اتوار, 08 دسمبر 2019
/ کالمز / خالد زاہد / کھوجانے کا دکھ

کھوجانے کا دکھ

کھو جانے کا دکھ، اپنی شدت کھو جانے کے بعد ہی بتاتا ہے ہم لاکھ کسی کے دکھ کو سہنے کااس میں ساتھ نبہانے کا ڈھونگ رچا لیں، دل بہت اچھی طرح سے جانتا ہے جوکھونے والے نے کھویا ہے جب تم کھو گے تب ہی حقیقی معنوں میں اس کرب کو سمجھ سکو گے۔ اس سے پہلے تو بس رسم دنیا نبہانی ہے۔ دراصل کھوجانے کا دکھ دائمی اور پالینے کی خوشی عارضی ہوتی ہے کیونکہ جو کچھ پایا ہوتا ہے ایک دن اسنے بھی کھوجانا ہوتا ہے۔

کھوجانے کے دکھ کی دو اقسام ہوسکتی ہیں پہلی قسم گمشدہ کہلاتی ہےجو اپنے پیچھے رستا ہوا ایک زخم چھوڑ جاتی ہے یہ زخم گاہے بگاہے تکلیف کا احساس جگاتا رہتا ہے یہ دکھ مل جانے تک ترو تازہ رہتا ہے جبکہ دوسری قسم ایک ایسے کھوجانے کی ہے جو کبھی نا ملنے کے یقین کیساتھ اپنی حقیقی رہائشگاہ کا مکین ہوجاتا ہے، جسے لوگ خود اپنے ہاتھوں سے پیوند خاک کردیتے ہیں، اس دکھ کو عارضی دکھ کہہ سکتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ کسی گہرے زخم کی مرہم پٹی کرنے کی جیسے بھر جاتا ہے اور موسم کی مناسبت سے تکلیف دیتا ہے۔

یہ انسان کی کیفیت ہے کہ وہ عارضی کو گمشدہ سمجھ رکھے یا پھر گمشدہ کو عارضی۔ نا ہمارے اعمال ایسے ہیں اور نا ہی ہماری دعاوں میں اتنی تاثیر ہے کہ وہ قدرت کے فیصلے تبدیل کرواسکے۔ قدرت کے فیصلوں کے سامنے ہمیں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اللہ رب العزت نے صبر کرنے والوں کا ساتھ دینے کا وعدہ بھی کر رکھا ہے۔ یہ انسان کی بدقسمتی ہے کہ وہ اپنی سمجھ سے آگے نہیں بڑھتا یا پھر اپنے گرد خود ساختہ بنائے گئے احاطے سے باہر نہیں نکلتا۔ کچھ لوگوں کی حرکت قلب بند ہوجانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کوئی انکے بنائے ہوئے احاطے میں بغیر انکی اجازت کے داخل ہوجائے یا پھر اس احاطے میں رہنے والے بغاوت کردیں۔

انسان کیلئے باز رہنا ممکن نہیں ہے وہ فطرتاً باغی ہے لیکن بزدل بھی ہے جہاں اسے اپنے مفادات پر قدغن لگتی دیکھائی دیتی ہے وہ بغاوت کرنے پر اتر آتا ہے اور جہاں اسے محسوس ہوتا ہے کہ اسکے کسی بھی عمل سے اسکی آسائشوں کے چھن جانے کا خطرہ ہوسکتا ہے وہاں وہ بزدل ہوجاتا ہے۔ انسان نے کائنات کے اصولوں سے بھی بغاوت کی اور انسان قدرت کے رازوں سے پردہ اٹھنے پر بزدل پایا گیا (جب اسے سرنگوں ہونا پڑا، جب اسکی عقل و دانش نہیں چل سکی اور جب اسکی دہائیوں پر کی جانے والی تحقیق یکدم صفر ہوکر رہ گئی) وہ بزدل ہوگیا۔ وہ چمک دھمک کی طرف بڑھتا ہے، اسے دنیا کی چمک دمک، رعنائی اور سب سے بڑھ کر صنف مخالف بہت متاثر کرتی ہے۔ ان کے چکر میں پڑ کر سزا اور جزا بھول جاتا ہے بس حصول کی جستجو میں ایسا پڑتا ہے کہ گم ہوتا جاتا ہے۔

اور اس گم ہوجانے کادکھ تو صدیوں پرانا ہے دنیا کتنی ہی ترقی کیوں نا کرلے لیکن اس گم ہوجانے کے عمل کو روکنے سے اپنے ختم ہوجانے تک قاصر رہیگی۔ یوں سمجھ لیں کہ دنیا خود گم ہوجائے گی لیکن اس گم ہوجانے کہ دکھ کو کبھی بھی ختم نہیں کرسکے گی۔ یہ خالق اور مخلوق کو جڑے رکھنے کا ایک دائمی راز ہے۔

میں کھوجانے کے دکھ کی تلا ش میں اپنے باپ کے کھو جانے کے وقت سے سرگرداں ہوں۔ جب قدرت نے ہمارے سر سے ہمارے باپ کا سایہ ہٹایا تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے سر سے چھت نہیں آسمان ہٹ گیا ہو، جیسے سارا جسم زمانے کے سامنے برہنہ ہوگیا ہو، جیسے سارے حالات دنیا پر عیاں ہوگئے ہوں، جیسے کوئی آہنی حفاظتی حصار ہٹا دیا گیا ہو، جیسے گھرکی چھت چار دیواری کسی ہولناک زلزلے کی نظر ہوگئی ہو۔ لوگوں کے ہجوم میں مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ جیسے سب ایک دوسرے کے تو ہیں لیکن میراکوئی نہیں ہے، میرا باپ میرے گرد کسی مقناطیسی حصار کی مانند تھا اس کے جانے کہ بعد وہ حصار بھی ختم ہوگیا اب جیسے کوئی مجھے جانتا ہی نہیں۔ گم ہوجانے کے دکھ کے بارے میں، میں تب سے سوچ رہا تھا لیکن آج مجھ پر یہ اشکارا ہوا کہ گم وہ نہیں ہوئے تھے بلکہ انکے بعد سے میں کہیں گم ہوگیا ہوں، میں نے خود کو ہر جگہ جہاں جہاں میں ہوسکتا تھا تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ شائد میں بھی انکے ساتھ ہی اس قبر میں دفن ہوگیا ہوں۔ اب مجھے یقین ہوگیا ہے کہ میں اسی دن سے گم ہوں جس دن سے میرے باپ کو قدرت نے مجھ سے جدا کیا تھا۔ یہ بھی کائناتی سچ ہے کہ کھوجانے کا حقیقی دکھ، کھوجانے سے پہلے محسوس نہیں کیا جاسکتا۔