1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. پروفیسر رفعت مظہر/
  4. صادق و امین حکمران کا فارن فنڈنگ کیس

صادق و امین حکمران کا فارن فنڈنگ کیس

مانا کہ نوازلیگ اور پیپلزپارٹی کے ادوار کرپشن کی غلاظت میں لتھڑے ہوئے۔ تحریکِ انصاف کے نزدیک مولانا فضل الرحمٰن بھی کرپٹ اور پی ڈی ایم کی باقی جماعتیں بھی دودھ کی دھلی نہیں۔ جب عمران خاں کو "بابا رحمتا" نے صادق وامین قرار دیا توہم خوش تھے کہ ہمیں ایک ایسا حکمران نصیب ہوا جس کی صداقتوں پر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت مہرِتصدیق ثبت کر چکی۔ ہمیں یہ بھی خوشی تھی کہ اب ریاستِ مدینہ کی طرز پر نئے پاکستان کی تشکیل ہونے والی ہے۔ ہم منتظر رہے لیکن اڑھائی سال گزرنے کے باوجود ریاستِ مدینہ کی ایک اینٹ بھی نہیں رکھی جاسکی کیونکہ خاں صاحب کا ٹارگٹ تو صرف اپوزیشن تھی اور ہے۔ اُنہوں نے قوم کو جو "سبزباغ" دکھائے اُن کو چھوڑتے ہیں کہ اِس پر ہزاروں کالم لکھے جا چکے۔ اِس امر سے بھی درگزر کہ ریاستِ مدینہمیں تو کوئی شخص بھوکا نہیں سوتا تھا جبکہ پاکستان میں بھوکوں مرتے لوگ خودکشیوں پر مجبور۔ یہ بھی چھوڑ دیتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ قرض اِسی حکومت نے لیا۔ اِسی "تبدیلی سرکار" کے دَور میں مودی کشمیر ہڑپ کر گیا اور ہم مُنہ دیکھتے رہ گئے۔ بی آر ٹی، مالم جبہ، آٹا چینی اور دیگر سکینڈلزسے صرفِ نظر کرتے ہوئے ہمارا سوال یہ کہ فارن فنڈنگ کیس کیا ہے جس پر تحریکِ انصاف نے ہر تاخیری حربہ اختیار کیا؟ ۔ یہ سوال بھی کہ کیا صادق وامین حکمران سے ایسے تاخیری حربوں کی توقع کی جا سکتی تھی؟

14 نومبر 2014ء میں پی ٹی آئی کے منحرف رُکن اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کی مالی بے ضابطگیوں کے خلاف ایک درخواست دائر کی جس میں الزام لگایا گیا کہ پارٹی نے ممنوعہ ذرائع سے فنڈز وصول کرکے 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے بذریعہ ہنڈی پارٹی کے بینک اکاوَنٹ میں منتقل کیے۔ اِس درخواست میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ تحریکِ انصاف نے اِن بینک اکاوَنٹس کو الیکشن کمیشن سے خفیہ رکھا۔ تحریکِ انصاف نے پہلا تاخیری حربہ اختیار کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے فنڈز کی چھان بین کے الیکشن کمیشن کے دائرہَ اختیار کو چیلنج کر دیا۔ جب الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر 2015ء کو تحریکِ انصاف کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی فنڈز کی چھان بین کا اختیار ہے تو تحریکِ انصاف دوسرا تاخیری حربہ استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ چلی گئی۔

26 نومبر 2015ء کو تحریکِ انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کے دائرہَ اختیار اور اکبر ایس بابر کے مدعی بننے پر اعتراضات کی درخواست جمع کروا دی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈیڑھ سال بعد 17 فروری 2017 کو تحریکِ انصاف کی درخواست مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ وہ اکبر ایس بابر کی حیثیت کی جانچ کرے۔ الیکشن کمیشن نے دوبارہ سماعت میں یہ فیصلہ دیا کہ اکبر ایس بابر کو تحریکِ انصاف سے نکالے جانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اعلیٰ عدالتوں سے حکمِ امتناہی خارج ہونے کے بعد الیکشن کمیشن میں دوبارہ سماعت شروع ہوئی اور مارچ 2018ء میں فنڈز کی سکروٹنی کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی۔ 3 جولائی 2018ء میں الیکشن کمیشن نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو کہا کہ چونکہ تحریکِ انصاف ضروری تفصیلات فراہم نہیں کر رہی اِس لیے اُس کے 2009ء سے 2013ء تک کے بینک اکاوَنٹ کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ سٹیٹ بینک نے تحریکِ انصاف کے 23 بینک اکاوَنٹس کی تفصیلات فراہم کیں جبکہ پارٹی نے الیکشن کمیشن کے پاس صرف 8 اکاوَنٹس کی تفصیلات فراہم کی تھیں۔ مئی 2019ء میں تحریکِ انصاف نے الیکشن کمیشن کو درخواست دی کہ سکروٹنی کے عمل کو خفیہ رکھا جائے۔ 10 اکتوبر 2019ء کو الیکشن کمیشن نے یہ درخواست مسترد کر دی اور سکروٹنی کمیٹی کو کارروائی جاری رکھنے کا حکم جاری کیا گیا۔

تحریکِ انصاف نے اِس کیس میں التوا کی 30 سے زائد درخواستیں مختلف عدالتوں اور الیکشن کمیشن میں دائر کیں اور الیکشن کمیشن نے 21 سے زائد مرتبہ پارٹی اکاوَنٹس کا ریکارڈ جمع کروانے کے نوٹس دیئے۔ ہر طرف سے مایوس ہو کر تحریکِ انصاف نے 14 جنوری 2021ء کو یوٹرن لیتے ہوئے یہ موَقف اختیار کیا کہ اگر کوئی غیرقانونی فنڈنگ ہوئی ہے تو اِس کے ذمہ دار ایجنٹس ہیں۔ تحریکِ انصاف نے کہا کہ عمران خاں کی ہدایت پر 2 ایجنٹوں کو تعینات کیا گیا اور اُنہیں واضح ہدایت دی گئی۔ اگر واضح ہدایت کے باوجود غیرقانونی فنڈنگ کی گئی ہے تو اِس کی ذمہ داری تحریکِ انصاف پر عائد نہیں ہوتی۔ حقیقت مگر یہ کہ گزشتہ 6 سالوں سے تحریکِ انصاف کا یہ دعویٰ رہا کہ پارٹی کو کسی قسم کی کوئی غیرقانونی فنڈنگ نہیں ہوئی۔ اب 6 سال بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر غیرقانونی فنڈنگ ہوئی تو ایجنٹس کی غلطی سے۔ اُدھر اکبر ایس بابر نے کہاکہ پی ٹی آئی کو فنڈنگ ایجنٹس کے ذریعے سے نہیں بلکہ 2 کمپنیوں سے ہوئی۔ اُس کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی نے سکروٹنی کمیٹی کو جعلی دستاویزات پیش کی ہیں۔ اصل دستاویزات امریکی ویب سائیٹ پر موجود ہیں اور وہی دستاویزات سکروٹنی کمیٹی حاصل بھی کر چکی ہے۔ اکبر ایس بابر نے مزید کہا کہ تحریکِ انصاف نے تحریری طور پر پہلی مرتبہ یہ تسلیم کیا کہ فارن فنڈنگ ہوئی لیکن ملبہ ایجنٹس پر ڈال دیا گیا حالانکہ تمام فنڈریزنگ عمران خاں اور تحریکِ انصاف کی مرضی سے ہوئی۔

فارن فنڈنگ ایکٹ کے تحت تمام سیاسی جماعتوں کو مالی سال کے 60 دنوں کے اندر الیکشن کمیشن میں سالانہ آمدن اور اخراجات سے حاصل ہونے والے فنڈز کے ذراءع، اثاثے اور واجبات کی رپوٹ جمع کروانی ہوتی ہے اور سیاسی جماعت کا سربراہ الیکشن کمیشن میں ایک سرٹیفیکیٹ جمع کرواتا ہے جس میں یہ اقرار کیا جاتا ہے کہ تمام مالی تفصیلات درست ہیں اور کوئی بھی فنڈ ممنوعہ ذرائع سے حاصل شدہ نہیں۔ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 2002ء کے تحت وفاقی حکومت کسی بھی ایسی سیاسی جماعت کو تحلیل کر سکتی ہے جو غیرملکی فنڈز کے ذریعے قائم کی گئی ہو یا اِس کے قیام کا مقصد پاکستان کی خودمختاری و سالمیت کے خلاف ہو یا دہشت گردی میں ملوث ہو۔ اِس قانون کے مطابق سیاسی جماعت کے تحلیل ہونے کے بعد اِس جماعت کے تمام صوبائی و وفاقی ارکانِ پارلیمنٹ کی رُکنیت منسوخ ہو جاتی ہے۔

ماہرینِ قانون کے مطابق غیرملکی فنڈنگ کے علاوہ اگر الیکشن کمیشن میں کوئی چیز پوشیدہ رکھی گئی ہو تو یہ بددیانتی ہے جس پر آرٹیکل 61 اور 62 کے تحت کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔ پولیٹیکل پارٹیزایکٹ 2017ء کے تحت کسی غیرملکی شہری یا غیرملکی کمپنی کا سیاسی جماعت کو فنڈ فراہم کرنا ممنوع ہے جس پر پارٹی کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے اور اگر الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت ڈیکلیریشن جاری نہیں کرتی تو معاملہ سپریم کورٹ میں جائے گا جو فیصلہ کرے گی کہ سیاسی جماعت قانون کے تابع ہے یا نہیں۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ تحریکِ انصاف فارن فنڈنگ قبول کر چکی اور اُس پر الیکشن کمیشن میں اثاثے چھپانے کا الزام بھی ہے۔ اِسی لیے 11 جماعتی اتحاد پی ڈی ایم 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کر رہا ہے کہ 6 سال سے لٹکے ہوئے اِس معاملے کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔