/ مختصر / علی اصغر / انوسٹمنٹ

انوسٹمنٹ

ہم میں سےہر ایک کبھی نا کبھی اپنے بیڈ کے لئےمیٹریس خریدنے ضرورگیا ہو گا، دکان پہ جاتے ہی دکاندار سے کہتے ہیں بھائی کوئی اچھا سا میٹریس دکھا دیں جو جلدی بیٹھ نا جائے دکاندار کئی قسم کے گدے دکھاتا ہے کسی کی گارنٹی دس سال تو کسی کی پندرہ سال اور بیس سال والےبھی دکھاتا ہے لیکن بیس سال والے کی کوالٹی اچھی ہونے کے ساتھ ساتھ قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے، ہم دکاندار سے دس سال والے گدے کی مناسب قیمت لگانے کی ضد کرتے ہیں جواب میں دکاندار کہتا ہے بھائی صاحب آپ نے رات کو آرام کرنے کے لئے لینا ہے تو اچھی چیز لیں ایک دفعہ اچھی انوسٹمنٹ کریں اور بیس سال آرام سے سوئیں اور آخر میں ہم دکاندار کی بات مان کر مہنگے والا میٹریس خرید لیتے ہیں تا کہ ہم آرام سے سو سکیں۔ 

جس میٹریس پہ شائد ہمیں سونا نصیب ہونا بھی ہوتا کہ نہیں بیس سال تک ہم زندہ رہیں گے بھی کہ نہیں اک پل کا بھروسہ نہیں اس کے لئے ہم اتنی سوچ بچار کرتے ہیں اور منہ مانگی قیمت پہ اس غرض سے خریدتے ہیں کہ ہم آرام سکون سے سو سکیں لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ جس جگہ پہ ہم نے تن تنہا ہمیشہ کے لئے سونا ہے کیا ہم نے اس کے لئے انوسٹمنٹ کر رکھی ہے یا کر رہے ہیں؟ 

ہم سب کے لئے سوچنے کا مقام ہے۔ ۔ ۔ ۔