1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. عبد الوہاب/
  4. پانامہ کیس کا عدالتی فیصلہ اور تین سبق

پانامہ کیس کا عدالتی فیصلہ اور تین سبق

ویسے تو عدالتوں میں مقدمات داخل ہوتے ہیں، قانون کے مطابق عدالتی کاروائی چلتی ہے اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے عدالتیں فیصلے سناتی ہیں۔ لیکن پانامہ کیس ایک اہم مقدمہ تھا جس کا تعلق ملک کے ایک وزیر اعظم اور اس کے خاندان کے معاملات سے تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ سنایا اور میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا۔ نتیجتاًوزارت عظمیٰ سے مستفی ہونا پڑا۔

اس فیصلے سے یقیناً میاں نواز شریف، ان کا خاندان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ارکان ناخوش ہوئے اور دوسری طرف پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور اس کی جماعت کے لوگ بہت خوش ہوئے اور مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی اور دیگر مخالفین نے بھی اس فیصلے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور اس کی جماعت کے لوگوں نے اس فیصلے کے بعد یقیناً اپنے مستقبل پر غور و فکر کیا ہوگا۔ اور مستقبل کی منصوبہ بندی بھی کرلی ہوگی، اور اب تو انہوں نے عبوری وزیر اعظم بھی منتخب کرالیا ہے تاکہ وہ ضمنی اور عام انتخابات میں اپنا مستقل وزیر اعظم مقرر کریں جو ان کے مفادات کو مد نظر رکھ کر حکومت چلائے لیکن اس بات پر شاید ہی غور کیا ہو کہ حکومتیں تو عوام کی خدمت کیلئے ہی قائم ہوتی ہیں، کہ عوام ہی ووٹ دیتے ہیں۔ لیکن پاکستانی سیاست میں ایسا کم ہی دیکھا گیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت نے الیکشن جیتنے کے بعد حکومت بنا کر عوام کی خدمت کیلئے کیے گئے وعدے بھی پورئے کیے ہوں۔

اس لیئے اس عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی رہنماؤں کیلئے چند باتیں غور طلب ہیں۔ جو درجہ ذیل ہیں:

1۔ پہلا سبق: حکومت میں شامل صاحبان اقتدار کیلئے:

اب بھی وقت ہے کہ ذاتی و سیاسی مفادات کے بجا ئے ملک کے عوام کیلئے بھی کچھ کام کیا جا ئے اور اس طرح یہ بھی ثابت کیا جا ئے کہ عوام کے مفادات کو اہمیت دی جا ئے گی اور ویسے بھی انتخابات میں عوام کے پاس ہی جانا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بعد عوام کی طاقت ہی ہے جو ان کو بار بار ہراقتدار میں لانے کیلئے بے حد ضروری ہے۔

2۔ دوسرا سبق: حزب اختلاف کے سیاست دانوں کیلئے:

اس عدالتی فیصلے کے بعد اور حکومت ختم ہونے پر خوشیاں مناتے وقت یہ ضرور سوچا جا ئے کہ یہ کوئی آخری فیصلہ ہی نہیں اب ان کی بار ی بھی آسکتی ہے اور ان کو بھی حساب دینا پڑیگا۔ اس لیئے مثبت انداز سیاست اپنا یا جا ئے۔ دھوم دھڑکے کی سیاست کی بجائے سیاسی اصولوں کے تحت افہام و تفہیم سے سیاست کی جا ئے اور عوام کو در پیش حقیقی مسائل کو ضرور پیش نظر رکھا جا ئے اسی سوچ میں ہی آئندہ کی کامیابی کا دارومدار ہے ورنہ تو ڑ پھوڑاور نازیبا زبان استعمال کرنے سے نہ ان کو یا ان کی سیاسی جماعتوں کو کوئی فائدہ پہنچے گا اور نہ ملک میں امن و امان ہی قائم ہوسکے گا۔ جس کی اس وقت اشد ضرورت ہے، ملک سے دہشتگردی ختم کرنے کیلئے تو تمام سیاسی جماعتوں کو چاہے وہ حکومت میں ہوں یا حزب مخالفت ملکر کام کرنا پڑیگا۔

3۔ تیسرا سبق: ملک کے عوام کیلئے:

سیاست اور ریاست میں عوام کا کردار بے حد اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ عوام کی طاقت سے انقلا ب آجاتا ہےاس لیئے عوام کا فرض ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں، اچھے اور باکردار لوگوں کو انتخابات کے ذریعے اسمبلیوں میں بھیجیں جو ان کے مسائل کے حل کیلئے کام کریں اور ملک و قوم کی ترقی کیلئے کوشاں رہیں کیونکہ اب تک ملک میں بڑے مشکل حالات رہے ہیں، ملک ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گیا ہے اور بعد میں وجود میں آنے والے ممالک بھی ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوچکے ہیں۔ اس لیئے اب خالی نعرے بازی سے متاثر ہوکر ووٹ دینے کی بجا ئے سوچ سمجھ کر ووٹ کا استعمال کریں۔ پھر امید رکھنی چاہیئے کہ انشاء اللہ تعالیٰ بہتری ہوگی۔