1. ہوم
  2. غزل
  3. ڈاکٹر ابرار ماجد
  4. اب تو ڈر لگتا ہے
Dr. Abrar Majid

اب تو ڈر لگتا ہے

کچھ بھی کہنے سے
اپنا گھر بھی دشمن کا گھر لگتا ہے

چاہا تو بہت نہ کھولوں لب اپنے
پر منافقت اب یہ صبر لگتا ہے

قاضی، ملاں، محافظ ہو یا کوئی صحافی
ہر کسی کی باتوں میں شر لگتا یے

جلا کر رکھ دیا ہے میرے چمن کو
بے حسی کو تیری جو بدل لگتا ہے

درندوں کو بھی دے گیا ہے مات
دیکھنے میں جو مانند بشر لگتا ہے

شاید بدل گیا ہے قیامت کا تصور
اب تو ہر روز یوم حشر لگتا ہے