1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. عبد الوہاب/
  4. قومی اداروں کی تباہی کا ذمہ دار کون؟

قومی اداروں کی تباہی کا ذمہ دار کون؟

یوں تو یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ ملک کے اکثر ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں لیکن کچھ بڑے ادارے جیسے پاکستان اسٹیل، پاکستان ریلویز اور پی آئی اے اس قدر متاثر ہوئے ہیں کہ ان کی بحالی کیلئے کئی سال درکار ہیں۔ ان میں پاکستان اسٹیل تو مکمل طور پر بند ہے۔ البتہ پاکستان ریلوے اور پی آئی اے کام کررہے ہیں لیکن مسلسل خسارے میں ہیں اور فی الوقت ان کی بہتری اور بحالی کے امکانات کم ہی نظر آرہے ہیں اور کوئی بھی حکومت چاہے وہ ماضی کی ہو یا موجودہ، ان اداروں کی بحالی میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ دنیا میں ایسا کونسا کام ہے جو نا ممکن ہو۔ اس سلسلے میں چین، جاپان، کوریا، تائیوان اور ملائیشیا کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں بلکہ چین اور جاپان تو اب ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوچکے ہیں لیکن ہم ملائیشیا کی مثال لے لیں اس کی ترقی کیلئے مہاتیر محمد نے کیا اصول اپنائے تھے ہم ان کا مطالعہ کریں اور ان کی روشنی میں ہم اپنے ملک کے قومی اداروں کو ترقی دے کر اپنی معیشیت کو مستحکم بنائیں۔ لیکن ہم ایسا نہیں کررہے کیوں کہ ایسا کرنے سے ہمارے ذاتی سیاسی مفادات قربان کرنے پڑیں گےجو ہمیں منظور نہیں۔ دوسری طرف مہاتیر محمد کی بات کریں تو وہ ایک عظیم رہنما ثابت ہوئے انہوں نے اپنے ملک کی ترقی کیلئے اپنی سیاست قربان کردی، ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال کر اور عزت کے ساتھ حکومت چھوڑ دی ورنہ وہ مقبول لیڈر تھے، آئندہ کئی سال تک حکومت کرسکتے تھے۔

اب آئیے ہم مندرجہ بالا اداروں کی کارگردگی سے متعلق اختصار سے بحث کرتے ہیں۔

پاکستان اسٹیل

یہ ایک بڑا قومی ادارہ ہے جو روس کے تعاون سے شروع کیا گیا جس نے 1970 میں باقاعدہ قائم شروع کیا اور تیزی سے ترقی کے مراحل طے کررہا تھا ہزاروں بے روزگار لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بھی بنا اور ملکی معیشیت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی لئے اہم کردار ادا کررہا تھا لیکن چند نا گزیر وجوہات کی بنا پر یہ ادارہ زیادہ فعال نہ ہوسکا اور زوال پذیر ہوا اور اب تو اس کی اصلاح کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔ ہزاروں لوگ بے روزگار ہوگئے اور یہ ملکی معیشیت پر بوجھ ہے جس کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں۔

1۔ سیاسی: مختلف ادوار میں مختلف حکمرانوں نے اپنے کارکن بھرتی کیئے جو کہ گنجائش سے زیادہ تھے اور ادارہ مالی بحران کا شکار ہوا۔

2۔ ٹریڈ یونین: ادارے کی ٹریڈ یونین (Trade Union) نے بھی اس ادارے میں اپنے کارکن بھرتی کروائے اور انتظامیہ کو بے بس کردیا اور اس طرح مالی بوجھ میں اضافہ ہوا۔

3۔ افسر ان کی طرف سے لوٹ مار:ادارے کو نقصان پہنچانے کیلئے اس ادارے کے افسران بھی کسی سے پیچھے نہیں تھے۔ بھاری تنخواہیں اور مالی مراعات حاصل کرنے کے باوجود بھی انہوں نے بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں جاری رکھیں اور نتیجتاً ادارہ شدید مالی بحران کا شکار ہوا اور اب بند ہوچکا ہے۔

پاکستان ریلوے

پاکستان ریولے ایک بہت ہی قدیمی ادارہ ہے جو 1947 میں پاکستان کے معرض وجود میں آنے پر ورثہ میں ملا۔ جو ملک میں لاکھوں لوگوں کو سفر کی سہولت مہیا کرنے کے علاوہ تقریباً 78000 لوگوں کے لیئے روزگار کا ذریعہ بھی تھا لیکن اس کو بھی لوٹ مار کے ذریعے تباہ کیا گیا۔ روڈ ٹرانسپورٹ مافیا سے ملی بھگت کے ذریعے ٹرینوں کے ایسے غلط ٹائم ٹیبل بنا ئے جاتے رہے جس سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور کاروباری طبقے کے لوگوں کو اپنا سامان لانے اور لے جانے میں بے حد مشکلات درپیش رہیں۔ جس سے ایک طرف لوگوں کو پریشانی ہوئی اور دوسری طرف ریلوے بھی مالی خسارے میں چلا گیا۔ اس سلسلے میں وقتاً فوقتاًکوششیں کی گئیں لیکن بار آور ثابت نہ ہوسکیں۔

پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز (PIA)

یہ ادارہ 1955 میں قومی ملکیت میں شامل کیا گیا۔ اس میں بھی ہر نئی آنے والی حکومت نے اپنے لوگ بھرتی کیئے اور ٹریڈ یونین نے بھی افسران سے مل کر لوٹ کھسوٹ کی اور اس کے علاوہ انتظامی افسران اعلیٰ نے جہازوں کی خریداری اور جہاز کرائے پر لینے (Chartering) میں شاہ خرچی کی جو تاحال جاری ہے۔ جس سے یہ قومی ادارہ بھی مالی بحران کا شکار ہے۔ اگرچہ اس کی اصلاح کیلئے کوششیں کی گئیں لیکن کوئی بہتری نہیں آئی۔

اس سلسلے میں قابل غور بات یہ ہے کہ پی۔ آئی۔ اے کے مقابلے میں نجی ایئر لائینز کامیابی سے چل رہی ہیں اور منافع کمارہی ہیں اور اسی طرح ریلوے کی کچھ لائینوں پر جو ریل گاڑیاں نجی شعبے کو ٹھیکے پر دی ہیں وہ کامیابی سے چل رہی ہیں لیکن پاکستان ریلوے کو خسارہ ہورہا ہے۔

پاکستان اسٹیل کے سلسلے میں کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکیں، اب اس کا حل صرف پرائیویٹا ئیزیشن بتا یا جا رہا ہے اگر یہی حال رہا تو پھر سرکاری شعبے میں کیا رہ جا ئے گا۔

آخر میں ایک گزارش اور ایک سوال کہ ان بڑے قومی اداروں کوتباہ کرنے والوں کو کیا سزا ملی یاملے گی؟ ان اداروں کے علاوہ کچھ اچھے اور منافع بخش ادارے بھی ہیں۔ ان میں بد نظمی اورکرپشن روکنے کیلئے کیا اقدامات کیئے جارہے ہیں ؟ اس پرصاحبان اقتدار کو غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔