/ قمر الزمان وڑائچ / ہائیکورٹ بینچ فیصل آباد کا قانونی حق!‎

ہائیکورٹ بینچ فیصل آباد کا قانونی حق!‎

آبادی کے لحاظ سے فیصل آباد اب پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے جس کی آبادی 5 ملین سے تجاوز کر رہی ہے۔  اس شہر کو 'سٹی آف ٹیکسٹائل' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ یہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی برآمدات کا تقریباً 40 فیصد تیار کرتا ہے۔ کاروبار، زراعت وغیرہ میں یہ اپنی مثال آپ ہے جبکہ یہ قانونی و عدالتی حیثیت سے عدالتِ عالیہ لاہور کے تابع ہے۔ عدالت عالیہ لاہور یا لاہور ہائی کورٹ (Lahore High Court) پاکستان کے صوبہ پنجاب کی سب سے بڑی عدالت ہے جو 1919 میں قائم کی گئی تھی جس کے بنچ مختلف شہروں ملتان، بہاولپور اور راولپنڈی میں تعمیر کیے گئے ہیں۔ فیصل آباد کے وکلاء کئی بار تجویز بھجوا چکے ہیں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

اب فیصل آباد سیشن کورٹ کے وکلاء دو ماہ سے عدالتوں کا بائیکاٹ کر کے احتجاج اور ہڑتال کئے ہوئے ہیں اور عوام اپنے زیرِ التواء مقدمات کی وجہ سے نہایت پریشان ہے۔ حال ہی میں 18 دسمبر کو وکلاء کے ایک وفد نے قومی اسمبلی کے انتخابی نمائندگان کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات بھی کی ہے لیکن کوئی خاطر خواہ کامیابی دیکھنے میں نہيں آرہی۔ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصل آباد جیسے بڑے اور کاروباری شہر کو ہائیکورٹ سے محروم رکھنا عوام کے قانونی حق کو مجروح کرنا ہے کیونکہ دستور کی شق (4)37 کے تحت عوام کو سستا اور سہل الحصول انصاف فراہم کرنا مملکت کی ذمہ داری ہے۔ مزید برآں دستور کی شق (4)198 کے تحت عدالت ہائے عالیہ ہر ایسے مقامات پر بنچیں قائم کر سکتی ہے جسے گورنر کابینہ کی رائے اور چیف جسٹس کے مشورہ سے متعین کرے۔

ان حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ہائیکورٹ بنچ فیصل آباد کا بنیادی قانونی حق ہے تاکہ عوام کو سہل انصاف فراہم کیا جائے۔