Wednesday, 13 November 2019
/ مختصر / علی اصغر / یادِ خُدا

یادِ خُدا

ہمارا گھر شہر سے ہٹ کر ہے گھر کے پاس کھیت ہیں اور آم اور مالٹے کے باغات ہیں جس وجہ سے ہمارے گھر کی چھت پہ بہت زیادہ پرندوں کی آمد و رفت رہتی ہے چھوٹی چھوٹی چڑیاں تو بہت زیادہ آتی ہیں اور کچھ تو میری بیٹی فاطمہ کی اتنی دوست بن گئی ہیں کہ اس کے آس پاس آکر بیٹھ جاتی ہیں وہ پکڑ بھی لے تو اڑتیں نہیں۔
چونکہ آج کل شدید گرمی ہے تو پرندے پانی کی تلاش میں ہمارے گھر میں لگی پانی کی ٹونٹی سے پانی پینے کی کوشش کرتے ہیں یہ دیکھ کر بازار سے مٹی سے بنا ایک برتن لے آیا، اب گھر کی دیوار پہ ٹھنڈا پانی بھر کر رکھ دیتے ہیں باری باری سب پرندے پانی پی جاتے ہیں۔
کچھ دن پہلے رات آندھی آئی صبح جب برتن میں پانی ڈالنے گیا تو برتن غائب تھا دیکھا تو نیچے گرا پڑ تھا اور مٹی سے اٹا پڑا تھا برتن اٹھا کر صاف کیا دوبارہ پانی بھر کر رکھ دیا سوچا کہ ایسا کیا انتظام کیا جائے کہ دوبارہ نہ گرے تو فیصلہ یہ کیا کہ برتن کو ہمیشہ پانی سے بھر کر رکھا جائے بھاری ہوجائے گا توخودبخود دیوار پہ ٹکا رہے گا۔
بس ایسا ہی ہمارے دلوں کا بھی یہی معاملہ ہے، اللہ کی یاد سے بھرا رہے تو کبھی گرتا نہیں، کبھی گھبراتا نہیں، چاہے زمانے کی کتنی بھی تیز ہوا چلے۔ لیکن اللہ کی یاد نہ ہو تو فوراً گِر جاتا ہے گناہوں کی مٹی سے اَٹ جاتا ہے، اور گمراہی کے راستوں پر بھٹکتا پھرتا ہے۔ 
الا بذکراللہ تطمئن القلوب