اتوار, 08 دسمبر 2019
/ کالمز / اخلاق احمد خان / بھیگی بھیگی خاموشی

بھیگی بھیگی خاموشی

کون کہتا ہے امریکن جوڑوں کی شادی نہیں چلتی۔ اگر کسی پرانے امریکی جوڑے سے پوچھو کہ تمہاری طویل شادی کا راز کیا ہے تو جواب ملے گا ’’ہم ہفتے میں دو دن ریسٹورنٹ جاتے ہیں۔ وہاں کھانا کھاتے ہیں۔ موسیقی سے دل بہلاتے ہیں اور ڈانس کرتے ہیں۔ لیکن میں ہر جمعہ کو جاتا ہوں اور وہ ہر اتوار کو‘‘

ازدواجی رشتوں کا استحکام تو اب مشرق میں بھی خال خال ہی نظر آتا ہے۔ میں ایک ایسے پاکستانی نو دولتیے کو جانتا ہوں جو اگرچہ اب ایک بڑے بنگلے کا مالک ہے مگر وہ جھونپڑی اسے رہ رہ کر یاد آتی ہے جس میں اس نے اپنی سہاگ کی پہلی رات گزاری تھی۔ قابل ستائش ہیں وہ لوگ جو مغرب میں آکر بھی مشرقی روایات کو نہیں بھولتے۔ ذیل میں ایک ایسی ہی خوب صورت مشرقی لڑکی کا سچا واقعہ بیان کررہا ہوں جو جوانی میں تنہا امریکہ آتی ہے۔ پاکستان میں اپنے غریب خاندان کو سہارا دینے کے لئے یہاں دربدر کی ملازمتیں کرتی ہے ۔ اپنے ہی لوگوں کی بھوکی نگاہیں اس کا تعاقب کرتی ہیں مگر ہر ہر موڑ پر وہ اپنی عصمت کی اس طرح حفاظت کرتی ہے جس طرح شہد کی مکھی اپنے چھتے کی۔

وہ حسین تھی اور حسین چیزوں کو پسند کرتی تھی مثلاً:

دریا کی مست موجیں اور بادل

گہرا نیلا سمندر اور کئی تہوں والا خوفناک پانی

مسکراتا ہوا پھول اور غمگین اداس خوشبو

ان دیکھا محبوب اور مبہم محبت

مینہ آلود شب کی تاریکی اور ۔۔۔۔۔۔ بھیگی بھیگی خاموشی

جب وہ نیند کی آغوش میں چلی گئی تو میں نے اسکے اوپر ریشمیں سبز چادر ڈال دی۔ اس کی سانسوں کا سبک رفتار مدوجزر چادر میں ہلکی ہلکی لہریں پیدا کرنے لگا۔

جب وہ نیند سے جاگی تو جیسے کسی غم ناک خواب نے اسے رنجیدہ کردیا ہو۔ حسن سوگوار ہوگیا۔ اس کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں پانی میں ڈوبے کنول کی طرح نمناک ہوگئیں، اس کے نازک اور پتلے ہونٹ گلاب کی پتیوں کی طرح تھرتھرانے لگے۔ اس کا چہرہ پکے انار کی طرح سرخ ہوگیا۔ میں اس کے کمرے میں داخل ہوا 

’’جاگ گئیں؟ ۔۔۔۔ نا مکمل نیند، ادھورے خواب سے‘‘ 

میں نے پوچھا۔ وہاں کوئی جواب نہ تھا۔ جیسے ایک ازلی چپ اس کے وجود پر چھاگئی ہو۔ غم کے اتھاہ سمندر میں ڈوبی گہری نیلی آنکھیں دوبارہ نمناک ہوگئیں ۔۔۔۔ گیلی گیلی آنکھیں ۔۔۔۔ بھیگی بھیگی خاموشی۔

دس سال پہلے

اس کی چہک اور مہک صدا بہار تھی۔ جسم کو شو روم کی طرح سجائے رکھتی تھی۔ جوانی کا تناؤ اس کے جسم سے باہر نکلے جارہا تھا۔

اور پھر وہ امریکہ آگئی۔ کہنے کو وہ تنہا تھی مگر ایک ایک قدم اس نے سنبھال سنبھال کر اٹھایا۔ اس نے ریسٹورنٹ میں جاب کی، اسٹوروں میں کام کیا۔ غریب ماں باپ بہن بھائیوں کو پاکستان میں ڈالر بھیجے۔ اس رقم سے اسکے چھوٹے بھائی نے میڈیکل میں داخلہ لیا، باپ نے ٹوٹے ہوئے مکان کی مرمت کرائی۔

اسے شہزاد سے محبت ہوگئی ۔۔۔ شہزاد جو اس کے ساتھ ہی اسٹور میں کام کرتا تھا۔ دونوں میں عہد وپیمان ہوئے اور جب شادی کی بات ہوئی تو شہزاد نے انکار کردیا۔

’’تم جیسی لڑکیاں جو امریکہ میں اکیلی رہتی ہیں جن کا گھر نہ بار ، ماں نہ باپ بھلا کیسے قابل اعتبار ہوسکتی ہیں‘‘

’’تم یقین کیوں نہیں کرتے؟ میں پاک صاف اور شفاف ہوں، آب شار کے بہتے پانی کی طرح، چاند کی چمکتی کرنوں کی طرح۔ دیکھو میرے اظہار کی جسارت پر حیران ہوکر ان لمحوں کی توہین نہ کرو جن کی خوشبو پہلی بار میں نے تمہاری قربت میں محسوس کی ہے‘‘

’’تم یقیناً خوب صورت ہو حسین ہو مگر میں تم سے شادی نہیں کرسکتا۔ میں دانا تھا اسلئے تم سے عشق کیا، احمق ہوتا تو شادی کر بیٹھتا‘‘

’’اونہہ! جھوٹا عشق لیکن شاید میں اپنے دل سے مجبور تھی، مجبور ہوں، تمہارے دھوکے میں آگئی‘‘

’’جان من! حسین عورت ہر مرد کی مشترکہ امانت ہونی چاہئیے جس طرح چاند کی چاندنی کسی ایک شخص کی ملکیت نہیں اسی طرح خوب صورت عورت کا حسن بھی ہر مرد کے لئے روشنی ہے، تسکین ہے، راحت ہے‘‘

’’یہ تم کہہ رہے ہو؟ مرد عورت کا دل نہیں دیکھتا اس کا جسم تلاش کرتا ہے۔ سب مرد مطلبی اور دغا باز ہوتے ہیں۔ وہ عورت سے صرف ایک ہی چیز کی طلب رکھتے ہیں۔ اچھا ہوا میں تمہارے قریب نہ آئی۔ محبت اندھی ہوتی ہے سماج اندھا نہیں ہوتا‘‘

’’ہم اب بھی بحیثیت دوست ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں۔ خوش گوار لمحات گزار سکتے ہیں۔ یہ امریکہ ہے۔ یاد کرو وہ دن جب تم مجھ سے لپٹ گئیں تھیں۔ میری دونوں بانہیں خوشی، لذت اور سرور سے بھر گئیں تھیں۔ میرا جسم سر سے پاؤں تک تمہیں چھو رہا تھا‘‘

’’شکر ہے میں اس سے آگے نہیں بڑھی۔ دیکھو میں بھی ایک عورت ہوں، میرے سینے میں بھی ایک دل دھڑکتا ہے‘‘

’’پہلی بات تو خیر نظر آرہی ہے مگر دوسری بات ۔۔۔‘‘

’’شہزاد! میری محبت کا مذاق نہ اڑاؤ ورنہ میں وہ کچھ کر گزروں گی جو تمہارے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا‘‘

’’مجھے مجبور نہ کرو کہ میں تم سے نفرت کرنے لگوں‘‘

’’نفرت ۔۔۔ نفرت تو میں تم سے کروں گی۔ تمہیں پتہ چلے گا کہ شدید محبت کس طرح شدید نفرت کو جنم دیتی ہے‘‘

’’کمینی، طوائف، ہرجائی، پیشہ ور، ذلیل، چڑیل‘‘

وہ یہ الفاظ سہہ نہ سکی۔ ساکت و صامت ہوگئی اور جب شکایت سے معمور، جامد و پریشان آنسو اس سکوت میں شامل ہوئے تو بھیگی بھیگی خاموشی چہار سو پھیل گئی۔