برسات کی پہلی بارش ہوتے ہی مجھے ہمیشہ "بی بی" اور "بانو" یاد آ جاتے ہیں۔
پہلی بوند گرتے ہی بی بی پورا گھر سر پر اٹھا لیتیں۔
ارے بانو! بانو! کہاں ہو؟ جلدی آؤ، پکوڑے بناؤ۔
بانو کچن سے جھنجھلاتے ہوئے جواب دیتی۔
"بی بی، آپ نے تو صرف ایک پکوڑا ہی کھانا ہوتا ہے اور مجھے پورا ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ آپ ہمیشہ ایسا ہی کرتی ہیں۔ شوق سے بنواتی ہیں، مگر خود کھاتی ہی نہیں"۔
بی بی ہنس کر کہتیں۔
"بانو، جتنا میرا دم ہے، اتنا ہی تو کھاؤں گی نا۔ بس، میرے لیے پکوڑے بنا دو۔ "
"بانو، تجھے تو معلوم ہے نا، حمید کو پکوڑے کتنے پسند تھے۔ بارش شروع ہوتے ہی شور مچا دیتا تھا، "امی! جلدی پکوڑے بنائیں"۔ کتنے شوق سے کھاتا تھا"۔ چند لمحے خاموش رہ کر بی بی دور کہیں دیکھنے لگتیں، پھر آہستہ سے کہتیں۔
"اب وہاں اس کے لیے پکوڑے کون بناتا ہوگا؟ نصرت تو خود نوکری کرتی ہے۔ ویسے بھی اسے تو کوئی سلیقہ ہی نہیں، بس سجنا سنورنا آتا ہے"۔
اور بی بی کی آنکھوں میں برسوں کی جدائی خاموشی سے برسنے لگتی، دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور محبت سے بولتیں۔
"ہائے میرا حمید! میں صدقے، میں قربان"۔
بانو ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہتی۔
"بی بی، یوں کہہ دیجیے نا کہ آپ کو حمید بھائی کی یاد آ رہی ہے"۔
بی بی نے اپنی نمی بھری آنکھیں چھپا کر بولتی۔
"چل، یہی سہی، لا مجھے پیاز دے، میں کاٹتی ہوں"۔
چند لمحے خاموش رہ کر دل کا بوجھ ہلکا کرنے لگتیں۔
"تجھے کیا پتا، بانو۔۔ میں کیسے پانچ سال پورے ہونے کا انتظار کر رہی ہوں۔ بس یہ پانچ سال گزر جائیں، میرے حمید کو شہریت مل جائے گی، پھر وہ واپس آ جائے گا"۔
بی بی کی آواز بھرّا گئی۔
"میں آج بھی روز اس کی ساری کتابیں اور قلم صاف کرتی ہوں۔ سب کچھ ویسے ہی سنبھال کر رکھا ہے۔ ان چیزوں کو دیکھتی ہوں تو مجھے اپنا بیٹا یاد آ جاتا ہے"۔
پھر بانو کی طرف دیکھ کر بولتیں۔
"تجھے کیا معلوم، ماں اور بیٹے کا رشتہ کیا ہوتا ہے"۔
بانو ہلکے سے طنز میں جواب دیتی۔
"ہاں ہاں، ماں بیٹے کا رشتہ تو نہیں جانتی، لیکن میاں بیوی کا رشتہ ضرور جانتی ہوں۔ آخر حمید بھائی بھی تو بیوی کے کہنے پر اچھی بھلی نوکری چھوڑ کر دیارِ غیر جا بسے"۔
بی بی فوراً بات کاٹ دیتں۔
"نہیں بانو، نہیں۔۔ میرا حمید ایسا نہیں ہے۔ وہ تو صرف گھر کے حالات بہتر کرنا چاہتا تھا۔ وہ ضرور واپس آئے گا، تم دیکھ لینا"۔
پھر جیسے خود کو بھی یقین دلانے لگتیں۔
"میرا حمید تو بہت بھولا ہے۔ اس نے دیکھا کہ باہر پیسے زیادہ ملتے ہیں، اسی لیے چلا گیا۔ ورنہ وہ کبھی نہ جاتا۔ وہ تو اپنا گھر، اپنا شہر، اپنی ماں چھوڑ کر رہ ہی نہیں سکتا تھا"۔
یہ کہتے ہوئے بی بی کی نظریں صحن میں برستی بارش پر جم گئیں۔ شاید وہ بارش کی ہر بوند میں اپنے حمید کے قدموں کی آہٹ سن رہی تھیں اور دل ہی دل میں ایک ہی دعا دہرا رہی تھیں:
"یا اللہ۔۔ میرا بیٹا جلد لوٹ آئے"۔
خانہ خراب ہو اس ہوائی جہاز کا، برا ہو اس جہاز بنانے والے کا، جس نے میرے بچے کو مجھ سے دور کر دیا۔ بھلا یہ جہاز بنتا ہی نہ تو بچے اپنی ماؤں سے دور کیسے جاتے؟ شلّا کیڑے پڑیں اس ہوائی جہاز بنانے والے کو!"
بانو مسکرا کر بی بی کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتی۔
"واہ بی بی! بیٹے کو تو کچھ نہیں کہنا، ساری بددعائیں جہاز بنانے والے کو دے رہی ہیں"۔
بی بی فوراً بول اٹھتیں۔
"ارے نہیں، میرے حمید کو کچھ نہ کہنا۔ وہ تو میرا جگر کا ٹکڑا ہے"۔
یہ کہتے کہتے ان کی آنکھیں بھر آتیں۔ وہ چپکے سے آنسو پونچھ لیتیں۔
بانو ان کے قریب بیٹھ کر کہتی۔
"بی بی، دل چھوٹا نہ کریں۔ اللہ خیر کرے گا۔ حمید بھائی جلد آ جائیں گے۔ ان کی امیگریشن مکمل ہو جائے گی"۔
بی بی کے چہرے پر امید کی ایک ہلکی سی کرن ابھرتی۔
"ہاں بانو، حمید کہتا ہے"، بی بی، میرا مستقبل بن جائے گا۔ "اللہ میرے بچے کو سو سال کی عمر دے"۔
یہ گفتگو ہفتے میں کم از کم ایک بار ضرور ہوتی۔ بی بی ہمشہ ہوائی جہاز بنانے والے کو کوستیں، لیکن بیٹے کی خواہش کو جائز قرار دیتیں اور بانو ہر بار اپنا سر پکڑ کر رہ جاتی۔
یوں ہی دیکھتے ہی دیکھتے چار سال گزر گئے۔
مگر بی بی کے لیے وہ چار سال، چار صدیاں تھے۔
وہ زمانہ موبائل فون کا نہیں تھا۔ محلے میں صرف ایک گھر میں ٹیلی فون تھا اور جب بھی گھنٹی بجتی، آدھا محلہ خبر سننے جمع ہو جاتا۔
پندرہ پندرہ دن بعد حمید کا ایک خط آتا۔
بی بی وہ خط بار بار سنتیں۔ بانو ہر لفظ پڑھتی اور بی بی ہر جملہ اپنے دل میں اتار لیتی۔ کبھی خط کو سینے سے لگاتیں، کبھی حمید کی لکھائی پر انگلیاں پھیرتیں، جیسے اپنے بیٹے کے ہاتھوں کو چھو رہی ہوں۔
بانو محلے کے اسکول میں پڑھاتی تھی۔
حمید انجینئر بننے کے بعد اپنی بیوی، نصرت اور بچوں کے ساتھ دیارِ غیر جا بسا تھا۔ جاتے ہوئے اس نے بی بی سے وعدہ کیا تھا۔
"بی بی، جیسے ہی مجھے اس ملک کی شہریت ملے گی، میں بار بار آپ سے ملنے آیا کروں گا"۔
اسی وعدے پر بی بی زندہ تھیں۔
بانو نے اپنی زندگی بی بی کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی اور حمید کے لیے یہ کافی تھا کہ اس کی ماں اکیلی نہیں ہے۔
لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
عیدالاضحیٰ سے چار دن پہلے محلے میں فون آیا۔
بانو دوڑتی ہوئی فون سننے پہنچی۔
دوسری طرف نصرت تھی۔
وہ زاروقطار رو رہی تھی۔
"بانو۔۔ تمہارا بھائی۔۔ چلا گیا۔۔ "
بانو ایک لمحے کے لیے کچھ نہ سمجھ سکی۔
"کہاں چلا گیا، بھابھی؟"
نصرت نے روتے ہوئے کہا۔
"حمید کو دل کا دورہ پڑا تھا اور وہ جان لیوا ثابت ہوا"۔
بانو کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
ایسا لگا جیسے پوری دنیا ایک ہی لمحے میں اندھیرے میں ڈوب گئی ہو۔
محلے والوں نے سسکتی ہوئی بانو کو سہارا دے کر گھر پہنچایا۔
بی بی صحن میں بیٹھی اس کی راہ دیکھ رہی تھیں۔
جیسے ہی بانو نے خبر سنائی، بی بی بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔
ماں بیٹی کی فریادوں سے پورا محلہ گونج اٹھا۔
رشتے دار جمع ہوتے گئے، کچھ دیر بعد نصرت کا دوبارہ فون آیا۔
"حمید کا تابوت میں نے ہوائی جہاز پر روانہ کر دیا ہے۔ دو دن تک پاکستان پہنچ جائے گا"۔
نصرت اور بچے نہیں آئے کیونکہ ابھی شہریت ملنے میں کچھ عرصہ درکار تھا۔
بانو دودن کے بعد ائیرپورٹ گئی۔
جس ہوائی جہاز سے کبھی بی بی اپنے بیٹے کی واپسی کا انتظار کرتی تھیں، اسی جہاز سے آج ان کے بیٹے کا تابوت آیا تھا۔
بانو اپنے بھائی کو لکڑی کے ایک بند صندوق میں گھر لے آئی۔
بی بی کی چیخیں سن کر ہر آنکھ اشکبار تھی۔
وہ تابوت سے لپٹ کر بین کرنے لگیں۔
"ہائے نصرت! میں نے تو تمہیں سونا دیا تھا، تم نے مجھے مٹی واپس بھیج دی۔ تم نے میرے حمید کو اکیلے ایک ڈبے میں بند کرکے بھیج دیا۔ تمہیں مجھ پر ذرا بھی ترس نہ آیا؟"
بی بی کی سسکیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔
اور بانو۔۔
وہ خاموش کھڑی تھی۔
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر دل ایسے تھا جیسے کسی نے بے رحمی سے چیر کر رکھ دیا ہو۔
اس دن کے بعد بی بی نے کبھی ہوائی جہاز کو برا نہیں کہا۔
کیونکہ اب وہی ہوائی جہاز ان کے حمید کو ہمیشہ کے لیے واپس لے آیا تھا۔