1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. اسماء طارق/
  4. آس

آس

زندگی کیا ہے، یہ ایک زار ہے اور میں اس زار پر سے بلکل بھی پردہ فاش نہیں کرنے لگی یہ کام تو صدیوں سے لوگ کر رہے ہیں مگر سمجھ انہیں بھی کچھ نہیں آیا۔ میں تو یہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ اس چکر میں نہ ہی پڑیں اور جب زندگی اپنے چکر میں گھمانے لگ جائے تو زیادہ سوچنے اور خود کو کوسنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اٹھیئے اور نکلیئے بند کمروں سے، کھلی فضا میں جائیے اور کچھ دیر چہل قدمی کیجئیے۔ رب کی تخلیق دیکھیں، نیلا آسمان دیکھیں، اڑتے پنچھی دیکھیں اور اس کا شکر ادا کیجئے ہر اس نعمت پر جو اس نے عطا کی۔۔۔۔۔

مکمل نہ سہی مگر کچھ دیر کے لئے ضرور افاقہ ہوگا۔ اور اگر یہ عادت بن جائے تو آہستہ آہستہ سب بہترین ہو جائے گا اور زندگی بھی اپنے مدار میں آ جائے گی۔۔۔ اپنی کتاب آس ہاتھ میں لیے بیٹھے میں یہ سوچ رہی تھی کہ ایک وقت تھا جب مجھے پڑھنے کا کس قدر شوق تھا، اس کی وجہ یہ بھی تھی شاید کہ بولنا نہیں آتا تھا۔۔۔ خیر اسی طرح پڑھتے پڑھتے سوچنا شروع کیا کہ فلاں چیز ایسے ہے تو فلاں ایسے کیوں ۔۔۔ ایک دو لائن لکھنا شروع کر دی مگر اصل کہانی تو اس دن بنی جب اماں سے اچھی خاصی ڈانٹ پڑی، ابا نے بھی اماں کی ہاں میں ہاں ملا دی بس اس دن مجھے لگا کہ مجھ سے زیادہ دنیا میں مظلوم کوئی نہیں ۔۔۔ دکھ کی انتہا تھی۔۔ اب کچھ کہہ تو سکتی نہیں تھی بس پھر کاغذ پکڑا اور جو جی میں آیا لکھنا شروع کر دیا۔۔ بعد میں وہ پڑھنے والا تو نہیں تھا مگر اس کا ایک فائدہ ہوا تھا کہ میرا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور جب میں نے دوبارہ اسی صفحے کو دیکھا تو مجھے اندازہ ہوا کہ میں کہاں غلط ہوں ۔۔ بس پھر لکھنا میرا catharsis (کتھارسس) بن گیا، باقاعدگی سے ڈائری لکھنے شروع کردی۔۔ کبھی کوئی شاعرانہ لائن بھی لکھ لیتے۔۔۔۔ مگر اب ڈائری میرے سکھ دکھ کی ساتھی تھی۔۔۔ میرے پاس کئی ڈائریاں جمع ہو چکی تھیں ۔۔

کبھی میں مذاق میں کہا کرتی تھی کہ جب میں مر جاؤں گی تو ان کو میرے ساتھ دفنا دیجئے گا۔۔۔۔ کبھی خواہش ہوتی کہ کاش کوئی مجھے بھی پڑھے جیسے میں پڑھتی ہوں اور کہے یہ تو اس نے میری سوچ کو میرے احساسات کو لکھا ہے۔۔۔ شاید اوپر والے نے سن لی تھی اور آس کی تکمیل ہوئی۔۔۔ وہ ایک لمحے کا فیصلہ تھا کہ میں نے اپنی پہلی کمائی سے اپنی کتاب پبلش کروانی ہے ۔۔ اسی جلدی کی وجہ سے کچھ خامیاں رہ گئیں مگر شاید وہاں ڈر تھا کہ کہیں سچ میں یہ سب تحریریں قبر کا حصہ نہ بن جائیں ۔۔۔ خیر آس کی بات کرتے ہیں تو اگر کہا جائے کہ آس صرف ایک لفظ یا محض ایک عنوان نہیں ہے، بلکہ یہ ڈرے ہوئے سہمے ہوئے انسان کی تلاش ہے ۔۔۔ خود کی تلاش ہے ۔۔ اس تلاش میں اسے بہت سے مراحل سے گزرنا پڑا۔۔۔ اسکا تذکرہ ہے۔۔۔ جسے یوں بیان کیا گیا ہے کہ جیسے آپ کی کہانی ہو۔۔۔ جسے آپ تک پہنچانا تھا تاکہ آپ ان الفاظ سے خود کو جڑتا ہوا محسوس کریں ۔۔۔ کہتے ہیں الفاظ خیالات کی زبان ہوتے ہیں، امید ہے کہ آپ کو آس میں اپنے خیالات کی عکاسی نظر آئے گی۔

کل شب تیری یاد نے

کچھ ایسے دی دستک

میرے ذہن کے بند دریچوں پہ

کہ وقت کو بھی پر لگ گئے

اور میں اڑنے لگا،

تیری یادوں کے سنگ

جشن کا سا سماں تھا

خوشنما بہاریں تھیں

دلفریب نظارے تھے

اور تیری یاد کے سہارے تھے

اسماء طارق

Asma Tariq

اسماء طارق کا تعلق شہیدوں کی سرزمین گجرات سے ہے۔ کیمیا کی بند لیب میں خود کو جابر بن حیان کے خاندان سے ثابت کے ساتھ ساتھ کھلے آسمان کے نیچے لفظوں سے کھیلنے کا شوق ہے۔ شوشل اور ڈولپمنٹ اشوز پر  کئی ویب سائٹ اور نیوز پیپر کے لیے  لکھتی   ہیں اور مزید بہتری کےلئے کوشاں    ہیں۔