Thursday, 17 October 2019
/ مزاحیات / عبدالحی / پیٹ آگے ٹانگیں پیچھے

پیٹ آگے ٹانگیں پیچھے

میں اپنی زندگی میں بہت سے کشمیریوں سے ملا ہوں میرے ایک نہایت قریبی دوست کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے علاقہ بارہ مولا سے ہے ویسے تو جن کشمیریوں سے میری ملاقات رہی ہے وُہ گورے چٹے رنگ روپ کے خوبصورت لوگ ہوتے ہیں لیکن جب میں اپنے دوست کو دیکھتا ہوں تو مجھے مشہور کامیڈین امانُ اللہ صاحب کا وہ جملہ یاد آ جاتا ہے اُنہوں نے کہا تھا کہ ویسے تو میں بھی بٹ ہوں بس میری پیدائش کے وقت امی جی ملوک زیادہ کھاتی تھیں۔ خیر جی کشمیریوں میں کئی طرح کی ذاتیں پائی جاتی ہیں جن میں شیخ، خواجہ، ڈار اور سب کے سردار بٹ ذیادہ قابلِ زکر ہیں جی ہاں یہاں سردار بٹوں سے مراد کھانے پینے میں سب کے سردار ہیں، میرے ذاتی خیال میں بٹوں کو کھانا پینا بلکل بھی پسند نہیں ہے بلکہ ان کی تو خوراک سے دشمنی ہے تبھی تو انہوں نے اناج کو کھا کھا کر دنیا سے ختم کرنے کاتہیہ کر رکھا ہے، جس دن کوئی بٹ صاحب گھر سے باہر کسی دکان پہ کھانے کے ارادے سے رُخ کریں اُس دن علاقہ کے بیشتر لوگوں کو اپنے پسندیدہ نان چنوں سے محروم رہنا پٹرتا ہے کشمیریوں کا نام آتے ہی بہت سے کھانے ذہن میں آتے ہیں جن میں کچھ تو ایسے ہیں جو کشمیریوں کی پہچان بن چکے ہیں جن میں بونگ ، سری پائے، نان چنے اور دال چاول سرفہرست ہیں، ایک دفعہ ایک بٹ صاحب اپنے بچوں کے ساتھ کہیں جا رہے تھے تو میرے ایک اور دوست نے مجھ سے پوچھاکہ کیا ان بٹ صاحب کے بچے بھی بڑے ہو کے بٹ ہی بنیں گے میں نے اُس کے احمقانہ سوال کا کوئی جواب نہ دیا گویا لوگوں کی نظر میں بٹ کوئی اور مخلوک ہے جن کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، امان اللہ صاحب نے ایک اور جملہ کہا تھا کہ اگرلوگوں کی بھیڑ میں آپ نے بٹ پہچاننے ہوں تووہ لوگ دیکھے جن کی ٹانگیں اُن کے پیٹ کا پیچھا کرتی دکھائی دیں۔

میں نے سنا تھا کہ جانورں میں خطرے کی ہس بہت تیز ہوتی ہے اور وہ دور سے ہی خطرے کو بھانپ لیتے ہے پریکٹکلی یہ بات تب دیکھی جا سکتی ہے جب ایک بٹ صاحب پولٹری شاپ پہ چلیں جائیں تو انہیں دیکھ کر مرغیاں ایک طوفانِ بدتمیزی برپا کر دیتی ہیں برائلر مرغی جو صحیح طرح سے اپنی ٹانگوں پہ کھڑی نہیں ہو سکتی بٹ بھائی کو دیکھ کر وہ بھی پنجرہ توڑ کے بھاگنے کی سر توڑ کوشش کرتی ہیں اب ان بے زبان احمق پرندوں کو کون سمجھائے کہ بٹوں کا شمار بھی انسانوں میں ہوتا ہے اور یہ ان کو زندہ سالم منہ میں نہیں ڈالیں گئے اکثر عید قرباں کے موقع پہ محلہ کے بکروں میں بھگدڑ مچی دیکھی ہے پتہ کرنے پہ معلوم ہوتا ہے کہہ کسی بٹ صاحب کا گلی میں سے گزر ہوا ہے، ایک صاحب نے تو حد ہی کر دی اُنہوں نے مجھے بتایا کے ایک بٹ صاحب کی آمد پہ اُس نے زبح شدہ بکرے کو بھاگتے دیکھا ہے ویسے میں ان باتوں کو افواہیں مانتا ہوں مجھے امید ہے کے آپ بھی ان پر خاص توجہ نہیں دیں گے، میرے ذاتی تجزیے میں بٹ ایک بہادر قوم ہے یہ لوگ وہا ں بھی اُلجھ پڑتے ہیں جہاں کوئی مسئلہ بات چیت سے بھی حل ہو سکتا ہو، اکثر محلے بازاروں کی لڑائیوں میں جو مین کریکٹر سامنے آتا ہے وہ کوئی بٹ ہی ہوتا ہے بلکل نہیں جناب میں بٹ بھائیوں کو لڑاکو بلکل نہیں کہہ رہا دراصل پہلے زمانوں میں زور آزمائی کے لیے پہلوانی جیسے شوق ہوا کرتے تھے لیکن چونکہ فنِ پہلوانی اب دم توڑ رہا ہے کھاڑے نایا ب ہو جکے ہیں تو شاید بٹ برادران اپنے طریقے سے اس فن کو زندہ رکھنے کی کوشش میں لگے ہیں۔میرے والد مرحوم کے ایک دوست جن کا تعلق ڈار فیملی سے ہے اور وہ لڑائی جھگرے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اُنہوں نے بڑھاپے میں مُونچھیں رکھ لیں میں نے پوچھا چاچا جی یہ بڑھاپے میں اب سفید مونچھیں رکھنے کا کیا مقصد ہواتو وہ بولے بیٹا طبیعت میں ہر کسی سے اُلجھنا لڑکپن سے شامل ہے اب بھی کسی سے دست و گریباں ہونے کی کوشش کروں تو سفید مونچھیں دیکھ کر سامنے والا بڑھاپے کا لحاظ کر لیتا ہے، میں اپنی یہ تحریر بٹ برادری سے صرف اتنی التجا پہ ختم کرنا چاہتا ہوں کہ وہ جتنی مرضی خوش خوراکی سے کام لیں لیکن وہ اپنے حصے کے رزق سے زیادہ نہیں کھا سکیں گے اور وہ حصہ یقینن اس کُرہ عرض میں خوراک کا ایک چوتھائی ہے۔