Sunday, 15 September 2019
/ کالمز / اخلاق احمد خان / چاندنی کی بارش

چاندنی کی بارش

مشہور امریکی گلوکارہ میڈونا جب دوسری مرتبہ ماں بننے والی تھی، ہم نے اخبار میں لکھا تھا :

’’پہلی مرتبہ وہ ماں تین سال پہلے بنی تھی۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اس مرتبہ میڈونا کے ماں بننے میں مدد فلم ڈاریکٹر جی ریچی نے دی۔ میڈونا اس کام سے دو ماہ تک فارغ ہوجائے گی۔ یعنی بال بچہ دیدے گی اور فارغ البال ہوجائے گی۔ فی الحال اپنا پانچ مہینے کا نوکیلا پیٹ لئے اِدھر اُدھرگھوم رہی ہے۔ ڈاکٹروں نے اسے ناچنے اور گانے سے منع کیا ہے ورنہ کچا بچہ باہر آجائے گا۔ سنا ہے اسکے بار بار ماں بننے سے ہر فلم ساز پریشان ہے اور فلمی صنعت پر مندی کا رجحان ہے۔ کئی ہدایت کاروں نے اسے ہدایت کی ہے کہ دیکھو یہ عمر تمہارے کمانے کھانے کی ہے نہ کہ بچہ جننے کی۔ بچے کا کیا ہے وہ تو کسی عمر میں بھی دیا جاسکتا ہے یا لیا جاسکتا ہے، یعنی گود لیا جاسکتا ہے۔ ایک فلمی ڈاریکٹر کی مسلسل تلقین سے وہ اداس ہوگئی تو ڈاریکٹرنے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا : بی بی غم نہ کھاؤ، برتھ کنٹرول کی گولیاں کھاؤ ‘‘

ہمیں برطانیہ کی پرانی رقاصہ مارگریٹ ریمی یاد آرہی ہے جس نے اپنے بوائے فرینڈ ڈبلیو جان سے کہہ دیا تھا کہ دیکھو سب کچھ کرلینا مگر بچہ پیدا نہ کرنا۔ اب اسے کون سمجھاتا کہ اے سیکس کی ملکہ بچہ تیرے بوائے فرینڈ نے تھوڑی پیدا کرنا ہے۔ اس فعل ممنوعہ کی قدرتی صلاحیت تو صرف تجھی میں ہے۔ آخر مارگریٹ ریمی نے ریکارڈ قائم کیا مسلسل تین گھنٹے ناچنے کا۔ اسکے بدن کا ذرہ ذرہ متحرک ہوگیا۔ اسکے جسم کا ایک ایک خم تھک کر چور ہوگیا مگر وہ ناچتی رہی، ناچتی رہی اور ناچتی رہی۔ 

ڈبلیو جان نے ریمی کی فلمی لائن سے کنارہ کشی کے بعد ۱۹۸۲ء میں ایک کتاب لکھی تھی Showers of Moonlight جس کا اردو ترجمہ ہوا ’’‘‘ کتاب اپنے نام کی طرح حسین ہے جس میں ڈبلیو جان نے اپنے عشق کی دل گداز یادوں کو یکجا کیا ہے۔ اب سے کوئی تیس سال پہلے میں نے عالمی ڈائجسٹ کے لئے اس کتاب کا قسط وار ترجمہ کیا تھا۔ ڈبلیو جان نے اعتراف کیا ہے کہ اس کی سب سے دیر پا محبت مارگریٹ ریمی تھی۔ ہمیں حیرت ہے کہ جس محبت کو وہ دیر پا کہہ رہا ہے وہ صرف چار سال کے عرصے پر محیط ہے۔ اس سے یورپ کی محبت کی نا اہلی اور خستہ حالی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ’’‘‘ پڑھنے کے بعد یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس کا مصنف ایک بزنس مین ہے بلکہ یہ ایک مشاق قلم کار کی کاوش محسوس ہوتی ہے۔ ایک جگہ ڈبلیو جان لکھتا ہے کہ:

ابتدائی تعارف کے بعد ہی میں اور ریمی پہاڑی ندیوں کی سی تیزی کے ساتھ ایک دوسرے کے قریب آتے گئے۔ میرے دل کے گوشے میں امید جاگی کہ ممکن ہے میری محبت کے یہ نئے راستے میرے لئے پر سکون منزلوں کے قافلے مہیا کردیں اور میرے حالات کی تمام تلخیاں مٹ جائیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ریمی مجھے پسند تھی۔ اس کا حسن صبیح، کنول کی طرح کھِلا چہرہ، آنکھوں کی خطرناک معصومیت، جسم کے نازک خم، ہونٹوں کا وہ اجلا اجلا تبسم، سینے کا جذبات آفریں تموج۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن ریمی کی متانت مجھے پسند نہ تھی۔ میں چاہتا تھا یہ لڑکی سنجیدہ نہ رہے۔ اس کی معصوم آنکھوں میں شوخی جھلکنے لگے۔ اس اجلے تبسم میں شرارت کی بجلی تڑپ جائے۔ 

۱۹۷۴ء میں مانچسٹر کا یہ بزنس مین اپنی ڈانسر محبوبہ کے ساتھ امریکہ آیا۔ کیلی فورنیا کی سیر کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے :

ہواؤں میں جنگلی پھولوں کی مہک بسی ہوئی تھی۔ مئی کا معتدل مہینہ تھا۔ ہمارے ہوٹل کی کھڑکی سے لطیف خنک ہوا جھانک رہی تھی۔ پلیٹ میں میکسیکو کے سرخ سیب تھے اور ہیٹی کے صحت مند آم۔ مارگریٹ ریمی کی سنہری بانہیں تھیں اور پھول کی کلیوں کی طرح نازک انگلیاں۔ وہ پیانو پر نغمہ بہار بجانے لگی۔ اسکی آنکھوں سے آنسو گررہے تھے۔ حسین آنکھیں آنسو بہانے کے بعد کتنی دل کش ہوجاتی ہیں۔ میری آنکھوں میں غنودگی تھی اور دماغ میں جیسے شہد کی مکھیاں بھن بھنا رہی ہوں‘‘

مارگریٹ ریمی نے ڈبلیو جان کو چھوڑ دیا تھا اور ایک اطالوی فلمی ڈاریکٹر سے راہ و رسم پیدا کرلی تھی۔ ڈبلیو جان نے لکھا ہے کہ یہ زمانہ اس پر بڑا شاق گزرا۔ ان دنوں وہ کاروبار کے لئے یوکرائن گیا ہوا تھا۔ وہاں سے اپنی محبوبہ کو خط لکھتا ہے:

مجھے قدرے شک ہے لیکن شک کرتے ہوئے بھی مشکوک ہوں۔ شک یہ کہ شاید تم اب کسی اور جانب مائل ہوگئی ہو۔ تم جیسی اداکاراؤں کے آس پاس تو ہمہ وقت فلم سازوں کا جتھا منڈلاتا رہتا ہے۔ ڈیر ریمی ! مجھے اپنی حماقت کی بنا پر امید تھی کہ تم میرے پیچھے پیچھے کیف (یوکرائن کا صدر مقام) چلی آؤ گی مگر عشق بجائے خود ایک حماقت ہے۔ ان دنوں یہاں کی فضا نہایت خوشگوار ہے۔ معلوم ہوتا ہے جیسے بہار مادر زاد ننگی ہوگئی ہو۔ جس مکان میں میں ٹھہرا ہوا ہوں وہاں کیاریوں اور گملوں میں پھول اگ آئے ہیں مگر میرے دل کے کنول نہیں کھلے۔ غم سے فرار پانے کی کوشش میں ابھی پتلون کی جیب سے ایک سگریٹ نکال کر سلگائی ہے۔ تمہاری یاد بھی آرہی ہے اور تم پر غصہ بھی آرہا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ اس جذبے کو کیا نام دوں؟ شاید میرے لہجے میں گھلی یاسیت کو تم اس خط میں محسوس کرسکو۔ شاید میرے لئے پیار کی رعنائیاں تمام ہوئیں اور جوانی کی سلگتی ہوئی تنہائیاں شروع ہوگئیں۔ یوں سمجھو ضبط کئے بیٹھا ہوں ورنہ درد کی شدت سے چلانے کو جی چاہتا ہے۔ یہاں سب اجنبی ہیں اور کوئی شخص میری بے بسی پر رحم کھانے کا روادار نہیں۔ عورتوں کے مسرت بھرے قہقہے اور بے فکر بچوں کی معصوم شوخیاں بھی مجھے اپنی طرف مائل نہیں کرسکیں۔ پس محبوب کی طرح اس کا وعدہ بھی بے وفا ہوتا ہے۔ جی چاہتا ہے تم میرے پاس آجاؤ اور میں تمہیں نفرت سے بے اختیار گلے لگالوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فقط تمہارا ایک قصہ پارینہ

حساس دل ڈبلیو جان نے ’’‘‘ میں فلسفہ محبت پر یوں رائے زنی کی ہے:

اگر تم کسی سے محبت کرنا چاہتے ہو تو اسکی کوئی خاص وجہ بیان نہ کرو، صرف جذبہ محبت کیلئے محبت کرو۔ یہ نہ کہو کہ مجھے اس کی مسکراہٹ، نگاہوں یا خوبصورت آواز کے کارن محبت ہوگئی یا یہ کہ ہم دونوں کے خیالات ایک دوسرے سے ملتے تھے کیونکہ یہ چیزیں بذات خود تغیر کا شکار ہو سکتی ہیںیا یہ کہ تمہاری نگاہ میں انکی نوعیت بدل سکتی ہے۔