ پانی کی طرح بہایا کرتے ایک دفعہ یہ خبر ملی کہ دشمن مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جس پر آپؐ تمام مسلمانوں کو بلا کر اس بات سے آگاہ کیا۔ جس کی جتنی گنجائش تھی وہ لا کر آپؐ کی خدمت میں پیش کر دیا، ادھر صدیق اکبر نے اپنے گھر کا تمام ساز وسامان لا کر آپؐ کے قدموں میں ڈال دیا، رسولؐ خدا نے پوچھا : اے صدیق۔ ۔ ! اپنے بال بچوں کے لئے بھی کچھ چھوڑا۔ ۔؟ تو فرمانے لگے کہ ہمارے لئے تو خدا اور اس کا رسول کافی ہے، یعنی یہ ہمارے ہیں تو ہمیں کسی چیز کی کوئی ضرورت نہیں، اسی وجہ سے تو میرے پیارے آقاؐ نے فرمایا کہ صدیقؓ کے مال سے اسلام کو جتنا نفع پہنچا ہے اتنا کسی کے مال سے نہیں پہنچا۔
حضرت صدیق اکبرؓ غریبوں کی خبر گیری کرتے، اور محتاجوں کا پیٹ پالا کرتے تھے۔ آپ کا شمار قریش کے اکابرین میں ہوتا تھا، آپ بڑے معاملہ فہم بھی تھے، دارالندوہ میں جب کبھی کوئی اہم مسئلہ پیش آیا کرتا آپ کی رائے کی بڑے وقعت سمجھی جاتی تھی۔ خدمت کا جذبہ ایسا تھا کہ ہر وقت تاک میں رہتے تھے اور ایسے موقعوں کو کبھی ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔ جب رسول خدا کے خلیفہ بنے تو محلے کی عورتوں نے کہا کہ اب ہماری بکریاں کون دوہے گا۔ ۔؟ آپؓ نے یہ سنا تو فرمانے لگے میں خود دوہوں گا، خلافت کے کام مجھے لوگوں کی خدت سے نہیں روک سکتے۔ خدا کے بندوں کی خدمت بھی ایک عبادت تھی لیکن خلافت کی بوجھل ذمہ داریوں کے باوجود ان کی راتیں رب ذوالجلال کے سامنے سجدوں میں گڑ گڑاتے ہوئےگزرا کرتی تھیں۔
خشیت الہی اور قیامت کے خوف سے کانپ اٹھتے تھے، کسی ہرے بھرے درخت پر نظر پڑتی تو کہنے لگتے کہ کاش میں اس درخت کی طرح ہوتا کہ قیامت کے خوف سے بچ جاتا۔ چہچہاتی چڑیوں پر نظر پڑتی تو ٹھنڈا سانس لے کر فرماتے ہے اے چڑیو۔ ۔ ! مبارک ہو تمہیں اس دنیا میں بھی چہچہاتی ہوئی درختوں کے سائے تلے پھرتی ہو، اور قیامت میں بھی تمہارا کوئی حساب نہ ہوگا، کیا اچھا ہوتا جو ابو بکرؓ بھی تمہارے جیسا ہوتا۔
صدیق اکبرؓ کے امت مسلمہ پر بے شمار احسانات میں سے یہ ایک یہ بھی ہے کہ آپ ہی کی کاوش سے قرآن مرتب و محفوظ ہوا۔ اگرچہ یہ بات مسلم ہیکہ کہ قرآن کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہے، اس سلسلے میں اللہ نے اپنی رحمت کو جس ہستی کے ذریعہ ظاہر کیا وہ صدیق اکبرؓ ہی ہیں، قرآن مجلد نہ تھا، اس کی آیات منتشر تھیں، کچھ مختلف اشیاء پر لکھیں ہوئی تھیں اور کچھ حفاظ صحابہ کرام کے سینوں میں محفوظ تھیں۔ جب مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ یمامہ میں بہت سے حفاظ صحابہ بھی شہید ہو گئے تو عمر فاروق ؓ کے دل میں یہ خیال گزرا، اگر صحابہ شہید ہوتے رہے تو قرآن کو یکجا کرنا مشکل ہو جائے گا، جب انہوں نے یہ بات صدیق اکبر ؓ کے سامنے رکھی تو وہ فرمانے لگے آپ کا اندیشہ تو بجا ہے لیکن ایک کام جو خود نبیؐ نے نہیں کیا وہ میں کیسے کر سکتا ہوں۔ پھر حضرت عمرؓ نے کہا جو بھی ہو لیکن یہ کام خدا کی قسم اچھا ہے۔ یہاں تک اسرار کیا کہ صدیق اکبرؓ کے دل میں یہ بات کھٹکنے لگی، اس پر آپؓ نے زید بن ثابتؓ جو ایک مستند قاری تھے ان سے اس بارے میں اظہار خیال کیا تو انکا جواب بھی یہ ہی تھا کہ ایک کام جو خود نبیؐ نے نہیں کیا وہ میں کیسے کر سکتا ہوں۔ لیکن آپؓ کے اسرار پر ان کو بھی اس کی ضرورت محسوس ہونے لگی، اور اس کام کے لئے آمادہ ہوگئے اور تمام متفرق جگہوں سے کتاب اللہ کو قلمبند کر لیا، یوں یہ عظیم کام حضرت صدیق اکبرؓ کے دور میں پایا تکمیل تک پہنچا۔ اور پھر حضرت عثمانؓ کے دور میں مختلف قبائل کا آپس میں مختلف لہجوں میں قراءت کرنے میں اختلاف ہو گیا تو حضرت عثمانؓ نے اسی نسخہ کو منگوا کر قریش کے محاوروں اور لہجے کے مطابق تصحیح کی، اور لغت قریش کو معیار قرار دے کر اس اختلاف کو دور کیا اسی تصحیح کی وجہ سے ان کو جامع قرآن کہا جاتا ہے ورنہ قرآن کی آیات کے پہلے محافظ اورمرتب کرنے والے صدیق اکبرؓ ہی ہیں۔
جب آخری وقت آیا تو آپؓ کی صاحبزادی حضرت عائشہؓ نے چاہا کہ آپ کچھ نصیحت فرمائیں۔ تو کہنے لگے : بیٹی۔ ۔ ! آج میں اپنا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں گا، اگر خوشی ہوئی تو دائمی ہوگی، اور اگر غم ہوا تو وہ بھی دائمی ہوگا۔ خدا گواہ ہے میں نے اپنے تن کو نہیں پالا، ہاں مسلمانوں کے برتنوں میں کھایا ہے، ان کی اونٹنی کا دودھ پیا ہے، کمر سیدھی کرنے کی خاطر ان کے رزق میں شریک بھی ہوا ہوں لیکن میں نے حرص سے کام نہیں لیا نہ غرور میں مبتلا ہوا ہوں، نہ دولت جمع کی، نہ ہی میں اترایا، میں نے بھوک سے زیادہ نہیں کھایا، تن ڈھانکنے سے زیادہ نہیں پہنا۔ خدا میری بھوک کو خوب جانتا ہے جس سے دل بیٹھ جاتا، میں نے تو ان کا رزق ایسی حالت میں کھایا جو بھوکے کو حرام کھانے پر آمادہ کرتی ہے۔ دیکھو میں مر جاؤں تو بیت المال کا یہ پیالہ، اونٹنی، غلام، چکّی، میرے اوپر کا یہ لحاف، یہ بچھونا غرض مسلمانوں کی یہ سب چیزیں واپس کر نا اور عمرؓ کے پاس بھیج دینا۔ حضرت عائشہؓ نے آپ کی وفات پر یہ تما م چیزیں جب حضرت عمرؓ کی طرف بھیجیں تو وہ اتنے روئے کہ آنسو زمین پر بہنے لگے۔ بار بار فراتے تھے کہ "ابو بکرؓ پر خدا کی رحمت ہو، اپنے بعد والوں کو مشقت میں ڈال گئے"۔ اور تن کے کپڑوں کے بارے میں فرمایا "انہی کپڑوں کو دھو لو اور دو کپڑے مزید ملا کر کفن دینا۔ لخت جگر فرمانے لگیں ابّا جان خدا نے ہمیں اتنا دیا ہے کیوں نہ ہم آپ کو نئے کپڑے میں کفن دیں۔ فرمانے لگے نہیں بیٹی، نئے کپڑے کی ضرورت تو زندہ کو ہوتی ہے، مردہ تو گلنے سڑنے اور پیپ پڑنے کے لئے ہے، پھر فرمانے لگے کہ میں مر جاؤں تو تو دفن کل پر مت چھوڑنا۔ ایک روز مرض الموت میں باہر آئے اور لوگوں سے خطاب کیا : اے لوگو۔ ۔ ! میں نے تمہارے اوپر ایک شخص کو حاکم بنایا ہے، حضرت علیؓ یہ سن کر فرمانے لگے اگر وہ حاکم حضرت عمر فاروق ؓکے علاوہ کوئی ہے تو ہمیں تسلیم نہیں۔ صدیق اکبرؓ نے فرمایا وہ عمر ؓ ہی ہیں۔ یوں جاتے جاتے حضرت عمر فاروقؓ کو اپنا جانشین منتخب کر کے عالم اسلام پر ایک احسان عظیم کر گئے۔ آپ کی وفات ۶۳ سال کی عمر میں ۲۲ جمادی الثانی ۱۳ ؁ھ کو ہوئی۔ آپ کی وصیت کے مطابق آپ کی اہلیہ محترمہ حضرت اسماء ؓبنت عمیس نے آپ کو غسل دیا، اور نماز جنازہ خلیفہ دوم حضرت عمر فارق نے پڑھائی۔
قارئین کرام۔ ۔ ۔ ! کسی انسان کی طاقت میں نہیں کہ اس عظیم ہستی کے کما حقہ مناقب و فضائل ذکر کر سکے جس کے بارے میں میرے آقاﷺ نے فرمایا : کہ ابو بکر صدیق ؓ کا بدلہ اس کا خدا ہی دے گا۔ اسی لئے میرا قلم اس سطر کو لکھنے پر مجبور ہے:
بعد از انبیاء بزرگ تو ہی قصہ مختصر