1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. خالد زاہد/
  4. معاشرتی عدم برداشت اور طلباء تنظیمیں

معاشرتی عدم برداشت اور طلباء تنظیمیں

کسی بھی فیصلے سے قبل بہت ضروری ہے کہ ایک طرف تو انصاف کے ہر ممکن تقاضوں پر انتہائی باریک بینی سے غور کر لیا جائے اوران تمام پہلوءوں کو اجاگر کر لیا جائے جو کہ فیصلے سے معاشرے پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ یاد دہانی کیلئے لکھتے چلیں کہ ٹھوس اقدامات کیلئے بہت ضروری ہے کہ نازک امور پر بغور و بدیر روشنی ڈالی جائے، تدبر اور تدبیرسے کام لیا جائے تاکہ ان پہلوءوں کو بھی اجاگر کیا جائے جو کہ انتہائی عمومی نوعیت کے ہوں۔ پہلے تو پاکستان میں فیصلے ہوتے نہیں ہیں اور اگر ہو جائیں تو اپنے ساتھ سوالیہ نشان لگائے عام بحث و مباحثے کیلئے پیش کردئیے جاتے ہیں اور پھر کیا اس کے بخئیے ادھیڑے جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں منصفانہ نظام کبھی رہا ہی نہیں، اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ بھلا وہ کون سی طاقت ہے جوعدالتوں کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے روک رہا ہے یا فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے یہاں تو اسٹیبلشمنٹ کا نام بھی نہیں لے سکتے۔

جب کسی ایسے ادارے میں جہاں کام کم اور وقت ضائع کرنے کا رواج زیادہ ہو اوراگر کوئی کام کرنے کی کوشش کر رہا ہو تو اسکے کاموں میں کسی نا کسی طرح سے اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہوتو سمجھ لیں وہ ادارہ پاکستان اسٹیل مل اور اس جیسے دیگر اداروں کی بات ہو رہی ہے۔ قانون بنانے والے ادارے ہوں یا قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوں، بد قسمتی سے خود کو اس قانون سے بالاتر سمجھتے چلے آرہے ہیں۔ ان اداروں سے وابسطہ لوگوں کی اکثریت کا سمجھنا ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ کیلئے اس ادارے میں آگئے ہیں اور اب جب تک وہ ہیں اس ادارے سے کوئی انہیں ہٹا ہی نہیں سکتا۔ یعنی علم والوں کی کم علمی اور نادانی کی یہی حد ہے۔

یو ں تو ہمیشہ سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بیرونی کردار بہت اہم رہا ہے لیکن اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ان بیرونی کرداروں کو نبھانے کیلئے بہروپئے اندر سے ہی استعمال کئے جاتے رہے ہیں۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم بہت سستے داموں ہی بک جاتے ہیں اور بکتے ہوئے اس بات کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں کہ ہمارے بکنے سے ملک و قوم کو ہماری نسلوں کو کیا اور کتنا نقصان پہنچنے والا ہے۔ یہ بھی لکھا جاسکتا ہے کہ ہم اور آپ سمیت ہر پاکستانی نے پاکستان کو ہر ممکن نقصان پہنچایا ہے۔ سیاسی اور ذاتی وابستگی کو کچھ دیر کیلئے پس پشت رکھ کر جواب دیں، کیا ایسا نہیں ہے کہ اصل نقصان پہنچانے والے وہ ہیں جنہوں نے ملک کی زمین بیچی یا مفاد بیچے اور کسی بھی طرح سے کو بیچ سکتے تھے بیچ بیچ کر اپنی جائیدادیں ملک میں اور ملک سے باہر بھی بنائیں۔ ہمارا ملک کبھی بھی جھموریت کا اہل نہیں رہا اس کی ایک پوشیدہ وجہ یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں نے پاکستان کی آزادی سے ہی اقتدار کو اپنے بس میں کرلیا اور اپنی مرضی اور مزاج کیمطابق اسے ڈھال لیاگیا اور مستحکم بھی کرلیا ہے۔ اب یہ ایک ایسی روایت بن چکی ہے کہ ہمارا ملک اسی مزاج پر چلایا جا رہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تعلیم کے فروغ کیلئے اور تعلیم کو عام کرنے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات بھی نہیں کئے گئے بلکہ مروجہ نظام کو بچانے کیلئے ہر ممکن کارہائے نمایاں سرانجام دئیے گئے۔

ایک وہ بھی زمانہ تھا جب کسی تحریک کا مرکز تعلیمی ادارے ہوا کرتے تھے، تحریک مذہبی معالات کیلئے ہو یا پھر معاشرتی امور میں درستگی کیلئے اور سب سے زیادہ تحریکیں سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے چلائی گئیں۔ ہم پاکستانیوں کیلئے سب سے اہم تحریک، تحریک پاکستان ہے جس کی مر ہونِ منت پاکستان وجود میں آیا ہے۔ گوکہ تحریک کے روح رواں بنگال کے نواب تھے لیکن اس تحریک میں اصل روح محمد علی جناح اور علامہ اقبال جیسی شخصیات نے بخشی۔ اس تحریک کی رگوں میں دوڑنے والا گرم لہونوجوانان تھے جن کی اکثریت درسگاہوں سے تھی۔ قائد نے سب سے زیادہ ان طالب علموں کو ہی مخاطب کیا اور ان میں پختہ اور منظم سوچ کا بیج بویا انہیں سمجھانا بہت ضروری تھا کہ آزادی کیوں اور کس لئے ناگزیر ہوتی ہے۔ ایک طرف حالات اس بات کو سمجھارہے تھے تو دوسری طرف طالب علموں نے اس تحریک کا ہر اول دستہ بننا تھا۔ گلی کوچوں، گاءوں دیہاتوں، کونے کونے تک یہ طالب علم ہی اپنے قائد کا پیغام لیکر پہنچے تھے یہی اقبال کہ دراصل شاہین تھے۔

بدلاءو کیلئے درسگاہوں کا سب سے قلیدی کردار ہوتا ہے، اور اس بات کو سمجھنے کیلئے سر سید احمد خان کی تحریک تعلیم کو لے لیجئے انہوں نے بھانپ لیا تھا کہ آنے والا وقت صرف اسکی دسترس میں ہوگا جس کے پاس تعلیم ہوگی اور انہوں نے انقلابی بنیادوں پر تعلیم کو لازمی جز قرار دینے کی کوششیں کیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح ایک جگہ فرماتے ہیں کہ آپ تعلیم پر پورا دھیان دیں۔ اپنے آپ کو عمل کیلئے تیار کریں یہ آپ کا پہلا فریضہ ہے آپ کی تعلیم کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ آپ دور حاضر کی سیاست کا مطالعہ کریں۔ یہ دیکھیں کہ آپ کے گرد دنیا میں کیا ہورہا ہے۔ ہماری قوم کیلئے تعلیم زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔

ہم سمتوں کا تعین کئے بغیر چلنا اوردھکیلنا شروع کردیتے ہیں، ہم احداف جانے بغیر نشانے لگانا شروع کردیتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی معاشرے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے روئیے پر دھیان دینے کی کوشش کی ہے، مصروفیات کے باعث ایسا ممکن ہی نہیں ہے اور مصروفیات کیا ہیں یہی جاننے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ ابھی تازہ ترین ایک سانحہ رونما ہوا جب پڑھے لکھے دو گروہوں میں ایک تصادم ہوا کہ دنیا مبہوت رہ گئی جی ہاں لاہور میں دل کے ہسپتال کے واقع کی بات کی جارہی ہے جہاں کالے اور سفید کوٹ والے ایسے لڑے کہ جیسے بھارت اور پاکستان کا رن لاہور کے ہسپتال میں پڑگیا ہے۔ یہ تو ایک واقعہ ہے ایسے کتنے ہی واقعات روزانہ کی بنیاد پر منظر عام پر آرہے ہیں اور ایک عمومی رائے کیمطابق کتنے ہی ایسے واقعات دور دراز کے علاقوں سے نظروں سے اوجھل ہو رہتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں بہت ساری تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں یہ کہہ لیجئے کہ معاشرے کاڈھب ہی بدل کر رہ گیا ہے۔ ہمارے سیاستدان اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ایسے ایسے معاملات اٹھا لیتے ہیں جو ظاہری طور پر انہیں وقتی فائدہ شائد پہنچا دیتے ہوں لیکن معاشرے کی بربادی کیلئے بیج بوتے چلے آرہے ہیں۔ آج کل درسگاہوں میں سیاسی تنظیموں کی بحالی پر مباحث سننے میں آرہی ہیں ایسے کسی بھی اقدام سے قبل ہماری ارباب اختیار سے دلی گزارش ہے کہ حالات و واقعات کا خوب باریک بینی سے جائزہ لے لیں بلکہ کچھ جہاں دیدہ غیر سیاسی افراد پر مشتمل کمیٹی ترتیب دے دی جائے جو اپنی سفارشات مرتب کرکے ارباب اختیار کے سامنے رکھے اور اس کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔ سچ پوچھیئے تو وقت اور حالات اس بات کی اجازت نہیں دے رہے کہ درسگاہوں میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔ نشے اور دیگر ایسی تمام کاروائیوں کو اور ایسی چیزوں کا قلا قمع کیا جائے جو طالب علموں کو علم سے دور کئے جا رہی ہیں۔