Thursday, 17 October 2019
/ افسانہ / محمد اشتیاق / قادر مطلق

قادر مطلق

"وارث"

"وارث۔ ۔ ۔ وارث"

اس کے کانوں میں دور سے آتی آواز ٹکرائی۔  

"وارث۔ ۔"

اور اب کی بار کسی نے اس کے کندھے کو ہلایا۔ اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔ مگر پلکیں بہت بھاری محسوس ہوئیں۔  

"وارث۔ ۔ ۔ وارث۔ ۔ ۔ " آواز مسلسل آرہی تھی۔ اور اب تک قریب سے محسوس ہونا شروع ہوچکی تھی۔  

"یہ تم ہی ہو ناں وارث؟”

آواز نے سوال کیا۔ اس نے آنکھیں کھولنے کی ایک اور کوشش کی۔ آنکھوں کے اندھیرے نے سیاہی سے گرم سرخ رنگ اختیار کر لیا۔  

"وارث بولتے کیوں نہیں؟"

روشنی کی ایک کرن آنکھوں میں داخل ہوئی۔ اس نے نیم وا آنکھوں سے اوپر کی طرف دیکھا۔ تیز چمکتا سورج اور اس کے سامنے ایک دھندلا سا ہیولا۔ اس نے آنکھوں کو مزید کھولنے کی کوشش کی تو جلن محسوس ہوئی۔ اس نے آنکھیں میچ کر ان پر ہاتھ رکھ لیا۔  

"وارث میری طرف دیکھو"۔  

اس نے ایک دفعہ پھر آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔ ہیولا اب واضح ہو چکا تھا۔ سورج کی روشنی اب بھی چبھ رہی تھی البتہ پکارنے والی کی شکل اب واضح تھی۔ اس کے ہونٹ مسلسل ہل رہے۔ ہلکے بھوری رنگت کے نمایاں ہونٹ جو مسلسل اسے پکار رہے تھے۔  

اس کی نگاہوں میں سوال ابھرا، اور بیگانگی سے بولی۔  

"مجھے پہچان نہیں رہے۔ میں تمہاری 'سویٹی' "

"کون سویٹی؟"

اس کی نگاہوں میں ایک اور سوال سمٹ آیا۔  

"تم مجھے نہیں پہچانتے۔ چلو یہاں سے چلیں۔ "

"بڑی مشکل سے تو یہاں تک پہنچا ہوں"۔ پہلی بار اس کے حلق سے آواز نکلی۔ ۔ ۔ "بہت لمبا سفر کر کے اس مقام تک آیا ہوں، اب کہاں جاوں گا؟ " 

"کون سا سفر؟ مجھے نہیں پتہ بس تم اٹھو، میرے ساتھ چلو”۔  

وہ ساتھ ہی تو چلنا چاہتا تھا۔ اس کا سفر وہیں سے تو شروع ہوا تھا۔ انسان صدیوں سے اپنی تنہائی مٹانے کی تگ ودو میں ہے۔ وہ کسی کا ساتھ چاہتا ہے۔ کبھی کبھی یہ ساتھ اس کی زندگی سے زیادہ اہم ہو جاتا ہےاور جس کے ساتھ کی لگن ہو وہ اسے اکیلا چھوڑ کر خود اس سے کہیں آگے، دور نکل جاتا ہے۔  

"ساتھ؟"

اس لفظ نے اسے دوبارہ نگاہیں اوپر اٹھانے پہ مجبور کردیا۔ بہت عرصے بعد اس نے یہ لفظ سنا تھا۔ یہ کون ہے جو ساتھ چاہتی ہے؟ جیسے وہ خود ایک "ساتھ" کی تڑپ میں تھا، کیا یہ بھی کسی ساتھ کی تلاش میں ہے؟

اس نے بولنے والی کی آنکھوں میں جھانکا۔ بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں۔ ان میں عجب سی تڑپ۔ یہ آنکھیں اس نے پہلے بھی کہیں دیکھی ہیں۔ یہ آنکھیں غیر مانوس نہیں تھیں۔ وہ ان کو جانتا ہے۔ اس کا ان سے واسطہ رہا ہے۔ اس نے ہونقوں کی طرح ان آنکھوں کو گھورنا شروع کر دیا تاہم بھیگی ہوئی پلکیں ان خوبصورت آنکھوں کی پہچان مشکل بنا رہی تھیں۔ یہ پلکیں اس نے کبھی بھیگی ہوئے دیکھیں۔ اچانک اس کے دماغ کی سلیٹ پر ایسی ہی آنکھیں ابھریں۔ پر وہ تو ہنستی ہوئی آنکھیں تھیں؟ ابرو کو اوپر نیچے کرکے شرارت سے مسکراتی آنکھیں!

"چلو گے یا نہیں؟ میں تمہارے لئے سب کچھ چھوڑ آئی ہوں۔ "

وہ بھی تو چھوڑ چکا تھا۔ دنیا سے بیگانہ ہو گیا تھا۔ کیرئیر کو، فیملی کو سب کو چھوڑ دیا۔ کس لئے؟ سوال ابھرا۔ ایک دفعہ پھر وہ شرارتی آنکھیں میں گم ہو گیا۔ ابرو اوپر نیچے ہوئے۔ ہونٹوں پہ مسکراہٹ نے جگہ بنائی۔  

"اچھا میرے ہونٹ بہت خوبصورت ہیں؟ " وہ ہنسی پڑی تھی"

“تو پھر؟”

"بس خوبصورت ہیں۔ اور کچھ خوبصورت کے ساتھ کچھ ایسے جیسے رس بھرے انگور اپنے ہی رس سے پھٹنے والے ہوں"۔  

"اچھا جی تو تمہیں کیا فائدہ؟" اس نے کتابی ٹھوڑی پہ انگلی سے رگڑتے ہوے پوچھا۔  

فائدہ؟؟؟ وہ کبھی اس کی ہو نہیں سکتی تھی۔ ایک لا حاصل عشق، ایک گناہ بے لذت۔ مگر وہ مجبور تھا۔ کھنچا چلا جاتا تھا۔ قطع تعلقی کی اپنی سی کوشش وہ کر چکا تھا۔ مہینوں رابطہ توڑا مگر پھر اس کی باتیں سننے کو مجبور ہو جاتا تھا۔ اس کو دیکھنے کو نشہ ٹوٹنے لگتا۔ دوسری جانب وہ اس کو ہر بار ایسے وصول کرتی جیسے وہ کبھی گیا ہی نہیں۔ جیسے ماں اپنے شرارتی بچے کو والہانہ انداز میں گلے لگالیتی ہے۔  

"تم نے رابطہ نہیں کیا، میرا جواب نہیں دیا پر میں ناراض نہیں ہوں کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ تم اب کہیں کے نہیں رہے۔ تم صرف میرے ہو۔ "

اس نے پلکیں جھپکائیں اور بولی" میں تمہاری نہیں ہو سکتی پر تم میرے ہی ہو"۔  

کس قدر ظالم سچ تھا یہ جو اتنی ہی آسانی سے بول رہی تھی!

—————————————————————————

"وارث! اٹھو چلو"

"ہم دونوں اکٹھے رہیں گے، سب کو چھوڑ کے”

ایک بار پھر آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔  

"مگر تم میری نہیں ہو سکتیں، تم نے خود ہی تو کہا تھا؟

جانے کہاں اندر سے آواز نکلی جو خود اس کو بھی اجنبی سی محسوس ہوئی۔  

"شکر ہے تم نے مجھے پہچانا " اس نے مسکراتی آنکھوں سے کہا۔ وہی آنکھیں۔ وہی کمان سے ابرو۔  

اس کے ذہن میں طوفان سا اٹھا۔ وہ جس کے لئے اس نے دنیا تیاگ دی، جس کے لئے ایک ایک لمحہ دعا کی، جس کے لئے اس کے جسم کا روں روں التجا بن گیا، وہ۔ ۔ وہ زندہ سلامت اس کے سامنے کھڑی ہے۔  

وہ اٹھ گیا۔ ایک دم۔ اچانک۔ بجلی کی سی رفتار سے مزار کا صحن کراس کرتا ہوا حجرے کی طرف بھاگا۔ حجرے کے دروازے پہ رش لگا تھا۔ مریدین ایک دوسرے کے ساتھ جڑے بیٹھے تھے۔ وہ سب کو پھلانگتا ہوا دروازے پہ پہنچا۔ دربان نے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کے روکا۔  

"سائیں تم ادھر کدھر؟" 

"سائیں؟؟؟ "

اس نے اپنے لئے یہ لفظ پہلی دفعہ سنا۔  

“ہٹو!”

اس کی آواز میں جانے کہاں سے رعب آیا۔ دربان سائیڈ پر ہو گیا۔ اس نے دروازہ کھول دیا۔  

"شاہ جی وہ بچ گئی " اس نے قدموں میں ڈھیر ہوتے ہوئے کہا۔  

"وارث صاحب! کیسے پتہ چلا؟ کس نے بتایا؟" شاہ جی نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کہ اٹھایا۔ "اٹھیں یہ آپ کی جگہ نہیں ہے وارث صاحب”۔ انہوں نے اسے ساتھ بٹھاتے ہوئے کہا۔ آس پاس بیٹھے مریدین کی نظر میں یکدم اس کی قدر بڑھ گئی۔  

" وہ آئی ہے، باہر کھڑی ہے شاہ جی؟؟ معجزہ ہوگیا، میں نے کہا تھا ناں؟”

خوشی اور حیرت کے الفاظ جیسے اپنے آپ اس کی زبان سے جاری ہو رہے تھے۔  

“یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ نے تو کہا تھا کہ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں؟" شاہ جی زیر لب بڑبڑائے۔  

"پر آپ نے مجھے یہ راستہ دکھایا تھا ناں۔ آپ ہی نے تو مجھے بتایا کہ وہ قادر مطلق ہے”۔ اس نے شکر گزاری کا اظہار کیا۔  

"میں نے تو صرف بتایا، پتہ تو آپ کو تھا وارث صاحب، اللہ پہ آپ کا یقین اسے واپس لے آیا”۔ شاہ جی نے احترام سے اس کے چہرے پہ بہتے آنسووں کو مٹاتے ہوئے کہا"۔ وہ اپنے محبوب بندوں کی بات سنتا ہے”۔  

"میں محبوب؟ میں تو گناہ گار ہوں شاہ جی؟ میں کہاں سے محبوب ہو گیا؟”

شاہ جی نے تاویل دی۔ "اللہ کو صدقہ پسند ہے، اور وہ بھی اپنی سب سے عزیز چیز کا۔ تم نے اپنی سب سے عزیز چیز کا صدقہ دے دیا۔ اپنی جان صدقے میں کوئی نہیں دیتا وارث صاحب۔ آپ نے دے دی۔ وہ کیسے نہ سنتا؟ آپ نے تو میری برسوں کی تپسیا بے کار کر دی۔ میں تو یہ راز ساری زندگی نہ پا سکا جو آپ نے مجھے سمجھایا”۔ شاہ جی اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کے چوکی سے نیچے بیٹھ گئے۔  

"وارث صاحب، آپ کی دعا پوری ہو گئی۔ جائیے، آپ کی زندگی کو زندگی مل گئی "۔  

" اب کہاں جاوں گا؟ زندگی کا تو میں نے صدقہ کر دیا۔ اب تو اپنے حصے کا فرض نبھانا ہے" وہ آہستہ سے بولا۔  

شاہ جی نے اس کی بات سنی اور غمگین لہجے میں بولے:

" میں تو ساری زندگی ٹکریں ہی مارتا رہا۔ کبھی یہ سوچا ہی نہیں کہ جو سب کچھ لکھ سکتا ہے وہ سب کچھ مٹا کر دوبارہ بھی لکھ سکتا ہے۔ اس کے لکھنے پہ قدغن کیسی؟ میں تو توبہ کرنے کے قابل بھی نہیں ہوں۔ میں اللہ کے اختیار کو ہی نہ سمجھ پایا۔ بس اس کو کل کائنات کا مالک کہتا رہا پر سمجھا نہیں، میرے لئے معافی کی دعا کریں وارث صاحب"۔  

شاہ جی گڑگڑائے پر ان کی سننے والا ایک دفعہ پھر دوسری دنیا میں پہنچ چکا تھا۔ انہوں نے بے ہوش وارث پہ چادر ڈال دی۔  

"جاو سب"۔  

شاہ جی رندھی ہوئی آواز میں دھاڑے۔ سب ایک ایک کر کے حجرے سے باہر نکل گئے اور شاہ جی سر جھکا کر بیٹھ گئے۔ آنسو ٹپ ٹپ ان کے دامن کو تر کرنے لگے۔  

—————————————————————————

"حضور، کوئی بندہ کسی دوسرے کی جگہ جان دے سکتا ہے؟”

پینٹ اور ٹی شرٹ میں ملبوس اس نوجوان نے شاہ جی سے سوال کیا۔  

"اللہ نے ہر انسان کی موت کا وقت مقرر کیا ہے۔ نہ اس سے پہلے جائے گا نہ اس کے بعد”۔ شاہ جی نے آسان الفاظ میں فلسفہ بیان کیا۔  

"مگر میں نے کافی کتابیں کھنگالیں ہیں اور مجھے ایک طریقہ پتہ چلا ہے کہ ایسا ممکن ہے"۔ اس نے اپنی عینک درست کرتے ہوئے کہا۔  

"اچھا " شاہ جی طنزاً مسکرائے اور بولے "ہمیں بھی بتاو کیا طریقہ ہے”۔  

"حضور تاریخ میں لکھا ہے کہ جب مغل بادشاہ بابر کا بیٹا ہمایوں بیمار ہوا اور اس کے بچنے کی کوئی امید نہ رہی تو اس کو کسی بزرگ نے یہی طریقہ بتایا"۔ اس نے اپنی ریسرچ شاہ جیکے سامنے ڈھیر کر دی۔  

"کیسے؟"۔ ۔ شاہ جی نے دلچسپی لیتے ہوئے استفسار کیا۔  

"بابر نے بزرگ کہ کہنے پہ اپنے بیمار بیٹے کی چارپائی کے ارد گرد سات چکر لگائے، کوئی وظیفہ پڑھا اور دعا کی کہ بیٹے کی بیماری اسے لگ جائے۔ جو مصیبت بیٹے پہ آئی ہے وہ اس پہ آجائے۔ پھر سات دنوں کے اندر ہمایوں اپنے پاوں پہ کھڑا ہو گیا اور بابر مر گیا”۔ اس نے جوش سے بتایا۔  

"اچھا؟ واقعی؟”۔ ۔ ۔ شاہ جی نے مزے لیتے ہوئے کہا۔  

"مجھے وہ وظیفہ پتہ کرنا ہے"۔ وہ شوق سے بولا۔  

"ایسا کوئی وظیفہ نہیں، ایسا ممکن ہی نہیں”۔ شاہ جی نے اس کے غیر شرعی خیالات پہ بند باندھ دیا۔  

"مگر بابر مر گیا تھا"۔ اس نے مزاحمت کی۔  

"ہو سکتا ہے بابر کی موت ایسے لکھی ہو؟" شاہ جی نے بیزاری کے ساتھ بحث سمیٹنے کی کوشش کی۔  

" ہوسکتا ہے ہمایوں کی زندگی ایسے لکھی ہو؟”۔ اس نے سادگی سے دلیل دی۔  

یہاں شاہ جی کو جھٹکا لگا۔ انہوں نے غور سے اسے دیکھا۔ عام سا ماڈرن نوجوان۔ عامیانہ لباس میں ملبوس۔ اس کا یقین ان کے لئے حیرت کا باعث بن گیا۔  

"یہاں آو، میرے قریب”۔ شاہ جی نے ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کا کہا۔ وہ تخت کے قریب ہو کہ مودب بیٹھ گیا۔  

"تمہارا کوئی قریبی موت کے قریب ہے؟" شاہ جینے اب کی بار اس میں دلچسپی لیتے سوال داغا۔  

اس کے چہرے پہ تاسف اور کرب نمایاں ہوگیا۔ “وہ کہتی ہے خون کے لوتھڑے اس کی جان لے لیں گے”۔ سر جھکا کر اس نے بات جاری رکھی۔ "ڈاکٹر بھی کہتے ہیں زیادہ سے زیادہ 6 ماہ"۔  

"دیکھو بر خوردار! موت کا وقت معین ہے۔ اس کو کوئی بدل نہیں سکتا"۔ شاہ جی نے ایک اور کوشش کی۔  

" خود موت کا وقت متعین کرنے والا خدا بھی نہیں؟۔ " اس کا یقین پختہ تھا۔  

"ارے بھئی وہ تو قادر مطلق ہے۔ اس کے اختیار پہ کیوں شک کرتے ہو"۔ شاہ جی اب جھنجھلانے لگے۔  

"پھر آپ کیوں کہتے ہیں کہ اللہ موت کا وقت بدل نہیں سکتا"۔ وہی یقین، وہی اعتماد۔ شاہ جی فکر میں پڑ گئے۔ اس کا اعتماد ان کی دلیلوں کو کمزور کر رہا تھا۔ پر جواب کوئی نہیں تھا۔  

"ایسا کوئی وظیفہ نہیں ہے"۔ شاہ جینے بحث ختم کرنے کی پھر سے کوشش کی۔  

"کوئی بھی طریقہ نہیں؟”۔ اس نے مایوس ہو کہ کہا۔  

"طریقہ ہے"۔ شاہ جی نے پنیترہ بدلا۔  

" کیا؟” وہ ہمہ تن گوش ہو گیا۔  

"اللہ سے لو لگا لو۔ اس سے پوچھو۔ اس کے سوا کوئی ایسا وظیفہ بتانے والا نہیں کائنات میں"۔ شاہ جی نے اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے اسے کسی جانب لگانے کی کوشش کرنی چاہی۔  

"پھر وظیفہ پتہ لگ جائے گا"۔ وہ خلاء میں نظریں گاڑے وظیفے پہ سوئی پھنسائے بیٹھا تھا۔  

"پتہ نہیں"۔ شاہ جی نے ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا۔ " پر اس کے علاوہ کوئی طریقہ نہیں۔ واحد یہی طریقہ سمجھ میں آتا ہے"۔  

"ٹھیک ہے۔ آپ کا بے حد شکریہ۔ میں سوچتا ہوں"۔ وہ اٹھا اور واپس چل دیا۔  

چند دن بعد وہ مزار کی صحن کی دوسری طرف برآمدے میں فراش ہو گیا۔ صرف نماز کے وقت اپنے بوریے سے اٹھتا، وضو کرتا اور جماعت میں شامل ہوجاتا۔ مسجد میں شاہ جی کو اکثر اس کی گڑگڑاہٹ سنائی دیتی تھی۔ جب وہ مزار کا راونڈ لگا تے اس کے بورئیے کے پاس سے گزرتے تب بھی اس کی ہچکیاں شاہ جی کا دل دہلا دیتی تھیں۔ شاہ جی کو اس کی سادگی پہ ترس آتا تھا۔ ان کا دل اس بیچارے پر بھر آتا اور اس کے لئے دل سے دعا نکلتی۔ مگر سوچتے کہ اس کو کیا سمجھائیں۔ خدا کا ایسا بندہ انہوں نے پہلے کبھی دیکھا نہ تھا جو انہونی کی دعا کرتا ہو۔ شاہ جی دنیا کو یہی بتاتے تھے کِہ اللہ تعالی قادر مطلق ہے مگر۔ ۔ ۔ ۔  

—————————————————————————

"اندر جانے دو مجھے۔ تم لوگ ایک نمبر کے فراڈ ہ، میں سب جانتی ہوں تم لوگوں کی ڈرامہ بازیاں”۔ ۔ حجرے کے باہر اچانک ایک شور برپا ہوا۔  

"بیٹا بی بی کو اندرآنے دو"۔ شاہ جی نے اندر سے آواز دی۔  

دروازہ کھلا اور وہ اندر داخل ہوئی۔ "کہاں ہے وارث؟”

اچانک اس کی نظر تخت پہ بے ہوش پڑے وارث پہ ٹھہری۔ وہ اس کی طرف لپکی۔  

"وارث، وارث"۔ وہ اسے جھنجھوڑنے ہوئے بولی۔  

"اسے کیا ہوا؟ یہ بولتا کیوں نہیں؟" وہ ہذیانی انداز میں چلائی۔  

"کچھ نہیں ہوا۔ بس بے ہوش ہیں، تھوڑی دیر میں ٹھیک ہو جائیں گے"۔ شاہ جی نے حوصلہ دیا۔ "آپ بیٹھیں”۔ شاہ جی نے اسے پرسکون کرنے کی کوشش کی۔  

"میں بیٹھنے نہیں آئی، اسے لینے آئی ہوں”۔ وہ مزید غصے میں چلانے لگی۔  

"جی لے جائیں مگر لگتا نہیں کہ یہ آپ کے ساتھ جائیں گے۔ شاہ جی نے اپنی رائے دی۔  

"کیوں؟ کیا کر ڈالا تم نے اس کے ساتھ؟" اس نے درشت لہجے میں پوچھا۔  

"ہم نے کیا کرنا ہے بی بی، ہماری تو اپنی عبادتیں انہوں نے اپنے یقین سے شک میں ڈال دی ہیں۔ اب باقی کی زندگی اپنے اس گنا ہ کی توبہ کرنے میں گزرے گی کہ ہم زبان سے قادر مطلق کا ورد کرتے رہے مگر قادر ہوتا کیا ہے یہ سمجھ نہ پائے۔ اللہ معاف کرے ہمیں”۔ شاہ جی افسردہ ہوگئے۔  

"مجھے نہیں سننی آپ کی داستان۔ مجھے وارث چاہیے"۔ وہ پھر دھاڑی۔  

"بیٹا لے جاو، پر اب یہ تمہارے کام کے نہیں رہے۔ یہ تو اپنے کام کے بھی نہیں رہے۔ "۔ شاہ جی کی باتیں اب اس کی روح پہ وار کرنے لگیں۔  

"میں اس کے لئے سب کو چھوڑ آئی ہوں”۔ اب وہ التجا کرنے لگی۔  

"وہ آپ کے لئے دنیا پہلے ہی چھوڑ چکے ہیں۔ بہتر ہے کہ آپ اپنی دنیا میں لوٹ جائیں۔ اس نے اپنی زندگی کی قیمت پہ آپ کی زندگی کا سودا کیا ہے۔ سانسیں چلتی بھی رہیں تو وہ اس زندگی کی طرف لوٹ نہ سکیں گے”۔ شاہ جی نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔  

"کس کے ساتھ سودا کیا، کوئی کسی کی زندگی کا سودا نہیں کر سکتا"۔ وہ انکاری تھی۔  

"ہم بھی یہی سمجھتے تھے پر اب نہیں۔ یہ معجزہ تھا یا یقین کامل، لیکن ہم انے ایسا ہوتے دیکھا ہے"۔ شاہ جی انہونی کے ہونے کی تاویل دینے کی کوشش کرنے لگے۔  

"آپ کو ڈاکٹر نے کیا کہا تھا کہ کتنی زندگی بچی ہے آپ کی"۔ شاہ جی نے ایک اور کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔  

"چھے ماہ”۔ وہ شاہ جی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔  

"جب اس بیماری کا علاج کوئی نہیں تھا تو پھر آپ زندہ کیسے ہیں"۔ شاہ جی نے بات آگے بڑھائی۔  

"ایک بزرگ سے دوائی لی۔ اس سے دن بہ دن بہتری آتی گئی۔ چھے مہینے بعد کل ہی رپورٹ آئی ہے۔ الحمدللہ سارے ٹیسٹ کلئیر ہیں"۔ وہ خوشی اور شکرگزاری سے بولی۔  

"آپ کو حیرانگی نہیں ہوئی کہ جس بیماری کا علاج میڈیکل سائنس کے پاس نہیں تھا اس پہ قابو ایک معمولی دوا کیسے پا سکتی ہے”۔ شاہ جی نے استفسار کیا۔  

"اللہ کے کام ہیں، اس نے اپنا رحم کر دیا ہے"۔ وہ شاہ جی کے ہدف پر پہنچ گئی۔  

“دعا میں بڑی طاقت ہے بیٹی۔ جیسے بچہ اپنی ماں کے دامن سے چمٹ کہ روتا ہے تو وہ اس کی خواہش پوری کرنے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتی ہے”۔ شاہ جی نے اب کی بار وارث کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ “یہ بچہ اس دامن سے ابھی تک لپٹا ہوا ہے۔ اس کی خواہش تو پوری ہو گئی پر اس کی اپنی زندگی کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ تم لوٹ جاؤ۔ یہ وہ نہیں رہا جس کو تم جانتی تھیں۔ اگر یہ واپسی کے قابل ہوا تو تم تک خود آجائے گا”۔ شاہ جی نے اپنی بات ختم کر دی۔  

وہ سر جھکائے رونے لگی، آنسو وارث پہ ڈلے کھیس میں جذب ہو رہے تھے۔ شاہ جی سر جھکائے اس کی ہچکیاں سن رہے تھے۔ رم جھم تھی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ مسجد سے اذان کی صدا بلند ہوئی۔ کوئی سریلی آواز میں رب کی طرف بلا رہا تھا۔ وہ اٹھی، دروازے کھولا اور ایک لمحے کو واپس پلٹ کر بولی۔  

“اسے بتائیے گا۔ میں جانتی ہوں وہ اب کہیں کا نہیں رہا۔ شائد میرا بھی نہیں"۔ اس نے ابرو ہلائے بغیر بات جاری رکھی۔ " مگر میں اسی کی ہوں”۔  

وہ دروازے سے باہر نکلی اور بھیڑ میں گم ہو گئی۔  

محمد اشتیاق

محمد اشتیاق ایک بہترین لکھاری جو کئی سالوں سے ادب سے وابستہ ہیں۔ محمد اشتیاق سخن کدہ اور دیگر کئی ویب سائٹس کے لئے مختلف موضوعات پہ بلاگز تحریر کرتے ہیں۔ اشتیاق کرکٹ سے جنون کی حد تک پیار کرنے والے ہیں جن کا کرکٹ سے متعلق اپنی ویب سائٹ کلب انفو ہے جہاں کلب کرکٹ کے بارے معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ بہ لحاظ پیشہ محمد اشتیاق سافٹ ویئر انجینئر ہیں اور ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کر رہے ہیں۔