1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. اسماء طارق/
  4. سب گول مال ہے

سب گول مال ہے

کسی بھی ملک کی تباہی میں کرپشن سرفہرست ہوتی ہے، کرپشن اور معاشی بدحالی ایک دوسرے سے منسلک ہیں جس سے غربت پروان چڑھتی ہے اور معاشرہ تباہ وبرباد ہو جاتا ہے اور اگر آپ معاشرے کو خوشحال بنانا چاہتے ہو تو کرپشن کا خاتمہ لازمی شرط ہے۔ کرپشن دیمک کا کردار ادا کرتی ہے جو سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور اس وجہ سے ملک میں امن و امان کو نقصان پہنچتا ہے اور محتلف فسادات ہوتے جو ملک کی ترقی کے لئے زہر قاتل ہیں۔ کرپشن ہمارے خوابوں کا نہ صرف گلہ گھونٹ رہی ہے بلکے ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں ترقی کی راہ میں بہت سے چیلنجز کا سامنا رہتا ہے، وہاں کرپشن ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جہاں کرپشن میں سب اوپر سے لےکر نیچے تک انوالو ہیں، حکمرانوں سے لے کر عام آدمی تک سب کسی نہ کسی طرح کرپشن میں ملوث ہیں، چاہے یہ کرپشن کروڑوں کی ہو یا روپے کی ہو۔ مگر ہمارا ادارتی نظام اس کرپشن پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے۔ کرپشن کسی صورت حکمرانوں تک محدود نہیں رہ سکتی، اگر حکمران کرپٹ ہوں گے تو اس کے جراثیم عام آدمی تک منتقل ضرور ہو گے۔ جب ایوانوں میں نااہل کرپٹ طبقہ ہو جنہیں اپنے مفاد سے زیادہ کسی چیز کی پروا نہ ہو وہاں ایوانوں کے باہر چور ڈاکو اور لٹیرے ہی راج کریں گے اور وہاں انصاف اپنی مرضی سے خریدا ہی جائے گا مگر عام آدمی کو یہ انصاف نہیں ملتا۔ تیسری مرتبہ بننے والے وزیراعظم نااہل ہو گئے، اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نکالے گئے وزیر خارجہ گئے، اب وزیر اعلٰی پنجاب پر بھی گرفت ڈالی گئی ہے اور نجانے کتنے، جس کھاتے کو کھولو وہاں ہی لوٹ مار مچی ہوئی ہے ہاوسنگ سکیم ہو یا کوئی اور سکیم، سب میں کرپشن، اتنا پیسہ لگتا نہیں جتنے کی لاگت آتی ہے اب یہاں عوام کا کیا بنے، جب افسران اور حکمران کو صرف اپنی جیب کی فکر ہو، آخر یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ اس کا بہت سادہ سا جواب ہے کہ ہمارا پورا نظام ہی کرپشن سے دوچار ہے یہ نظام پاکستانی معاشرے میں کرپشن کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود غذا کی کمی کا شکار ہے، ہمارے پاس پانچ بڑے دریا بھی موجود ہیں مگر، ہم آبی کمی کا شکار ہیں، آبی وسائل اور دیگر توانائی کے وسائل کے باوجود ہمارے ہاں توانائی کی بھی کمی ہے، پاکستان کی پیداوار کی شرح نمو بہت کم ہوتی چلی جارہی ہے۔ غربت میں بہت اضافہ ہوگیا ہے، قومی ادارے ذاتی مفادات کے لیے استعمال ہوتے ہیں عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں، پاکستان کے عوام کو اس دولت اور آمدنی سے محروم رکھا جاتا ہے جو ان کا حق ہے جس کی وجہ سے عوام میں احساس محرومی، شورش اور بدامنی رونما ہوتی ہے۔ عام آدمی کے لئے زندگی گزارنا مشکل ہو گیا جہاں اسے چودہ چودہ گھنٹے کام کرنے کے باوجود مناسب منافع نہیں ملتا، مناسب سہولتیں نہیں ملتی مگر ٹیکس اور منگائی کی بھرمار ہے جس نے جینا دشوار کر رکھاہے۔ اور اس کے ساتھ ملک میں ایسی تنظیمیں قائم جن کا کام ہی معاشرتی فسادات اور دہشت کو پھلانا ہے جو مذہب کا نام لے کر اپنا کالے کرتوت پیش کر رہیں ہیں اور بیرونی طاقتیں بھی ان سے فائدہ اٹھا رہی ہیں، یہ سب معاشرتی توازن میں بگاڑ کے نتیجے ہیں ایسے میں بہتری لانے کے لئے بڑی تگ و دو چاہئے۔ ایک طرف تو خوش آئند بات ہے کہ چیف جسٹس پانی کے مسئلے سے لے کر دوسرے تمام مسائل پر نظر ثانی کر رہے ہیں اور کرپشن کے خاتمے کیلئے بھی وہ حکومت کے ساتھ پرعظم ہیں اور کوشش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں کہیں لوگ منظر عام پر آ رہے ہیں اور حکومت نے بھی کرپشن کا خاتمہ اپنی پہلی ترجیح رکھا ہے اور دوسری طرف یہ بات افسوسناک بھی ہے کہ ہمارے ادارے اس قدر کمزور ہوچکے ہیں کہ وہ ان مسائل کو ہی حل نہیں کر سکتے جن کے لیے انہیں تشکیل دیا گیا اور اس لیے چیف جسٹس کو ڈنڈے کے زور پر وہ کام کرانے پڑ رہے جو اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اور نیب بھی آجکل کافی ایکٹیو دکھائی دے رہی ہے اور بہت سے کیسز سامنے آ رہے ہیں مگر ضروری تو یہ کام صاف شفاف طریقے سے ہو اور سب کےلیے ہو تاکہ تمام کالی بھیڑیں سامنے آئے اور ان کا خاتمہ ہو سکے۔ ضروری ہے کہ حکومت اور ادارے میڈیا کے ساتھ مل کر اس زمر اپنے کردار کو سمجھتے ہوئے مناسب اقدامات اٹھائیں جس سے کرپشن کے سدباب کو مدد ملے اور شخصی کردار بہتر ہوں۔ افراد کو بھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کر نا ہے اسکے خاتمے کیلئے جہاں حکومتی اور ادارتی سطح پر بہتری لانی ہے وہیں عام آدمی کو بھی اس لعنت سے خود کو بچاناہے۔

کیونکہ ہم بھی بڑے عجیب لوگ ہیں چاہتے ہیں کہ ہمارے حکمران دیانت دار ہوں مگر خود ہیر پھیر کرنے سے باز نہیں آتے، چاہتے کہ ہمارے حکمران کرپشن سے پاک ہوں اور خود ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو اور خود اپنا کام پورا نہیں کرتے ہیں۔ سٹم کے ساتھ ساتھ بحیثیت قوم ہمیں اپنے رویوں کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے معاملات صحیح کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام کسی حکومت نے نہیں کرنا، ہم نے کرنا ہے۔ اگر ہمیں کرپشن کا صفایا کرنا ہے تو انٹی کرپشن کی گھٹی ہم سب کو پینی ہوگی، ہمیں اپنے معاملات کو صاف شفاف کرنا ہوگا جب تک ہر فرد اپنے حصے کا کردار ادا نہیں کرے گا بہتری ممکن نہیں۔ بات اتنی سی ہے کہ ہم سب ملک سے تو ہر طرح کی کرپشن اور ہیرا پھیری کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں مگر ہم خود چاہے دودھ سبزی یا سودا سلف بیچنے والے ہوں یا مشینری کا کاروبار کرنے والے یا وکیل ڈاکٹر ہوں ہم ہیرا پھیری سے باز نہیں آتے، ہم کو جہاں موقع ملتا ہے ہم اس سے فائدہ ضرور اٹهاتے ہیں، جب تک ہم اپنی اس عادت کو نہیں بدلتے، کرپشن کا خاتمہ نہیں ہو سکتا ہے۔

اس لیے ضروری ہے اس سلسلے میں تربیت ہو تاکہ شخصی کردار بہتر ہو ں اور یہ تربیت گھر سے بہتر کہیں نہیں ہوسکتی۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

اسماء طارق

Asma Tariq

اسماء طارق کا تعلق شہیدوں کی سرزمین گجرات سے ہے۔ کیمیا کی بند لیب میں خود کو جابر بن حیان کے خاندان سے ثابت کے ساتھ ساتھ کھلے آسمان کے نیچے لفظوں سے کھیلنے کا شوق ہے۔ شوشل اور ڈولپمنٹ اشوز پر  کئی ویب سائٹ اور نیوز پیپر کے لیے  لکھتی   ہیں اور مزید بہتری کےلئے کوشاں    ہیں۔