1. ہوم
  2. غزل
  3. اختر شمار
  4. ذرا سی دیر تھی بس اک دیا جلانا تھا
Akhtar Shumar

ذرا سی دیر تھی بس اک دیا جلانا تھا

ذرا سی دیر تھی بس اک دیا جلانا تھا
اور اس کے بعد فقط آندھیوں کو آنا تھا

میں گھر کو پھونک رہا تھا بڑے یقین کے ساتھ
کہ تیری راہ میں پہلا قدم اٹھانا تھا

وگرنہ کون اٹھاتا یہ جسم و جاں کے عذاب
یہ زندگی تو محبت کا اک بہانہ تھا

یہ کون شخص مجھے کرچیوں میں بانٹ گیا
یہ آئنہ تو مرا آخری ٹھکانہ تھا

پہاڑ بھانپ رہا تھا مرے ارادے کو
وہ اس لیے بھی کہ تیشہ مجھے اٹھانا تھا

بہت سنبھال کے لایا ہوں اک ستارے تک
زمین پر جو مرے عشق کا زمانہ تھا

ملا تو ایسے کہ صدیوں کی آشنائی ہو!
تعارف اس سے بھی حالانکہ غائبانہ تھا

میں اپنی خاک میں رکھتا ہوں جس کو صدیوں سے
یہ روشنی بھی کبھی میرا آستانہ تھا

میں ہاتھ ہاتھوں میں اس کے نہ دے سکا تھا شمارؔ
وہ جس کی مٹھی میں لمحہ بڑا سہانا تھا