1. ہوم
  2. نظم
  3. ڈاکٹر ارشد رضوی
  4. شام کی بارش میں کہیں ڈھونڈتا ہو
Dr. Arshad Rizvi

شام کی بارش میں کہیں ڈھونڈتا ہو

کیا خبر شام کی بارش میں کہیں ڈھونڈتا ہو

جسم کے بھیگتے جاتے درو دیوار کے ساتھ

بال کھولے ہوئے

جسم کی مہکار کے ساتھ

اپنے بے رحم سے ملبوس میں قید

برہنہ ہونٹوں کی چہکار کے ساتھ

کیا خبر دیکھتا ہو

ایک چہرے کے لیئے سارے چہرے

سرمئی انکھوں میں کاجل پہنے

دید کی أگ لیئے

خواہشوں سے بھرے انگار کے ساتھ

کیا خبر، کب میں اسے أٶں نظر

کسی برگد کے تلے

کسی کھنڈر میں چھپی

ویران سی خاموشی میں

یا کسی خواب کے دوراہے پر

اپنے چہرے پہ اگے درد کے زنگار کے ساتھ

کیا خبر شام بھی دھوکہ دیکر رات بن جائے

اور وہ ڈھونڈتا رہ جائے مجھے

راستہ دور تلک تنہا ہو

کسی امید کی بیگار کے ساتھ

کیا خبر تھک کے کہیں

اسی درگاہ پہ جا بیٹھا ہو

بے پناہ درد سے بوجھل

کسی دیوار کے ساتھ

کیا خبر

کس کو خبر

تیز بارش میں بھلا کون ملا کرتا ہے

بس اداسی سی نظر أتی ہے أزار کے ساتھ