/ کالمز / اخلاق احمد خان / انکی قسمت بری تھی، خود برے نہ تھے

انکی قسمت بری تھی، خود برے نہ تھے

دوسری جنگ عظیم کے بعد لکھے گئے پنڈت درگا سہائے کے ایک ہندی افسانے سے ما خوذ۔ پنڈت صا حب نے یہ کہا نی مئی ۱۹۵۱ء میں تحریر کی ۔

دوسری جنگ عظیم ختم ہو چکی تھی مگر اس کے بھیا نک سا ئے ابھی با قی تھے۔ عالمی جنگ نے دنیا ہی پلٹ دی تھی۔ کیا دھر م ، کیا ا خلا قیات ، کیا محبت اور کیا مامتا۔ غرض د نیا کے ٹھو س حقائق سر نگو ں ہو گئے تھے اور قابل اعتبار جذبے بے اعتبار ہو گئے تھے۔ ہر طرف موت کا سناٹا تھا اور حیات مجبور و لاچار تھی۔ لفٹنٹ دیو لال ہندوستانی فوج کے ا س دستے میں شامل تھے جس کو برما کی سر حد پر بھیجا گیا تھا۔ دیو لال 18دسمبر 1945کو یہاں تعینات کئے گئے تھے اور ا ن کی تعیناتی کو آج دس روز ہو گئے تھے۔ برما میں خوراک کا قحط تھااور وہ فوج کے صدر دفتر سے اس قحط کے بارے نئے احکامات لے کر اپنے فوجی ہیڈ کوارٹر کی طرف جارہے تھے۔ یہ تین میل کی مسافت تھی۔ اگر چہ فوجی گاڑی موجود تھی مگر انہوں نے پیدل چلنے کو ترجیح دی۔ سڑک کے دونوں جانب درخت خاموش کھڑے راہ گیروں کو تک رہے تھے۔ تالاب کے کنارے بوڑھا درخت اپنے وجود کو سمیٹے کھڑا تھااور اس کے سو کھے ہو ئے پتوں کے سر مئی سا ئے سطح آب پر لرز ر ہے تھے۔ جب و ہ اپنے ہیڈ کوارٹر پہنچے تو شب کی تاریکی ر فتہ رفتہ پھیل رہی تھی اور ا س میں شفق کی ارغوانی روشنی تحلیل ہورہی تھی۔ لفٹنٹ دیو لال نے دس سال پہلے ہندوستان کے ایک مشہور سیاسی لیڈر کی مغرور اور خود پسند بیٹی سے شادی کی تھی۔ وہ اپنی بیوی سے نا خوش تھے۔ و ہ کب کا اسے طلاق دے چکے ہوتے مگر سسر کی دولت ، شہرت اور حیثیت مانع تھی۔ دیو لال ایک سرکاری ملازم تھے۔ ہر ماہ ا یک لگی بندھی تنخواہ پاتے اور انکے سسر لاکھوں میں کھیلتے۔ دیو لال ڈرتے تھے کہ بیوی کو طلاق دے کر کہیں ا پنے لئے کوئی نئی مصیبت نہ کھڑی کرلیں۔ دس سال سے انکی ازدواجی زندگی شادی اور طلاق کی سرحد پر سوالیہ نشان بنی سسک رہی تھی اور وہ ایک عذاب میں مبتلا تھے۔ لفٹنٹ دیو لال کی قسمت بری تھی مگر و ہ خود برے نہ تھے ، ہم درد ، سیدھے سادے اور بے ضرر۔

فوجی ہیڈ کوارٹر کے عقبی حصے میں انڈین سپاہی سورہے تھے۔ انمیں زیادہ تر اتر پردیش سے برما آئے تھے اور ا نکی پوسٹنگ چھ ماہ کے لئے تھی۔ دیو لال کا وسیع و عریض کمرہ سامنے کی طرف تھا۔ کمرے کی کھڑ کی سے وہ تنگ اور کچی سڑک صاف نظر آتی تھی جس پر و قفے وقفے سے کوئی گاڑی گزر جاتی۔ دائیں طرف ایک چھوٹا سے کچا ہوٹل تھا اور ہوٹل کے پیچھے ایک نیم پختہ مارکیٹ۔ بائیں طرف چند فرلانگ کے فاصلے پر ایک چھوٹی سی آبادی تھی جہاں زیادہ تر وہ لوگ رہائش پذیر تھے جو آسا م یا نیپال سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے تھے۔رات کا ایک بج چکا تھا مگر لیفٹنٹ دیو لال ہنوز جاگ رہے تھے۔ انہوں نے خوراک کے اس سامان کی فہرست تیار کرلی تھی جس کی رسد جنوبی ایشیا ء کے ممالک سے انکے فوجی ہیڈ کورٹر میں پہنچی تھی۔ یہ خوراک برما کے قحط زدہ علا قوں میں بھیجی جانی تھی۔ ہندی اور بنگالی کے اخبارات انکی میز پر بکھر ے ہوئے تھے۔ ایک طرف جنگ کی تباہ کاریوں کا حال ، برطانوی اور امریکی لیڈروں کے جرمنی کے خلاف سخت بیا نات۔ دوسری طرف ہندوستان کی تحریک آزادی اور بر صغیر کی تقسیم کے خدشات۔ وہ ا ن خبروں کی بھول بھلیوں میں کھوئے ہوئے تھے کہ انہیں دور سے کسی عورت کے کراہنے کی آواز سنائی دی۔وہ فوراً باہر لپکے تو دیکھا ایک تیس بتیس سالہ عورت گری پڑی ہے مگر اٹھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیفٹنٹ نے اسے بازو سے پکڑ کر اوپر اٹھا یا اور سہارا دے کر اپنے کمرے میں لے آئے۔ 

’’ شکریہ ، تھوڑا پا نی ہوگا ؟ میرا حلق خشک ہورہا ہے ‘‘ دیو لال نے پا نی پلا یا۔ عورت کے چہرے پر تھکن اور مایوسی کے آثار تھے۔ معلوم ہوتا تھا زند گی کی پر مشقت جدو جہد نے ا سے اقتضا ئے عمر کے بر خلاف سنجیدہ اور بردبار بنادیا ہے۔ اس کی مجبوری اور بے بسی میں ایک عجیب سی کشش تھی۔ دیولال کے دل میں عورت کے لئے ہم دردی کے جذبات پیدا ہوئے۔ 

’’ آ پ کا نا م کیا ہے ؟ ۔۔ اور ۔۔ اور آپ یہاں کیسے گر پڑیں ؟ ۔۔ میرا مطلب ہے کیا حالات ۔۔ ‘‘

’’ میرا نا م کامنی ہے‘‘ اس نے سفید ریشمیں دوپٹہ اپنے سینے کے اطراف لپیٹ کر اپنی جوانی کو ڈھانپنے کی ناکام کوشش کی، سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے بولی ’’ اور جہاں تک گر نے کا سوال ہے۔ معلوم ہوتا ہے ا یک گہرا کنوا ں ہے جس میں گر تی جار ہی ہوں ، ایک نا قابل ختم گرداب ہے جس میں غوطہ زن ہوں ، بے کنار تا ریکی کی پہنا ئیاں ہیں اور میں بھٹک رہا ہوں۔ ہم لوگ ا س شہر میں نئے آئے ہیں۔ ہم لوگ سے مراد ہے میں ، میرا شوہر اور میرا بچہ۔ آ پ کو معلوم ہے ہوش ربا قحط نے سب کے اوسان خطا کررکھے ہیں میں یہ تھیلا لے کر ایک گھنٹے تک لائن میں لگی رہی تاکہ چاول حاصل کرسکوں۔ میرا بچہ گھر میں بھوکا ہے لیکن میرا نمبر آنے سے پہلے ہی چاول ختم ہو گئے۔ واپسی میں راستہ بھول گئی اور تھکن سے چور ہوکر یہاں گر پڑی۔ آپ فرشتہ بن کر میری مدد کو آگئے‘‘

’ چاول لینے آ پکے شوہر کیوں نہیں آئے؟ میرا مطلب ہے یہ کام تو مردوں کو کرنے چاہئیں‘‘

’’ یہی تو مجبوری ہے۔ میں شوہر کی ستم ر سیدہ ہوں۔ و ہ کوئی کام نہیں کرتے سوائے شراب پینے اور ڈانٹ پلانے کے۔ اچھا بھلا کاروبار تھا مگر غلط صحبت نے سب کچھ برباد کردیا‘‘

’’مجھے آپ کی بپتا سن کر از حد افسوس ہوا ہے۔ میں آپکی حتی الامکان مدد کرنے کی کوشش کروں گا‘‘ دیو لال روایتی لفظوں کے پھا ہے کامنی کے دل کے زخموں پر رکھنے لگا۔ کامنی کے یاقوتی ہونٹوں پر یاس بھری مسکراہٹ ابھری اور مٹ گئی اور نہ جانے کیوں پھر اسکی بڑ ی بڑ ی مخمور آنکھوں میں اداسی تیر گئی۔ اتنا خوب صورت حسن اورا تنا مجبور ۔۔۔ لُیفٹنٹ دیو لال کو اسکے ان دیکھے شوہر سے نفرت ہونے لگی۔ تعجب ، تا سف اور غصے کے ملے جلے جذبات سے وہ مغلو ب ہو گیا۔ صبح سویرے جب کامنی گھر جانے لگی تو دیو لال نے سپاہی کو آواز دی اور کہا ’’ان کے ساتھ جا ؤ اور چاول کی ایک بڑ ی بوری انکے گھر تک چھوڑ کر آؤ‘‘

وہ جب کھانا کھانے کیلئے بیٹھے تو کمار بابو نے اپنی پتنی کامنی سے کہا ’’وہ سالا تمہاری بے بسی پر رحم کھانے کیلئے فوراً تیار ہوگیا ‘‘ اسنے فوجی کو ایک موٹی سی گالی دی

’’ گالی تو مت دو اس بے چارے نے ہمیں اس قحط کے زمانے میں اتنے چاول دے دیئے کہ ایک مہینے کے لئے کافی ہیں‘‘

’’ اچھا اب و ہ بے چارا ہوگیا۔ تمہیں اس سے ہم دردی کب سے ہوگئی؟ میں کہتا ہوں تمہیں آ نکھوں میں دھول جھونکنے اور بیوقوف بنانے کے سارے فارمولے از بر ہیں۔ ان چاولوں کا حصول تمہاری کا میاب اداکاری کا نتیجہ ہے۔ تم پری چہرہ نسیم اور ملکہ ترنم نورجہاں سے بھی اچھی اداکاری کرتی ہو ‘‘

’’بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جنکے کرنے سے ثواب ملتا ہے اور پیٹ کا سامان پیدا کرنے کے لئے جھوٹ بولنے کا شمار بھی ایسے ہی گناہوں میں ہوتا ہے‘‘

کامنی اور اس کا شوہر کمار با بو دیر تک ہنسا کئے۔