Thursday, 17 October 2019
/ مزاحیات / عبدالحی / ناقد ین (تاریخ کے قاتل)

ناقد ین (تاریخ کے قاتل)

یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو پوری دنیا میں کثرت سے پائے جاتے ہیں اور ذندگی کے ہر شعبہ سے وابسطہ ہوتے ہیں ان کا بنیادی کام اپنے علاوہ ہر انسان اور اپنے علاوہ کیے گئے ہر کام کو ہر لحاظ سے غلط ثابت کرنا ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں بھی ایسے لوگوں کا ایک جم غفیر موجود ہے جو دن بھر اور آئے دن اس کھوج اور کوشش میں رہتے ہیں کہ کس طرح اپنے شعبہ سے وابسطہ لوگوں کے کاموں کی خامیوں کو دنیا کے سامنے لایا جائے یہاں اگر میں ملکی حکومت کے حولے سے بات کروں توکوئی ایک انسان نہیں پوری ایک جماعت اس کام میں مصروف دکھائی دیتی ہے جسے اپوزیشن کہتے ہیں، اپوزیشن کا کام یہ ہے کہہ حکومت کا ہر اقدام چاہے وہ برا ہو یا اچھا اُس پہ کیچڑ اچھالا جائے ہمارے یہاں اس بات کی تازہ ترین مثال حکومت کے PSL کو لاہور میں منعقد کرائے جانے کے فیصلہ کے خلاف عمران خان کا بیان ہے، میرے ذاتی نظریے میں واحد عمران خان ایسی کرکٹ شخصیت تھے جو اس مثبت قدم کے مخالف تھے اور وجہ وہی جو میں آپ کو بتا چکا ہوں۔ بعض لوگ اپنی ذندگی میں ناقدین کو بہت مثبت انداز میں لیتے ہیں ان کے وجود کو اہمیت دیتے اور اپنی ترقی کے لیے بہت ضروری قرار دیتے ہیں وہ ناقد کی ہر مخالفت کا سامنا کھلے دل سے کرتے ہیں اور اصل میں ایسے لوگ ہی صحیح معنوں کامیاب بھی ہوتے ہیں کیونکہ بقول علامہ اقبال صاحب:

تندیِ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اُونچا اڑانے کے لیے

مجھے سب سے زیادہ تکلیف تاریخ کے ناقدین سے ہے کیونکہ سیاست میں تو ہر ایرا غیرا نتھو خیرا منہ اٹھا کے جس مرضی کے خلاف ییان دے دیتا ہے لیکن جب ہسٹری کی بات آتی ہے توایک بہت بڑی تعداد پڑھے لکھے سمجھدار اور باشعور لوگوں کی ہے جو تاریخ اور خاص کر کے مسلم ہسٹری کے ایسے پرخچے اُڑاتے ہیں کہ کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ایسے لوگ جب اپنی ائی کو آتے ہیں تب یہ نہ تو کسی کی خدمات کا خیال کرتے ہیں نہ کسی کی بزرگی کا اور نہ کوئی بڑائی ان کی سوچ کے آگے کوئی اہمیت رکھتی ہے اور یہ چُن چُن کے تاریخ کے عظیم ناموں ، ہستیوں کو کھلے عام بدنام کرتے نظر آتے ہیں، اور اپنے چاہنے اورسننے والوں کے دل و دماغ میں صرف زہر بھرتے ہیں ماضی کی مثال میں زیادہ دور نہ بھی جایا جائے تو علامہ اقبا ل، قائداعظم، مرزا غالب، ساغر صدیقی یہ وہ ہستیاں ہیں جن کے مخالفت میں بیشمار مواد موجود ہے اور میں نے خود باقاعدہ ان کے خلاف کالم پڑھے ہیں اس سے کچھ پہلے کا زکر کیا جائے تو آٹھ سو سال پر محیط مغلیہ دور ہے آپ کے اگر علم میں نہ ہو تو میں بتاتا چلوں کہہ چار کتابیں تو میری نظر سے گزر چکی ہیں جو دورِ مغلیہ کے خلاف چھپ چکی ہیں ان کتابوں کے مصنفوں میں دو کا تعلق پاکستان اور دو کا ہندوستان سے ہے میں ہر گز آپ کو اس بات پہ قائل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا کہہ مغلیہ حکومت میں کسی طرح کے نقائص نہیں رہے ظاہر ہے زوال کا سلسلہ بھی لمبا تھا اور زوال نقائص ہی کی بدولت ہوا لیکن میرا نقطہ بڑا مختصر اور صاف ہے کہ جس طرح تمام تر مسائل کے ہوتے ہوئے تمام تر مشکلوں کے باوجود ہم اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں جس طرح تمام تر برائیوں کے باوجود ہم اپنے آپ کو پسند کرتے ہیں بلکل اسی طرح ہمیں اپنے ماضی کے لیے بھی مثبت سوچ رکھنے کی ضرورت ہے اور اچھی باتوں کو پوٹرے کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہماری آنے والی نئی نسلیں ماضی پہ شرمندہ ہونے یا ہمارے مُحسنوں پر انگلی اٹھانے کے بجائے دل سے اُن کی عزت کریں ،اور اُن لوگوں کے کیے گئے لاتعداد اچھے کاموں کو اپنے لیے مثلِ راہ بنائیں اور انہی کی بیشمار اچھی باتوں کو اڈوپٹ کریں یہی طریقہ ہے کہ ہمارے محسن ہمارے اندر ہماری زندگی میں، تاریخ میں اور ہماری آنے والی نئی پیڑہیوں کے دلوں میں زندہ رہ سکتے ہیں اور اگر ناقدین کا یہی رویہ رہا اور ہمارے ماضی کو ہمارے مستقبل کے سامنے ایسے ہی شرمندہ کیا گیاتو آنے والے وقت میں ہمارے پاس نہ تو ہمارا ماضی ہو گا نہ ہی مستقبل اور یہی ناقدین ہر دور کی تاریخ کے قاتل کہلائیں گئے۔