Thursday, 17 October 2019
/ مہمان کالم / نصرت جاوید / زلمے خلیل زاد، اشرف غنی اور مودی سرکار

زلمے خلیل زاد، اشرف غنی اور مودی سرکار

پنجابی کا ایک محاورہ غصے کی اس صورت کا ذکر کرتا ہے جو گدھے پر سے گرنے کی وجہ سے کمہار پر اُتارا جاتا ہے۔ افغانستان کے صدر ان دنوں ویسے ہی غصے کا شکار ہوئے نظر آرہے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے انہیں اعتماد میں لئے بغیر افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا بظاہر "عاجلانہ" اعلان کردیا۔ زلمے خلیل زاد کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ اس کی خواہش پورا ہونے کی راہ نکالے۔ طالبان سے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوگیا۔ ان مذاکرات کے ابتدائی ایام میں زلمے خلیل زاد نے اشرف غنی کو تسلی دیتی گفتگو میں مصروف رکھا۔ طالبان کے ساتھ اس کے مذاکرات کسی حتمی سمجھوتے کی طرف بڑھنے لگے تو ممکنہ بندوبست کی تفصیلات کا بل انتظامیہ سے Share نہ ہوئیں۔ خود کو نظرانداز کئے جانے پر مشتعل ہوئے افغان صدر نے اپنے مشیر برائے قومی سلامتی کو گلے شکوے کرنے واشنگٹن بھیجا۔ امریکی حکام سے ابھی اس کی ملاقات طے بھی نہیں ہوئی تھی تو صحافیوں اور امریکی افغان ماہرین کے ساتھ ہوئے ایک ڈنر میں اس مشیر نے برسرِ عام احتجاجی گفتگو فرما دی۔ جوشِ خطابت میں موصوف نے زلمے خلیل زاد پر یہ الزام بھی لگادیا کہ وہ افغانستان کا "وائسرائے" بننے کی کوشش کررہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس کے خطاب سے ناراض ہوگئی۔ اسے وزراتِ خارجہ میں طلب کرکے ڈانٹ ڈپٹ ہوئی۔ اس کے بعد امریکی حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ کابل انتظامیہ کو صاف الفاظ میں واضح کردیا گیا ہے کہ آئندہ صدر غنی کے مشیر برائے قومی سلامتی سے امریکی حکام ملاقاتیں نہیں کریں گے۔ سفارتی روایات کے حوالے سے یہ ایک تضحیک آمیز اعلان تھا۔ اس نے اشرف غنی کے ان خدشات کی برسرِ عام تصدیق کر دی کہ ٹرمپ انتظامیہ کو افغانستان کے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔ طالبان اپنی جگہ بضد ہیں کہ وہ امریکہ کی "کٹھ پتلی" اور "مسلط کردہ" کابل انتظامیہ سے ہرگز بات چیت نہیں کریں گے۔ زلمے خلیل زاد کے ساتھ وہ بحیثیت ایک فریق نہیں بلکہ "امارت اسلامی" کی حیثیت میں مذاکرات کررہے ہیں۔ نظر بظاہر ٹرمپ اور زلمے خلیل زاد کو اس Posturing سے کوئی مسئلہ نہیں۔ مزید تفصیلات میں جائے بغیر مختصر ترین الفاظ میں یہ کہنے کو مجبور ہوں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے تئیں افغانستان کے مستقبل کا نقشہ بنانے کے ضمن میں اشرف غنی کو "کھڈے لائن" لگادیا ہے۔ پاکستان کا براہِ راست اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں۔ زلمے خلیل زاد کے ساتھ طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کے لئے پاکستان کا تعاون ضروری تھا۔ بغیر کوئی بڑھک لگائے ہماری جانب سے یہ تعاون کماحقہ فراہم ہوگیا۔ اس تعاون کو سراہے جانے کی رسید امریکی صدر نے ازخود حال ہی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جاری کردی ہے۔ مناسب یہی تھا کہ طالبان کی زلمے خلیل زاد کے ساتھ مذاکرات میں ہوئی پیش رفت کے حوالے سے ہم اپنی خاموشی برقرار رکھتے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب نے مگر چند روز قبل پاکستانی صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے افغانستان میں "عارضی حکومت" قائم ہونے کی امید کا ظہار کر دیا۔ اشرف غنی نے اسے محض پاکستان کی "توقع" نہیں بلکہ "Dictation" قرار دیتے ہوئے تلملاہٹ کا اظہار شروع کر دیا۔ "احتجاجاََ" اپنے اسلام آباد میں مقیم سفیر کو بھی "صلاح مشورے" کے بہانے کا بل بلالیا۔ ڈاکٹر اشرف غنی ایک متلون مزاج شخص ہیں۔ افغانستان کے بارے میں خبررکھنے والے کئی امریکی اور یورپی صحافیوں نے بارہا دعویٰ کیا کہ امریکی حکام نے انہیں افغانستان کا صدر بنوانے میں مدد دینے سے قبل ان کے لئے "Anger Management" کے کورسز کا اہتمام بھی کیا تھا۔ پاکستان کے وزیراعظم کی بے ساختگی میں بتائی "امید" کے بارے میں مگر اشرف غنی نے اس انداز میں ردعمل دیا کہ زلمے خلیل زاد بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے ضمن میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے بھی وزیراعظم عمران خان سے شکوہ کرتا سنائی دیا۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی بھی اشرف غنی سے شدید اختلافات رکھنے کے باوجود شکوہ کنائی میں شامل ہوگیا۔ یوں محسوس ہورہا ہے کہ تمام تر باہمی اختلافات کے باوجود افغانستان کے "غیر طالبان" عناصر یکسو ہو کر "قوم پرست" ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم کی امید کو "ڈکٹیشن" کے طورپر اُچھالتے ہوئے افغانستان کے شہری متوسط طبقے اور خاص طورپر خواتین کے ان گروہوں کے دل جیتنے کی کوشش ہورہی ہے جو طالبان کے ممکنہ طورپر اقتدار میں لوٹنے کے امکان سے شدید گھبرائے ہوئے ہیں۔ اس حقیقت کو طالبان مخالف سیاست دان اور دیگر حلقے تسلیم کرنے کو ہرگز تیار نظر نہیں آرہے کہ 17 برس کی بھرپور جنگ اور اربوں ڈالر کے خرچ کے بعد طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے ایما پر نہیں کیا ہے۔ اگست 2016 میں جنوبی ایشیاء کے بار ے میں اپنی نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بلکہ پاکستان کو Do More کے لئے قائل کرنے کو انتہائی سخت زبان استعمال کی۔ بھارت کو اس خطے کا تھانے دار تسلیم کرنے کا عندیہ بھی دیا۔ مذکورہ پالیسی کے اعلان سے قبل اپنے ٹویٹس کے ذریعے صدر ٹرمپ وقتاً فوقتاً پاکستان کو برا بھلا کہتا رہا۔ شاہد خاقان عباسی کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران سیاسی اور عسکری قیادت نے باہم مل کر بڑی بردباری سے اس کے دھمکی بھرے ٹویٹس کو نظرانداز کیا۔ خاموش سفارت کاری پر توجہ دیتے ہوئے ٹرمپ کو اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ طالبان اور امریکہ کے مابین جاری مذاکرات کے اس نازک مرحلے پر پاکستان کو افغانستان کے مستقبل کے بارے میں بردبار خاموشی برقرار رکھنا ہوگی۔ طالبان کو مذاکرات کی میز تک پہنچانے میں مدد دینے کے بعد ہمارا رویہ واضح طورپر اب "امریکہ جانے اور افغان معاملات" والا ہونا  چاہیے۔ اشرف غنی اور دیگر افغان رہ نمائوں کو بے ساختہ ریمارکس کے ذریعے یہ جواز فراہم نہیں کرنا چاہیے کہ وہ امریکہ کی جانب سے نظرانداز کئے جانے کی وجہ سے کھولتے غصے کو پاکستان پر مبذول کردے۔ افغان "قوم پرستی" کے بہانے پاکستان کو مورودِ الزام ٹھہرانے کا سلسلہ چل پڑا تو بھارت آگ کو بھڑکانے میں ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔ چند ہی روز قبل لکھے ایک کالم میں تفصیل سے عرض کرچکا ہوں کہ زلمے خلیل زاد سے فقط اشرف غنی ہی ناراض نہیں۔ مودی سرکار بھی طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات میں ہوئی پیش رفت سے کافی خفت محسوس کررہی ہے۔