1. ہوم
  2. غزل
  3. فرحت عباس شاہ
  4. جو جھوٹ موٹ نہیں ہیں قلم اٹھائے ہوئے
Farhat Abbas Shah

جو جھوٹ موٹ نہیں ہیں قلم اٹھائے ہوئے

جو جھوٹ موٹ نہیں ہیں قلم اٹھائے ہوئے
گھروں سے آئیں گے باہر علم اٹھائے ہوئے

ہمارے میں سے جو شاعر نہیں جگاڑئیے ہیں
وہ ہرجگہ پہ ملیں گے رقم اٹھائے ہوئے

ہیں ایک آپ کہ تھکتے نہیں اٹھاتے مفاد
اور ایک ہم ہیں جو اب تک ہیں غم اٹھائے ہوئے

یہ صاف بات ہے، واپس کبھی نہیں رکھے
ہمارے جیسے کسی نے قدم اٹھائے ہوئے

یہ کون پھر سے نیا ظلم ڈھانے آیا ہے
ابھی تو پل نہیں گزرا ستم اٹھائے ہوئے

یہیں جہاں پہ بہت ظلم ڈھانے والے ہیں
یہیں ملے گا خدا بھی کرم اٹھائے ہوئے

ہمارے جیسوں کی تقدیر بھی بدلتی نہیں
میں اب بھی پھرتا ہوں پچھلا جنم اٹھائے ہوئے

یہاں سے گزرا ہے اِک شاعرِ شکستہ سخُن
کئی زمانوں کا رنج و الم اٹھائے ہوئے

تمہارے وعدوں پہ بھی گرد پڑ گئی فرحت
ہمیں بھی عرصہ ہوا ہے قسم اٹھائے ہوئے