/ مزاحیات / عبدالحی / پرائم منسٹر

پرائم منسٹر

ویسے تو میں اس کالم کا نام ہوم منسٹر رکھنا چاہ رہا تھا لیکن مجبوری یہ رہی کہ اگر میری ہوم منسٹر کی نظر سے یہ تحریر گزر جاتی تو شائع ہونے کے بجائے یہ کالم چولھے کی نظرہو جاتا۔ سو ان کی نظر کو دھوکے میں رکھنے کے لیے مجھے سیاسی ہیڈنگ کا سہارا لینا پڑا کیونکہ عام طور پر گھریلو عورتیں سیاست سے اُتنی ہی دلچسپی رکھتی ہیں جتنی مہینے کے آخری دنوں میں شوہر کی جیب سے، اصل میں آج کی تاریخ سے جس مبارک مہینے کا آغاز ہو رہا ہے دس سال پہلے اس ماہ میری شادی خانہ آبادی ہوی تھی یقینًا شادی شدہ افراد کے دل میں یہ خبر پڑھ کر میرے لئے ہمدردی جاگی ہو گئی لیکن بھائی لوگ ایسی کوئی بات نہیں میں یہ کالم آپ لوگوں کی ہمدردیاں لینے کے لئے نہیں بلکہ مزاح کی نیت سے لکھ رہا ہوں۔

میری بارات کا دن تھا نکاح بھی اسی دن طے پایا تھا میں بہت جوش و خروش کے ساتھ تیاری میں مصروف تھاکہ میرے فون کی گھنٹی بجی فون رسیو کیا تو ایک پرانا کولیک جو ایک دوسرے شہر رہائش پزیر تھااُس کی آواز آئی جسے میں نے شادی کا دعوت نامہ بھیجا تھا، سلام دعا کے بعداُ س نے شادی میں شرکت نہ کر سکنے کی ایڈوانس معذرت کی اور پھر وہ میرا نام لے کے مخاطب ہوا اور بولا اگر آپ بُرا نہ مانیں تو میں اپنے فون کرنے کی اصل وجہ آپ کو بتانا چاہتا ہوں؟ میں نے کہا بولو یار میں بھلا بُرا کیوں مناؤں گا؟ تو اُس نے کہا اس وقت یقینا آپ بہت خوش ہوں گئے، لوگ آپ کو مبارک بادیں دے رہے ہوں گئے، ہر طرف خوشی کا سماں ہو گا لیکن ان سب باتوں کے باوجود میں آپ سے کہتا ہوں ابھی بھی وقت ہے سوچ لیں! میں نے کہا یار میں سمجھا نہیں تو وہ بولا بھائی بھاگ جا کہیں پر اور شادی سے انکار کر دے، میں نے زور دار قہقہ لگایا تو اس نے کہا جناب جب میری شادی ہو رہی تھی تو مجھے ایسی وارنگ دینے والا کوئی نہیں تھا لیکن میں آپ کو خبردار کر رہا ہوں کل کو آپ پچھتائیں گئے کہ رانا صاحب نے فون کیا بھی تھا کاش میں نے اُن کی بات مذاق میں نہ اُڑائی ہوتی، اس دفعہ بھی میرا جواب قہقہ ہی تھا جو کہ یقینًا نیچرل تھا۔

معزز قارئین میری شادی کو اب عرصہ دس سال گزر چکا ہے اور آپ انداذہ لگا سکتے ہیں کہ میری شادی میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی ہو گئی سینکڑوں لوگوں نے مجھے مبارک بادیں دیں ہوں گئی درجنوں لوگوں نے مجھے کامیاب شادی شدہ ذندگی گزارنے کے مشورے دیے لیکن مجھے کچھ یاد نہیں سوائے اُس ایک ٹیلیفون کال کے اور اُس دوست کے مشورے کے۔ اب میں اور زیادہ تو کچھ نہیں کر پاتا لیکن جب بھی کسی دوست یاعزیزوں میں شادی کاسنتا ہوں تومیری طرف سے ایک گُمنام فون اُن صاحب کو جاتا ہے اور میں اُنھیں وہی مشورہ دیتا ہوں جس پر میں نے عمل نہیں کیا تھا اور جواب میں فون ایک زوردار قہقہ کے ساتھ بند ہو جاتا ہے۔