/ مہمان کالم / ارشاد بھٹی / گلاں ای گلاں!

گلاں ای گلاں!

ٹھنڈ پڑ جائے ملکی حالات، عوامی اوقات اور قائدین کی ذہنی بساط دیکھ کر، سینے میں برف کے بلاک لگ جائیں گھر گھر ناچتی بھُک ننگ اور اشرافیہ کی موجیں دبنگ دیکھ کر، ایک ایک شاخ پر کئی کئی اُلّو، ہر بندر کے ہاتھ میں دو دو استرے، خود ساختہ لیڈران کی حالت یہ، آکسفورڈ کے پڑھے لکھے بلاول بھٹو کی زبان ایسی، ’پھکڑ بازوں، کے پسینے چھوٹے ہوئے، طعنے، معنے، جگتیں، عجیب وغریب القاب، زرداری صاحب سے کہا گیا "آپ کے خلاف ایک اور ریفرنس دائر ہو گیا" بولے "الحمدللہ" الحمدللہ سنتے ہی حسین نواز یاد آگئے، بدنصیبی دیکھئے کہ الحمدللہ سن کر خیال کیا آنا چاہئے اور خیال کیا آجائے، میاں برادران کا سب کچھ سب کے سامنے، کچھ کہنے، سننے کی گنجائش ہی نہیں، پارلیمنٹ کا جو حشر پارلیمنٹیرین کر رہے خود پارلیمنٹ شرمائی ہوئی، عوام کے کیا کہنے، اسی کو کندھوں پہ بٹھا کر جیل چھوڑنے گئے جس نے انہیں لوٹا، میڈیا کی سن لیں، 10 بڑے چینلز پونے دو گھنٹے اس پر لگا دیں "وہ دیکھو نواز شریف جیل جانے کیلئے گھر سے باہر آ گئے"، دانشوروں کاحال یہ، بحثیں ہو رہیں "ریلی میں کتنے آدمی تھے" بہت سے تو اس امید کے ساتھ گھنٹوں ٹی وی اسکرینوں سے چمٹے رہے کہ کرپشن پر سزا یافتہ، نااہل مجرم جیل جاتے جاتے ’انقلابِ مزاحمت، ووٹ کو عزت دو کا کوئی نیا سبق پڑھا، سِکھا جائے گا، سجان اللہ! کیا دیوالیہ پن ہے، تبدیلی کا سنتے جائیں، ترجمانی فردوس عاشق کے سپرد، پارلیمانی امور اعظم سواتی کے ہاتھ میں، آدھا پاکستان عثمان بزدار کے رحم و کرم پر، اللہ اللہ خیر صلا! قوم بھی کمال کی، ڈبل شاہوں پر پھول نچھاور ہو رہے، جیرے بلیڈوں کو سونے کے تاج پہنائے جا رہے، ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسوایا جا رہا اور توقع کوئی معجزہ ہوگا، حالات بدلیں گے، اچھے دن آئیں گے، پکاتے رہو خیالی پلاؤ، جب تک خیالی پلاؤ پر ٹیکس نہیں لگ جاتا۔ 

چونکہ کوئی کام کرنے کا ہے نہیں، فراغت ہی فراغت، لہٰذا ہر گھر، گلی محلے، چوک پر بھانت بھانت کے مناظرے ہو رہے، صبح سے شام تک، گلاں ای گلاں، تقریراں ای تقریراں، چند جید ناظر ان دنوں اس پر بھی طبع آزمائی فرما رہے کہ حفیظ شیخ کے وزیر خزانہ، رضا باقر کے گورنر اسٹیٹ بینک بننے سے ملک آئی ایم ایف کے حوالے ہوگیا، اب پاکستان کی پالیسیاں آئی ایم ایف بنائے گا، حفیظ شیخ پر تنقید اس لئے دھیمے سروں میں کہ وہ پرویز مشرف کے وزیر نجکاری رہنے کے باوجود بلاول کے بابا جانی کے وزیر خزانہ بھی رہے، لہٰذا سارا نزلہ گر رہا رضا باقر پر، لیکن بلاول کو معلوم نہیں کہ وہاڑی کے نواحی گاؤں 571 ای بی کے رہائشی رضا باقر کے والد بیرسٹر محمد شریف پی پی کے ٹکٹ پر بورے والا سے قومی اسمبلی کا الیکشن ہار چکے، بی بی انہیں سوئٹرز لینڈ میں سفیر لگا چکیں، مگر ہنسوں یا روؤں، بلاول سے مریم تک، شاہد خاقان عباسی سے آصف زرداری تک راگ الاپ رہے کہ ملک آئی ایم ایف کے حوالے ہو چکا، بلّے بھئی بلّے! جعلی خود مختاری ڈرامہ بازیاں، جھوٹ، منافقت بھری حب الوطنیاں، سی پیک چین کے حوالے، کوئی اعتراض نہیں، 25 سو سے زیادہ دہری شہریت والے بیورو کریٹ، ہر وزارت، محکمے، شعبے میں بیٹھے ملک چلا رہے، کوئی اعتراض نہیں، 90 ارب ڈالر قرضہ لیا، کہاں لگا، کون کھا گیا، کوئی سروکار نہیں، 195 ملکی ادارے خسارے میں، کوئی غرض نہیں، ملک لوٹ لیا گیا، کوئی مطلب نہیں، بس رضا باقر آگیا، اب کچھ نہیں بچے گا، کچھ چھوڑا ہے، جو لٹنے کا ڈر، کچھ ہے جو کوئی لوٹے گا، موٹروے تک تو گروی رکھی جا چکی، 11 جولائی 1950 کو آپ آئی ایم ایف کے ممبر بنے، 70 سالوں میں 21 مرتبہ آئی ایم ایف کا دوازہ کھٹکھٹا چکے، کبھی بش کی سفارش پر قرضہ ملا، کبھی اوباما کے کہنے پر آپ کے کشکول میں ڈالر ڈالے گئے، اس بار صورتحال صرف اس لئے مختلف کہ اندر کھاتے ٹرمپ مخالف، آئی ایم ایف کے ذریعے شکنجے کسنے کا پروگرام، ملکی حالات نازک ترین، کڑی شرطوں پر قرضہ ملے گا، ٹیکسوں، مہنگائی کا طوفان آنے والا، ورنہ ہم وہی کر رہے، جو پچھلے ستر سالوں سے کرتے آ رہے۔ پھر رضا باقر پہلا شخص نہیں، گورنر جنرل ملک غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر کے محمد علی بوگرہ کو چنا تو وہ امریکہ میں تھے، عالمی مالیاتی اداروں کے قریب، ایوب خان کے وزیر خزانہ محمد شعیب ورلڈ بینک کے ملازم، ڈاکٹر مبشر حسن کو فارغ کرکے خزانہ ورلڈ بینک کے محبوب الحق کو بھی سونپا گیا، سرتاج عزیز عالمی مالیاتی اداروں کے چہیتے، ایٹمی دھماکوں کے وقت اکاؤنٹس فریز کرنے کا انہیں کس نے کہا، اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، معین قریشی انہی اداروں سے آئے، سرتاج عزیز نے شیروانی پیش کی، راتوں رات شناختی کارڈ بنا اور 3ماہ نگراں وزارت عظمیٰ بھگتا کر واپس لوٹ گئے، شوکت عزیز بھی انہی اداروں کے لاڈلے، گورنر اسٹیٹ بینک بننے آئے، وزیر خزانہ بنے، وزارتِ عظمیٰ کی لاٹری نکلی، موصوف ان دنوں وہی کر رہے جو وزیرخزانہ، وزیراعظم بننے سے پہلے کیا کرتے تھے، یہ تو ولایتی مال، دیسی میڈ ان پاکستان، اسحاق ڈار کی سن لیں، جعلی اعداد و شمار کے ایسے ماسٹر عالمی ادارے چکرا جاتے، ایک بار جعل سازی آئی ایم ایف نے پکڑ لی، ساڑھے 5ملین ڈالر جرمانہ ہوا جو پرویز مشرف حکومت کو بھرنا پڑا۔ 

چونکہ ہمارے پاس وقت ہی وقت، لہٰذا جب تک جی چاہے، جی بھر کر رضا باقر پر بحث کریں، حالانکہ بات اتنی سی جب آپ خود نکمے، نااہل، نالائق، جب آپ بیڈ گورننس کے شاہکار، جب آپ کرپٹ، لوٹ مار کے رسیا، جب 22 کروڑ میں سے صرف 7 لاکھ ٹیکس دیں گے، جب زراعت، صنعتیں، ٹیکسٹائل، امپورٹ، ایکسپورٹ سب کا ستیاناس، جب آپ نے اگلے سال 24 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنیں، جب آپ 9 مہینوں میں 36 سو ارب قرضہ لیکر 14 سو ارب قرضوں کا سود دیں گے، جب ڈالر مہنگا ہونے پر ایک دھیلا نہ لے کر آپ پر 1421 ارب کا قرض چڑھ جائے، جب ہر سطح پر ہر کوئی چوریوں، دو نمبریوں میں لگا ہو، جب آپ کا 80 فیصد پیسہ بلیک اور 85 فیصد پیسہ ملک سے باہر ہو تب اگر آپ کو آئی ایم ایف اپنی شرطیں منوا کر بھی بھیک دے دے تو ’ہم زندہ قوم، اور ’خود مختاری، کے ڈراموں کی بجائے اچھے بھکاریوں کی طرح پیسے کشکول میں ڈالوائیں، ماتھے پر ہاتھ رکھ کر سلام ٹھونکیں اور دعائیں دیتے ہوئے کسی اگلے سے بھیک مانگنے روانہ ہو جائیں۔